(غزل ۔فارق رضا(شیگائوں

اک زرہ آفتاب کا ہمسفر نہ ہوسکا
تیر ا خیال تیرے برا بر نہ ہوسکا

باہر تو خوب جشن چراغاں رہا مگر
جوگھر کاچاند تھا وہ منور نہ ہوسکا

اپنے غموں سےمل کر گلے خوب ہنس لئے
تنہائیو ں  میں جب  کوئی  یاورنہ   ہوسکا

جو بھی  ملاوہ  را ہ خدا  میں   لٹا دیا
اس واسطے  فقیر  تو  نگر نہ  ہوسکا

اصلاح کرنے نکلا ہےسارےجہان کی
وہ جس گھر کا قصہ کبھی سر نہ ہوسکا

وہ شخص ساری عمر رہا گمر ہی میں گم
جس  کا رہِ  حیات  میں  رہبر  نہ  ہوسکا

بدبو حسد کی اتنی تھی ،کچھ لوگوں میں رضا
پھولوں  سے  بھی  مزاج  معطر  نہ  ہوسکا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest