حالیہ انتخابات کے نتائج سے قبل بی جے پی اور کانگریس دونوں کا اکثریت حاصل کرنے کا دعویٰ

بھوپال؍ حیدرآباد : ابھی ابھی تقریباً پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات مکمل ہوچکے ہیں۔ ان ریاستوں میں ابھی رزلٹ آنا باقی ہے لیکن مختلف ایجنسیوں نے اپنی اپنی سروے رپورٹ بھی پیش کر دی ہے۔ ویسے تو ان ۵؍ ریاستوں میں سے۳؍ میں کانگریس کو خوشخبری سنائی گئی ہے اور دو میں اس کے شکست کا اشارہ دیا گیا ہے۔ یہ تو ہے کہ کسی کو شکست اور کسی کو فتح ملے گی، لیکن قبل از وقت دونوں ہی پارٹیوں کے لیڈران اپنی اپنی جیت کا دعویٰ کررہے ہیں۔ لیکن ذرائع کے مطابق یہی کہا جاسکتا ہے کہ پکچر ابھی باقی ہے دوست۔ایگزٹ پولز کی وجہ سے کانگریسی خیمے میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے لیکن بی جے پی ان رپورٹوں کو ماننے کیلئے تیار نہیں ہے۔ مدھیہ پردیش میں شیوراج سنگھ چوہان نے اپنے گھر پر بی جے پی لیڈروں کی ایک میٹنگ بلائی جس میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’’مجھ سے بڑا سروے کرنے والا کوئی نہیں ہے، میں عوام کے درمیان رہتا ہوں، مجھے معلوم ہے کہ بی جے پی مدھیہ پردیش میں چوتھی بار حکومت بنانے والی ہے۔‘‘ انہوں نے سروے رپورٹ کو پوری طرح مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ (بی جےپی حکومت) غریبوں، کسانوں، خواتین اور بچوں کیلئے بھی بہتر ہے۔‘‘ ادھر کانگریس کے ریاستی صدر کملناتھ کا جو شروع سے کانگریس کی کامیابی کا دعویٰ کر رہے ہیں سروے رپورٹ آنے کے بعد اور بھی پر جوش ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’ ریاست میں کانگریس ۱۴۰؍ حاصل کرے گی اور بی جے پی حکومت کا خاتمہ ہو جائے گا۔‘‘ واضح رہے کہ مختلف سروے میں مدھیہ پردیش کے تعلق سے اشارہ دیا گیا ہے کہ یہاں کانگریس اور بی جے پی کے درمیان کانٹے کی ٹکر ہو گی اور دونوں میں سے کسی بھی پارٹی کی حکومت بن سکتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram