باغی لیڈر گگن بھگت کو سچ بولنا مہنگا پڑا، پارٹی سے بے دخل

سری نگر:سچ کی طاقت تو ہے اور سچ میں کامیابی بھی مضمر ہے، لیکن سچ بولنے پر ظاہرا بڑا نقصان ہوتا ہے۔ اسی سچ کی وجہ سے بی جے پی کی جموں وکشمیر یونٹ نے آر ایس پورہ حلقہ انتخاب سے سابق ممبر اسمبلی گگن بھگت کو پارٹی سے بے دخل کردیا ہے۔گگن بھگت باغی ہوگئے تھے اور گزشتہ کچھ ماہ سےمسلسل پارٹی کی پالیسیوں کے خلاف بیانات دے رہے تھے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ گگن بھگت کو اس دن پارٹی سے بے دخل کیا گیا جب سپریم کورٹ نے ریاستی اسمبلی کو اچانک تحلیل کرنے کے فیصلے کو چیلنج کرنے والی عوامی مفاد کی عرضی خارج کردی۔ یہ عوامی مفاد کی عرضی گگن بھگت نے ہی سپریم کورٹ میں دائر کی تھی۔ پارٹی کے ترجمان اعلیٰ سنیل سیٹھی نے پیر کو جاری ایک بیان میں کہا کہ گگن بھگت کی پارٹی مخالف اور جموں مخالف سرگرمیوں کے پیش نظر ریاستی صدر رویندر رینا نے انہیں پارٹی سے فوراً بے دخل کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گگن بھگت کو پارٹی سے بے دخل کرنے کا فیصلہ پارٹی کی انضباطی کمیٹی کی رپورٹ کو سامنے رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔ گگن بھگت نے اسمبلی کو تحلیل کئے جانے کے خلاف سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ گورنر ستیہ پال ملک کے پاس اسمبلی کو تحلیل کرنے کا کوئی جواز نہیں تھا، انہوں نے ایسا بی جے پی لیڈروں کی ایما پر کیا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest