جس کا ڈر تھا وہی بات ہوگئی

لگ بھگ ایک مہینے سے زیادہ چلنے والا ہندوستانی الیکشن کا نتیجہ 23مئی کو سامنے آہی گیا۔ لیکن اس سے قبل جب ایکزیٹ پول نے بی جے پی اور اس کی ساتھی پارٹیوں کو 300سے زیادہ سیٹ ملنے کی امید جتائی تھی تو ہم سب کے ہوش اڑ گئے۔ پتہ نہیں کیوں اس وقت ہی محسوس ہونے لگا کہ مودی اب دوبارہ وزیراعظم بن جائیںگے۔ اپوزیشن کے پیروں تلے زمین ہی کھسک گئی۔ ہندوستان سمیت پوری دنیا میں جہاں ہندوستانی بسے ہوئے ہیں ان کو اس بات کو ہضم کرنے می کافی دشواری ہورہی تھی۔ کوئی ایکزٹ پول کو محض ایک پروپگنڈا بتا رہا تھا تو کوئی اسے چوکا دینے والی خبر۔ سوشل میدیا پر ہر کوئی اپنے اپنے طور ایکزٹ پول کا مذاق بنا رہا تھا۔ تاہم بہت سارے لوگ اسے سچ بھی مان رہے تھے۔
لیکن سچ پوچھئے تو اس بار کے ایکزٹ پول نے ہماری نیند کو حرام کر دیا تھا۔ اپوزیشن کے لیڈران تو غائب ہی ہوگئے تھے ۔ ٹیلی ویژن پر بھی ایکزٹ پول کے حوالے سے بحث چھڑی ہوئی تھی۔ برطانیہ میں بسے ہندوستانی بھی سانس روک کر ایکزٹ پول کو سمجھنے سے قاصر تھے۔ تاہم بی جے پی کے حمایتی پوری دنیا میں جشن منانا شروع کر چکے تھے۔ نہ جانے کیوں انہیں ایکزٹ پول پر پورا یقین تھا کہ بی جے پی ایک بار پھر حکومت بنائے گی۔
ہندوستان کے اشوکا ہوٹل میں بی جے پی کے صدر امیت شاہ نے اپنی پارٹی کے ممبران کو ایک عشائیہ بھی دے ڈالا۔ لیکن سمجھ میں یہ بات نہیں آرہی تھی کہ مہینے بھر چلنے والے الیکشن میں وہ کون لوگ تھے جو پچھلے پانچ سال کی پریشانیوں اور حکومت کی ناکام پالیسی کو نظر انداز کرتے ہوئے ایک بار پھر بی جے پی کو ووٹ دیا ہے۔
یہی وجہ تھی کہ ایکزٹ پول میں بی جے پی کی برتری دکھانے کے بعد ہمارے ذہن میں کئی طرح کے سوالات ابھر رہے تھے۔ ابھی ہم اسی بات میں الجھے ہوئے تھے کہ یہ خبر بھی آنے لگی کہ ای وی ایم مشین کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی جارہی ہے۔ کئی لوگوں نے سوشل میڈیا پر الگ الگ ویڈیو بھی پوسٹ کیں۔ گویا نتیجے آنے سے قبل ایکزٹ پول نے ہمارے ہوش اڑا دیے۔
میں لوگوں سے یہ بات کررہاتھا کہ کوئی معجزہ ہونے والا ہے۔ سچ پوچھئے تو ایکزٹ پول کے خوف سے دماغ اس قدر الجھ گیا تھا کہ کوئی رائے دینا عذاب محسوس ہورہا تھا۔ کچھ کرم فرماؤں نے فون کر کے میری رائے جاننا چاہی۔ لیکن پہلی بار میں اس معاملے میں بے بس محسوس کر رہا تھا۔
پچھلے کئی مہینوں سے ہندوستانی الیکشن کے پرچار اور اتار چڑھاؤ سے جہاں لطف اندوز ہورہا تھا وہیں ایکزٹ پول کے اعلان سے ایسا لگا کہ کاٹو تو بدن سے خون نہیں۔لیکن یہ کیفیت صرف میری نہیں تھی بلکہ ہر اس ذی شعور انسان کی حالت ایکزٹ پول سے ایسی ہی تھی۔
رمضان کا مہینہ جس میں نیند سونے سے لے کر ہر چیز میں تبدیلی آجا تی ہے۔ دیر رات سونے سے قبل ذہن 23 مئی کے نتیجے جاننے کے لئے بے چین سا تھا۔ ایک عجیب سی کیفیت نے ہمارے سکون کو پامال کر رکھاتھا۔کبھی ذہن یہ سوچ کر پریشان ہوجاتا کہ اگر مودی دوبارہ وزیراعظم بن گئے تو کیا ہندوستان مزید پانچ سال تک خون کے آنسو روئے گا۔ یا اس الیکشن میں مودی کی ہار ہوگی اور ہندوستان فاسزم سے آزاد ہوگا۔ انہیں تانے بانے میں کب میری آنکھ لگ گئی پتہ ہی نہیں چلا۔ صبح ڈھائی بجے آنکھ کھلی اور سحری کے بعد ہمت ہی نہ ہوئی کہ مابائل کھول لر ہندوستان کے الیکشن کی جانکاری لی جائے۔ کیونکہ ہم ایکزٹ پول سے ہی کافی دلبرداشتہ تھے۔
صبح جب دوبارہ آنکھ کھلی تو موبائل آن کر کے ہندوستان الیکشن کے نتیجے دیکھنے کے لئے این ڈی ٹی وی کے ویب سائٹ پر نظر ڈالی تو جس کا ڈر تھا وہی بات ہوگئی۔ گویا بی جے پی اور اس کی حمایتی پارٹیاں زیادہ تر سیٹ پر برتری حاصل کئے ہوئے تھیں۔نتیجہ دیکھ کر دل بیٹھنے لگا اور ذہن میں عجیب سی ایک مایوسی کی لہر دوڑنے لگی۔ کئی نام ایسے تھے جن کی شکست سے بے حد حیرانی ہورہی تھی۔ جن میں خاص کر کانگریس پارٹی کے صدر راہل گاندھی تھے۔ جنہیں سمیرتی ایرانی نے امیٹھی سے شکست دی تھی۔تاہم راہل گاندھی نے کیرالہ سے اپنا سیٹ جیت لی۔ اس کے علاوہ پٹنہ صاحب سے معروف فلم اداکار اور سابق بی جے پی ایم پی شتروگھن سنہا کو بھی شکست کھانی پڑی۔ اس کے علاوہ اور بھی کئی ایسے لیڈروں کو شکست ہوئی ہے جو کہ ایک چونکا دینے والی بات ہے۔
کانگریس نے کچھ مہینے قبل بی جے پی کی تین ریاستوں کے اسمبلی الیکشن میںعمدہ کارگردگی کا مظاہرہ کیا تھاجس سے اس بات کی امید لگائی جارہی تھی کہ کانگریس پارلیمانی الیکشن میں بی جے پی کو ہرا کر پارلیمنٹ میں اپنی طاقت بڑھالے گی۔ لیکن یہاں بھی کانگریس کو منھ کی کھانی پڑی اور اتنی سیٹیں بھی نہیں لا پائی جتنی کی توقع تھی۔ اس کے علاوہ دلی میں عام آدمی پارٹی کو بہت بڑا دھکا لگا جب کہ بی جے پی نے دوبارہ تمام سیٹوں پر قبضہ کر لیا۔ تاہم ہندوستان کے سب سے بڑے صوبہ اتر پردیش میں سماجوادی اور بی ایس پی کے اتحاد سے بی جے پی کو اتنی سیٹ نہیں مل پائی جس کی پارٹی امید کر رہی تھی۔
مغربی بنگال ایک ایسا صوبہ ہے جہاں ممتا بنرجی کی پارٹی ترنمول کو کافی مظبوط مانا جارہا تھا۔ لیکن بی جے پی نے یہاں سے 18سیٹ جیت کر سب کو حیرانی میں ڈال دیا ہے۔ مغربی بنگال میں ترنمول کے سیٹ کم ہونے کی ایک وجہ کانگریس سے تال میل کا نہ ہونا اور مودی کی انتخابی مہم کا اثرہے۔ ویسے بھی بی جے پی پچھلے کئی برسوں سے مغربی بنگال کی فضا کو بگاڑنے کی کوشش کر رہی تھی اور حکومت ان کی فرقہ وارانہ مہم کو روکنے میں ناکام تھی۔ ان باتوں سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ مغربی بنگال کے اگلے اسمبلی الیکشن میں بی جے پی ایک بڑی پارٹی بن کر ابھر سکتی ہے۔اس کے علاوہ ترنمول پارٹی کے کئی لیڈروں کا بی جے پی میں شامل ہونا بھی ایک اہم وجہ ہے۔ اس الیکشن سے ایک اور بات سامنے آئی کہ مغربی بنگال میں بایاں محاذ کی پارٹیاں ایک بھی سیٹ نہیں جیت پائی جو کہ ایک تشویش ناک بات ہے۔
2019کا ہندوستانی الیکشن ایک یادگار اور اہم الیکشن تھا۔ اس الیکشن سے جہاں حکمراں بی جے پی کو زبردست کامیابی نصیب ہوئی ہے تو وہیں کانگریس پارٹی کو ایک بار پھر زبردست دھچکا پہنچا ہے۔ جس کی ایک اہم وجہ یہ تھی کہ کانگریس پارٹی کئی صوبوں میں ریاستی پارٹیوں کے ساتھ اتحاد بنانے میں ناکام تھی۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مقامی پارٹیوں میں ووٹ بٹ گیا اور بی جے پی اپنے ہندو ایجنڈا کے تحت جیتنے میں کامیاب ہو گئی۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا آنے والے دنوں میں عظیم ہندوستان کسی ایک مذہب کا ملک بن کر رہ جائے گا یا اس کی عظمت اور شان و شوکت کو کوئی دھبہ نہ لگے گا۔ تاہم حالات یہی بتا رہے ہیں کہ آنے والا پانچ سال اقلیتوں کے لئے ایک کافی مشکل ہوں گے۔ ملک کی سالمیت اور امن کو کافی خطرہ لاحق ہوگا۔ معاشی حالت بد تر ہوں گے اور عام آدمی کا جینا دوبھر ہوجائے گا۔
www.fahimakhter.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest