ماہر غالبیات آنجہانی کالی داس گپتا رضا کی یاد میں تقریب کا انعقاد

نئی دہلی: رضا کاویہ سنگم ،ممبئی کی جانب سے ممتاز شاعروادیب اور ماہر ِ غالبیات آنجہانی کالی داس گپتا رضاؔ کی یاد میں ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ ہندی بھون میں منعقد اس پروگرام میں ہندی اردو کی کئی سرکردہ شخصیات نے شرکت کی۔ پروگرام کے کنوینر اور کالی داس گپتا رضاؔ کے شاگر د وجے ارون ؔ نے استقبالیہ تقریر میں رضاؔ صاحب کی ادبیمرتبے پر روشنی ڈالی اور رضا کاویہ سنگم کے قیام کے مقاصد بیان کیے۔ اس موقع پر اے رحمان ایڈووکیٹ نے کالی داس گپتا رضاؔ کے تحقیقی کارناموں کی مختلف جہتوں سے روشناس کرایا اور غالب شناسی کے میدان میں ان کے اختصاص کو واضح کیا ۔ اہم شرکا میںریاض پنجابی ،ریحانہ فریدی ، شیام سندروغیرہ کے نام قابلِ ذکر ہیں۔بعد میں ایک شعری نشست کا بھی انعقاد کیا گیا جس کی نظامت معین شاداب نے کی۔معین شاداب نے ابتدائی گفتگو میں کالی داس گپتا رضاؔ کی شخصیت اور فن کے بعض نامعلوم گوشوں کا ابھارا۔ شعری نشست میں جن شعرا نے اپنا کلام سنایاان کے منتخب اشعار قارئین کی نذر ہیں:
رات آئی ہے تو وہ بھی آئے گا
بند اپنے گھر کا دروازہ نہ کر
چندربھان خیالؔ
دل میرا عجب میرے غلاموں میں ہے شامل
کچھ قابو ہے اس پر، نہیں کچھ اس پہ بھی قابو
وجے ارونؔ
جو نم ہو آنکھ تودیکھے گا غیر سا بن کر
جو روئے دل توہنسے گا وہ دوستوں کی طرح
ڈاکٹر ترنم ریاضؔ
وقت کے ٹھکرائے کو گردانتا کوئی نہیں
جانتے سب ہیں مجھے پہچانتا کوئی نہیں
ڈاکٹر فریاد آزرؔ
مغالطے میں نہ رہیے گا کم نگاہی کے
ہمارا چشمہ نظر کا نہیں ہے دھوپ کا ہے
معین شاداب
ہنسنا بھی ضروری ہے رونا بھی ضروری ہے
جگنا بھی ضروری ہے سونا بھی ضروری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *