فن مرثیہ خوانی پر انجمن محبان اردو علی گڑھ کی معروف سوزخوان عظیم حسین شمس آبادی سے ایک خصوصی گفتگو

علی گڑھ: انجمن محبان اردو علی گڑھ کے اراکین نے علی گڑھ کے مشہور و معروف نوجوان سوز خوان عظیم شمس آبادی سے ایک خصوصی ملاقات کی۔جس میں موصوف سے فن مرثیہ خوانی اور سوز و سلا م کے حوالے سے مخصوص گفتگو کی گئی۔موصوف نے بتایا کہ سوزخواںذاکر اول ہوتاہے یہی مجلس کا آغاز کرتا ہے اوراپنی پرسوز آواز میں واقعات کربلا کو بیان کرتا ہے جس سے مجلس میں غم کی فضا قائم ہوجاتی ہے۔یہ ایک ایسا فن ہے جو غم امام مظلوم کے سبب پروان چڑھا اور ہندوستان کی خاص فضا نے اسے تقویت عطا کی۔اس فن کے سیکھنے کے لئے برسوں کی ریاضت درکار ہے ساتھ ہی آواز کا پرسوز ہونا اور فن موسیقی کا علم بھی لازمی ہے اس کے لئے اردو زبان پر دسترس بھی ضروری ہے کیوں کہ اردو زبان کے اندر ہی بہترین رثائی ادب دیکھنے کو ملتا ہے۔ادبی نقطہ نگاہ سے بھی مرثیہ کی کا فی اہمیت ہے کیوں کہ آپ کی انجمن کا نام انجمن محبان اردو ہے اور آپ اردو ادب کے طالب علم ہیں اس لئے آپ بخوبی جانتے ہوں گے کہ اردو کلاسکی شعر و ادب میں اس کی کیا اہمیت ہے۔ میرضمیر،میرخلیق،مرزادبیر،میرانیس وغیرہ نے اردو مرثیہ نگاری کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔تاریخ کے حوالے سے دیکھا جائے تو مرثیہ خوانی کی ایک قدیم روایت ہے لیکن اسے عروج لکھنو کے تہذیبی ماحول میں ملا۔لکھنو کے نوابین کے دور میں یہ فن اپنے بام عروج پر تھا۔فیض آباد میں نواب شجاع الدولہ کی بیوی بہو بیگم اس فن میں کافی دلچسپی رکھتی تھی اور ان کے یہاں باقاعدہ اس کی محفل منعقد ہوا کرتی تھی۔موصوف نے مزید کہامیرا آبائی وطن شمس آباد ہے میں بچپن سے ہی اس فن کی تعلیم لے رہا ہوںآج مجھے تقریبا سوز خوانی کے فن سے وابستہ ہوئے گیارہ سال ہو چکے ہیں۔اس فن میں میرے استاد جناب منظر حسین شکوہ آبادی ہیں ۔میں بھی اس فن کو مزید آگے بڑھا رہا ہوں۔ایک وقت ایسا تھا جب علی گڑھ کی سر زمین پر صرف بزرگ سوزخواںحضرات ہی ہوا کرتے تھے لیکن آج نوجوان بھی اس فن کو سیکھنے میں دلچسپی لے رہے ہیں جو ایک اچھی بات ہے۔میں بذات خود نوجوانوں کو اس فن سے آشنا کرا رہا ہوں۔موصوف نے فن سوز خوانی کی تاریخ پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا۔یوں تو مرثیہ سوز و سلام کو تحت الفظ کے منفرد انداز میں بھی پیش کیا جاتا ہے جس میں مکالماتی اور ڈرامائی انداز اور آواز کے زیر و بم کے ذریعے سامعین پر مختلف جذباتی کیفیات کو ابھارا جاتاہے لیکن سوز خوانی کے فن میں سامعین کے ذہن و دل پر ایک منفرد تاثر پیدا ہوتا ہے۔سوزخوانی میں اس بات کا بھی خاص خیال رکھنا ہوتا ہے کہ مرثیہ کے لئے کون سا راگ وقت کی مناسبت سے اختیار کرناہے اور سوز و سلام اور مناقب کو کس انداز میں پیش کرنا ہے۔ایک اچھا سوز خواںبخوبی جانتا ہے کہ کس راگ میں مرثیہ پڑھ کر سامعین پر رقت طاری کی جاسکتی ہے۔مرثیہ نگار کا مقصد زیادہ سے زیادہ لوگوں کو رقت کی طرف مائل کرنا ہوتا ہے تاکہ مصائب سید الشہدا اور ان کے رفقاء کے غم میں مثاب ہو سکیں مختصر یہ کہ واقعہ کربلا کے درد ناک پر آشوب اور تشنگی کا درد سامعین کو گریہ پر آمادہ کردے۔میں نوجوان ساتھیو ںسے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اس فن کی بقاء اور تحفظ کے لئے باقاعدہ آگے آئیں اور اس فن کی تعلیم حاصل کریںکیوں کہ یہ فن ہماری ثقافت اور گنگا جمنی تہذیب کا آئینہ دار بھی ہے۔گفتگو کرنے والوں میں سید محمد عادل فراز،عبدالحفیظ خان،ذوالفقار خان پیش پیش رہے۔

ْ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest