فریدہ انجم کی شاعری پر تبصرہ

ابراہیم اعظمی ،لکھنو
رابطہ۔9036744140
اردو شاعری میں کی دنیا میں فریدہ انجم کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے۔صوبہ بہار کے ادبی محاظ کی نمائندہ شاعرہ نے اپنی کم عمری میں اردو و ادب کے ذخیرہ میں بیش قیمت اضافہ کیا ہے۔ان کی شاعری کے اوپر قلم اٹھانے سے قبل دل کس قدر اس حطہ کے حقا ئیق سے مخمور ہوا کہ نہ چاہتے ہوئے بھی آج قلم سرپٹ دوڑنے لگی۔
شاعری میں اکثر وبیشتر ایسے شعراء ملتے ہیں جن کے یہاں عشق و محبت ہجرو وصال کی باتیں ہوتی ہیں ۔تمام شاعری اپنے موضوع کے اعتبار سے مکمل ہوتی ہوئی نظر آتی ہے۔ مگر فریدہ انجم کے یہاں ایک منفرد لب ولہجہ نظر آتا ہے۔موضوع کے انتخاب میں بہت زیادہ احساس اور باریک بینی کا مظاہرہ کرتی ہوئی بڑی سبک روی سے مختصرالفاظ میں باتیں کہتی ہوئی آگے گزر جاتی ہیں۔
فریدہ انجم کی شاعری میں ہجرووصل،درد،کسک،آہیں ، گریہ وازاری وغیرہ کی بھرمار ہے۔اس کی ایک زندہ مثال یہ اشعار ہیں ملاحظہ ہو ۔
؎ میرایار مجھ سے جدا ہو رہا ہے
بہاروں سے گلشن خفاہو رہا ہے
تیرے شہر میں کب لٹا آشیانہ
یہی آج پھر تزکرہ ہو رہا ہے
ان اشعار میں فریدہ انجم نے ہجر ووصال کی ایسی مثال پیش کی ہے جس کی مثال ملنی مشکل ہے۔کیوں کہ سب سے مشکل کام ہے آسان زبان میں شاعری کرنا ۔۔۔۔اور یہ ہنر فریدہ انجم کی شاعری میں جابجا نظر آتا ہے۔
اس طرح سے یہ اشعار ملاحظہ فرمائیں ۔
؎وہ شاید مسکرانا چاہتا ہے
مجھے اپنا بنانا چاہتا ہے
اسے کس نام سے میںیاد رکھوں
جو مجھ کو بھول جانا چاہتا ہے
میری زلفوں کے سائے میں وہ آکر
غم دنیا بھلانا چاہتا ہے
یہ غزل کے وہ اشعار ہیں جس سے فریدہ انجم نے اپنی بلند خیالی کا لوہا منوایا ہے الفاظ بہت سادہ ہیں مگر بات دل کی گہرائی تک پہنچادینا بہت بڑا فن ہے ۔جس کو پرھ کر انسان سوچنے پر مجبور ہو جائے۔
ـ’’ شعاع انجم‘‘ فریدہ انجم کی شاعری بہت حد مماتلث ہے کیوں کہ ستاروں کی روشنی پوری دنیا میں منور ہوتی ہے۔اسی طرح سے فریدہ انجم کی شاعری اردو ادب کی دنیا میں وہ روشن ستارہ کی مانند ہے جس سے بعض نوعمر ادبی طالب علم کے لئے راہ راست کے ضامن ہوگی۔
موضوع زبان وبیان ،ایجازواختصار،کثرت وعلامات ،تشبیہات واستعارات کے ذریعہ سے فریدہ انجم نے ایک نیا راستہ نکالا ہے اور پورا مجموعہ پڑھنے کے بعد عقل سوچنے پر مجبور ہے کہ ایک غیر اردو داں اس قدرذاتی مطالعہ میں منہک ہو کر زبان سے محبت کا جس محبت کا اظہار کیا ہے جس کی تعریف کے لئے الفاظ ہاتھ باندھے قطار لگا کر کھڑے ہیں ۔اللہ زورو قلم اور زیادہ ہو۔۔۔

ؤؤؤ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram