مچھلیوں کی جلد پر موجود چکنائی

اوریگون: ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں پہلے سے موجود اینٹی بایوٹک دوائیں تیزی سے ناکام ہوتی جارہی ہیں کیونکہ ان کے مقابلے میں جراثیم (بیکٹیریا) خود کو تیزی سے تبدیل کررہے ہیں۔ اب حال یہ ہے کہ ہمارے پاس موجود طاقتور ترین اینٹی بایوٹکس ادویہ کی تاثیر تیزی سے ختم ہورہی ہے اور ماہرین نئی دواؤں کےلیے سرتوڑ کوششیں کررہے ہیں۔
اس ضمن میں کبھی مٹی، کبھی سانپوں، کبھی تمباکو کے پودوں اور کبھی گھونگھوں پر تحقیق کی جارہی ہے لیکن اب خیال ہے کہ بعض مچھلیوں میں موجود جلد کو پھسلن دینے والے مرکبات نئی اینٹی بایوٹکس کا خزانہ ثابت ہوسکتے ہیں اور شاید وہ دواؤں سے مزاحم مشہور بیکیٹریا کو بھی ختم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔اوریگون اسٹیٹ یونیورسٹی کی ماہر مولی آسٹن کہتی ہیں کہ مچھلیوں کی بیرونی چکنائی انہیں پیچیدہ سمندری ماحول میں صحت مند رکھنے میں بہت مددگار ہوتی ہے کیونکہ بار بار مچھلیوں کا سامنا خطرناک جراثیم اور وائرس سے ہوتا رہتا ہے۔سب سے پہلے مچھلیوں کی جلد میں پولی سیکرائیڈز اور ایسے پیپٹائیڈز دریافت ہوئے جن میں ماہرین نے اینٹی بایوٹکس کیفیات دریافت کی تھیں۔ اس کے بعد مولی آسٹن اور ان کے ساتھیوں نے جنوبی کیلی فورنیا کے ساحل سے بعض نوجوان مچھلیاں پکڑیں اور ان کی جلد سے چکنائی جمع کرکے اس کا تجزیہ کیا۔کم عمر اور جوان مچھلیوں کا امنیاتی نظام تشکیل پارہا ہوتا ہے اور ان کی جلد سے چکنائی کی وافر مقدار ملتی ہے۔ اس لیس دار مادے سے 47 مختلف اقسام کے جرثومے ملے جو اینٹی بیکٹیریا جنگ میں ہماری مدد کرسکتے ہیں۔پھر ماہرین نے پِنک پرچ نامی ایک مچھلی میں پانچ ایسے مرکبات دیکھے جو میتھی سائلِن ریسسٹنٹ اسٹیفائیلوکوکس آریئس (ایم آر ایس اے) بیکٹیریا کو روکنے یا ختم کرنے میں مؤثر پائے گئے۔ انہی بیکٹیریا نے آنتوں کے استر میں کینسر روکنے میں بھی مدد کی اور ایک طرح کی خوفناک فنجائی، کینڈیڈا البیکنس کے حملے کو بھی روکا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest