فاروق عبداللہ اور محبوبہ مفتی کی مخالفت کے بعد

جموں و کشمیر میں ہونے والے بلدیاتی اور پنچایت الیکشن ملتوی ہوسکتے ہیں

کشمیر میں دفعہ ۳۵؍اے کو لے کر جاری جنگ کے بیچ جموں کے کشمیر دو بڑی پارٹیوں کے لیڈران مرکزی حکومت کی نیت کو لے کر اپنے غم وغصہ کا اظہار کرتے ہوئے فاروق عبداللہ اور محبوبہ مفتی نے پنچایت الیکشن کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔ ان دنوں نے صاف کردیا ہے کہ جب تک مرکزی حکومت دفعہ ۳۵؍اے کے بارےمیں اپنی نیت صاف نہیں کرے گی تب تک ہم الیکشن کے لیے تیار نہیں ہوں گے۔ اب ایسا لگتا ہے کہ بلدیاتی اور پنچایت الیکشن ملتوی ہوسکتے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق جموں وکشمیرمیں اکتوبراورنومبرمیں ہونے والے بلدیاتی اورپنچایت انتخابات کوملتوی کیا جاسکتا ہے۔ نیشنل کانفرنس اورپی ڈی پی نے ان الیکشن کی مخالفت کی ہے۔ جموں وکشمیر کے سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ اورمحبوبہ مفتی نے ریاست میں ہونے جارہے ان الیکشن کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا ہے۔محبوبہ مفتی نے کہا تھا کہ “پنچایت الیکشن اورسپریم کورٹ میں 35 اے کو لے کرچل رہے کیس کے آپسی تعلقات کو لے کرجس طرح کی باتیں سامنے آرہی ہیں، اس سے لوگوں کے دماغ میں کئی طرح کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں”۔انہوں نے مزید کہا کہ “ہم مرکزی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ایسے ماحول مین الیکشن کرانے کے فیصلے پرایک بارپھرسےغورکرلیا جائے۔ اس حالت میں الیکشن ہوئے تو پی ڈی پی بھی ان میں حصہ نہیں لے گی”۔
اس سے قبل نیشنل کانفرنس کے صدرفاروق عبداللہ نے کہا تھا کہ اگرمرکزی حکومت دفعہ 35 اے پراپنا رخ واضح نہیں کرتی ہے تو ان کی پارٹی الیکشن کا بائیکاٹ کردے گی۔ انہوں نے کہا تھا کہ “ہم اپنے کارکنان کے پاس جا سکتے ہیں اورانہیں ووٹ دینے کے لئے کہہ سکتے ہیں؟ سب سے پہلے ہمارے ساتھ انصاف کریں اورآرٹیکل -35 اے کولے کراپنا رخ واضح کریں۔ اگرایسا نہیں ہوتا ہے، تو پھرہم صرف مقامی بلدیاتی اورپنچایت الیکشن ہی نہیں بلکہ لوک سبھا الیکشن اوراسمبلی الیکشن کا بھی بائیکاٹ کریں گے”۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest