تعلیم کی تجارت ہمہ جہت نقصان کی حامل

فیروز عالم ندوی

گزشتہ زمانوں میں تعلیم کبھی بھی مادی حصول کا ذریعہ نہیں رہی ، انسانی تاریخ کے لمبے عرصے میں یہ کبھی بھی تجارت نہیں بنی۔ ہندو ازم کی تاریخ پانچ چھ ہزار سال پرانی بتائی جاتی ہے، اس کے آغاز میں برہمن کسی نسل کا نام نہیں تھا، اس وقت اس کا مطلب تھا روحانی صلاحیتوں سے لیس ایک متقی انسان ، ایسا پرہیز گار انسان جو آسمانی کتاب کے تشریح و تفسیر کی صلاحیت رکھتا ہو۔ اس دور میں برہمن عام طور پر تارک الدنیا ہوتے تھے، وہ ہمہ وقت مذہب اور اس کے علوم کے فروغ کے لیے کوشاں رہتے اور اس کے لیے کبھی بھی معاوضہ وصول نہیں کرتے تھے۔ معاشرہ ان کی زندگی اور علم پروری کو احسان کی نگاہوں سے دیکھتا تھا اور ان کی چھوٹی چھوٹی ضروریات کو پورا کرنا اپنا مقدس فرض سمجھتا تھا۔

اسلام کے ابتدائی زمانہ سے لیکر ماضی قریب تک تعلیم ایک انتہائی مقدس فریضہ تھا جس کی فراہمی کا معاوضہ نہیں لیا جاتا تھا۔ لیکن فتوحات اور آبادی میں اضافہ کے نتیجہ میں جب مدارس کے قیام کا مرحلہ آیا تو بادشاہوں نے اپنے علم دوستی کا ثبوت دیتے ہوئے اس کے لیے بڑی بڑی جائیدادیں وقف کرنی شروع کر دیں جو اساتذہ، طلبہ اور متعلقین کے لیے گزر اوقات کا ذریعہ ہوا کرتا تھا۔ اس مرحلہ میں بھی اس پر ریاست کی مہر نہیں لگائی گئی اور اسے بالکل آزاد رکھا گیا۔

جدید ریاست کے قیام کے ساتھ ہی تعلیم کا بوجھ ریاست کے کاندھوں پر آگیا۔ شروعاتی دور میں اس بوجھ کو اٹھا نے کی مخلصانہ جد و جہد کی گئی مگر گزشتہ چند دہائیوں سے حکمراں طبقہ اس سے پلہ جھاڑنے کی کوشش میں مصروف ہو گیا۔ فی الحال صورت حال کچھ یوں ہے کہ تعلیمی ادارے تجارتی کمپنیز کی صورت میں کام کر رہی ہیں، طلبہ ان کے لیے client اور اساتذہ service provider کی حیثیت رکھتے ہیں۔

ترقی یافتہ ممالک میں سے اکثر ملکوں میں اب تک تعلیمی ادارے پوری طرح ریاست کے زیر انتظام ہیں، اگر چند ممالک میں پرائیویٹ سکول کی اجازت ہے بھی تو بہت مشروط اور محدود۔ یہ صرف دوسری دنیا خصوصاً برصغیر میں ایسا ہوا کہ لوگوں کو تعلیم کے تجارت کی کھلی چھوٹ دی گئی۔ آج سے پچیس تیس سال پہلے پورے علاقے میں محض ایک اسکول ہوا کرتا تھا، وہ سرکاری تعلیم کا زمانہ تھا، مگر اب تو جس شخص کے پاس کرنے کو کوئی اور کام نہیں، وہ اسکول کھول کر بیٹھ گیا ہے۔

تعلیمی سوداگری commercialization کے چند واضح نقصانات ہیں، چند نکات تو ایسے ہیں جن پر سب کی نگاہیں ہیں ، مگر کچھ باتیں ایسی ہیں جو عام لوگوں کی نگاہوں سے دور ہیں مگر انتہائی حساس اور سنگین نتائج کی حامل ہیں۔

استحصال :
آپ کسی بھی علاقے کی مثال لے لیں، وہاں ایک اوسط سے کم معیار کے انگلش میڈیم اسکول میں بچے کی داخلہ فیس کم از کم پندرہ ہزار اور ماہانہ فیس ڈھائی ہزار ہے، اس کے ساتھ یونیفارم، کتابوں کا مستقل خرچ، ویگن کا کم ازکم ماہانہ خرچ، پھر سالانہ بنیادوں پر مختلف تقاریب کے نام پر لیے جانے والے ہزاروں روپے الگ۔ یہ تو چھوٹے اسکولوں کا حال ہے ، اسی شہر میں ایسے نجی تعلیمی ادارے بھی ہیں جن کی فیسیں ناقابل یقین اور ہوشربا ہیں۔ ان اداروں کی ایڈمیشن فیس لاکھ یا اس سے زائد اور ماہانہ فیس پندرہ ہزار سے اوپر ہے، حتیٰ کہ ایسے اسکول بھی ہیں، جن کی ماہانہ فیسیں تیس ہزار تک بھی ہیں۔ اور پھر ان اسکولوں کی انتظامیہ کی شان بے نیازی کا یہ حال ہے کہ وہاں داخلے کے لیے لازمی شرائط میں سے پہلی شرط والدین کا مالی معیار ہے۔ ان اسکولوں میں یہ تک پوچھا جاتا ہے کہ گھر کیسا اور کہاں ہے؟ گاڑیاں کتنی اور کس ماڈل کی ہیں؟ سال گزشتہ کا انکم ٹیکس چالان، ملازموں کی تعداد، بزنس یا عہدے کی تفصیل وغیرہ، سب پوچھا جاتا ہے۔ پھر ایسا نہیں ہے کہ اتنی مہنگی تعلیم بیچنے کے بعد یہاں کوئی عالمی معیار کی تعلیم دی جاتی ہوگی۔

استحصال کے پہلے شکار تو والدین ہوتے ہیں جنھیں معیار کا جھانسہ دے کر بڑی بڑی رقمیں وصول کی جاتی ہیں۔ وہیں ان سکولوں میں کام کرنے والے اساتذہ استحصال کے شکار ہوتے ہیں، ان کو دی جانے والی تنخواہیں عام مزدروں کی یومیہ مزدوری سے بہت کم ہوتی ہیں۔ تاجران تعلیم ایک طرف standard کے نام پر موٹی آمدنی کرتے ہیں تو دوسری جانب بے روزگاری کا فائدہ اٹھا کر مدرسین کا استحصال کرتے ہیں۔

بچوں کا نفسیاتی نقصان :
تعلیم کی تجارت نے نفسیات کی رعایت سے ماورا بہت ہی کم سنی میں تعلیم شروع کرنے کا رواج ڈالا، نتیجتاً لوگ اب اپنے بچوں کو محض تین سال یا اس سے کم عمر میں ہی سکول پہونچا دیتے ہیں ۔ ماہرین کے مطابق چھوٹی عمر کی وجہ سے بچوں پر پڑنے والا دباؤ بعض اوقات ساری زندگی انہیں پڑھائی کے میدان میں کمزور کئے رکھتا ہے ۔ ایک ایسی عمر جس میں بچہ اپنی حرکات و سکنات کی نوعیت سے بھی ناواقف ہوتا ہے والدین کی شفقت سے دور دوسروں کی ڈانٹ ڈپٹ اور بندشوں کے نتیجہ میں کن نفسیاتی پیچیگیوں کا شکار ہو سکتا ہے کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔

علمی روح کی بے سمتی :
ہر طرح کے اعمال کی ایک روح ہوتی ہے ، اس سے اس کو الگ کر دینے یا غلط جہت میں موڑ دینے کی وجہ سے وہ عمل بے معنی اور غیر نتیجہ خیز ہو جاتا ہے۔ تعلیم کی سوداگری نے تجارت کے تمام ظواہر کو اس کے ساتھ چسپاں کر دیا جس کی وجہ سے یہ مقدس عمل خود اپنی معنویت کھونے کے ساتھ ساتھ بنی نوع انسان کے لیے اپنی افادیت بھی کھوتا چلا جارہا ہے۔
(أ) اساتذہ و طلباء کے درمیان کا پاکیزہ اور بے لوث رشتہ محض تجارتی انداز کا ہو گیا۔ تعلیم کی ترقی میں اس کے مضر اثرات بالکل واضح ہیں۔
(ب) علم کا تعلق مادیت کے ساتھ جڑ گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ شعبہ ہائے علوم نے انسانیت نوازی سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔

غلط معیارات اور نسلوں کی ارزانی :
تاجران تعلیم نے تجارتی مظاہر ( glamour) کو تعلیم کے ساتھ جوڑ دیا۔ وہ ظاہری چمک دمک جو مصنوعات کو فروخت کرنے کے لیے اختیار کی جاتی ہیں انہیں ظاہر داریوں کو تعلیم کے ساتھ بھی منسلک کر دیا جبکہ تعلیم برسوں پر محیط ایک مسلسل عمل ہے جسے حکمت و دانائی سے جاری کیا جاتا ہے۔ یہ انسانیت سازی کا وہ کام ہے جو مصنوعی رکھ رکھاؤ سے دور تدبر کا متقاضی ہے، دکھاوے سے پرے سادگی کا طالب ہے، خیالی معیارات سے دور حقیقت شناسی کا خواہاں ہے۔
(ألف) مکمل طور پر انگلش میڈیم سکولوں پر انحصار ہے۔ مادری زبانوں کے توسط سے تعلیم دینے والے ادارے کھوج کر بھی نہیں ملتے ہیں۔ سرکاری سکولوں کو مستثنیٰ کر کے پرائیویٹ میں ایسے کسی سکول کا چلانا دیوانگی تصور کیا جاتا ہے۔
(ب) ابتدائی درجات میں بھی مفروضہ نصاب کی تکمیل کو بچوں کے سیکھنے پر ترجیح دی جاتی ہے۔ بچہ سیکھے یا نہ سیکھے مگر پنڈتوں کے ذریعہ تعین شدہ نصاب مکمل ہونا چاہیے، بصورت دیگر ادارہ کی ساکھ خراب ہو جائے گی۔
(ج) ابتدائی درجات میں نمبرات کے اعتبار سے بچوں کی صف بندی (grades) فہم سے پرے بات ہے۔ وہ عمر جس میں صرف سیکھنے کی بات ہونی چاہیے وہاں تجارتی ذہنوں نے غیر ضروری طور پر مسابقت کا ماحول بنا دیا۔
(د)غیر ضروری مسابقانہ رویہ کی وجہ سے علم محدود ہو کر رہ گیا۔ کسی مضمون کو سیکھنے سکھانے کے بجائے چند نوٹس، بلو پرنٹ اور گائیڈس دے کر قابلیت کا گلا گھونٹ دیا جاتا ہے۔
(ہ) ان سوداگروں کا مطمح نظر صرف اور صرف ملٹی نیشنل کمپنیوں کے لیے خدام پیدا کرنا ہوتا ہے۔ علوم و فنون کی خدمت اور اس میں درجہ اجتہاد کا حصول نہ ان کا مقصد ہوتا اور نہ ہی ان کے ذریعہ متعارف کرائے گئے طریقہ سے ممکن ہے۔

فیروز عالم ندوی

گزشتہ زمانوں میں تعلیم کبھی بھی مادی حصول کا ذریعہ نہیں رہی ، انسانی تاریخ کے لمبے عرصے میں یہ کبھی بھی تجارت نہیں بنی۔ ہندو ازم کی تاریخ پانچ چھ ہزار سال پرانی بتائی جاتی ہے، اس کے آغاز میں برہمن کسی نسل کا نام نہیں تھا، اس وقت اس کا مطلب تھا روحانی صلاحیتوں سے لیس ایک متقی انسان ، ایسا پرہیز گار انسان جو آسمانی کتاب کے تشریح و تفسیر کی صلاحیت رکھتا ہو۔ اس دور میں برہمن عام طور پر تارک الدنیا ہوتے تھے، وہ ہمہ وقت مذہب اور اس کے علوم کے فروغ کے لیے کوشاں رہتے اور اس کے لیے کبھی بھی معاوضہ وصول نہیں کرتے تھے۔ معاشرہ ان کی زندگی اور علم پروری کو احسان کی نگاہوں سے دیکھتا تھا اور ان کی چھوٹی چھوٹی ضروریات کو پورا کرنا اپنا مقدس فرض سمجھتا تھا۔

اسلام کے ابتدائی زمانہ سے لیکر ماضی قریب تک تعلیم ایک انتہائی مقدس فریضہ تھا جس کی فراہمی کا معاوضہ نہیں لیا جاتا تھا۔ لیکن فتوحات اور آبادی میں اضافہ کے نتیجہ میں جب مدارس کے قیام کا مرحلہ آیا تو بادشاہوں نے اپنے علم دوستی کا ثبوت دیتے ہوئے اس کے لیے بڑی بڑی جائیدادیں وقف کرنی شروع کر دیں جو اساتذہ، طلبہ اور متعلقین کے لیے گزر اوقات کا ذریعہ ہوا کرتا تھا۔ اس مرحلہ میں بھی اس پر ریاست کی مہر نہیں لگائی گئی اور اسے بالکل آزاد رکھا گیا۔

جدید ریاست کے قیام کے ساتھ ہی تعلیم کا بوجھ ریاست کے کاندھوں پر آگیا۔ شروعاتی دور میں اس بوجھ کو اٹھا نے کی مخلصانہ جد و جہد کی گئی مگر گزشتہ چند دہائیوں سے حکمراں طبقہ اس سے پلہ جھاڑنے کی کوشش میں مصروف ہو گیا۔ فی الحال صورت حال کچھ یوں ہے کہ تعلیمی ادارے تجارتی کمپنیز کی صورت میں کام کر رہی ہیں، طلبہ ان کے لیے client اور اساتذہ service provider کی حیثیت رکھتے ہیں۔

ترقی یافتہ ممالک میں سے اکثر ملکوں میں اب تک تعلیمی ادارے پوری طرح ریاست کے زیر انتظام ہیں، اگر چند ممالک میں پرائیویٹ سکول کی اجازت ہے بھی تو بہت مشروط اور محدود۔ یہ صرف دوسری دنیا خصوصاً برصغیر میں ایسا ہوا کہ لوگوں کو تعلیم کے تجارت کی کھلی چھوٹ دی گئی۔ آج سے پچیس تیس سال پہلے پورے علاقے میں محض ایک اسکول ہوا کرتا تھا، وہ سرکاری تعلیم کا زمانہ تھا، مگر اب تو جس شخص کے پاس کرنے کو کوئی اور کام نہیں، وہ اسکول کھول کر بیٹھ گیا ہے۔

تعلیمی سوداگری commercialization کے چند واضح نقصانات ہیں، چند نکات تو ایسے ہیں جن پر سب کی نگاہیں ہیں ، مگر کچھ باتیں ایسی ہیں جو عام لوگوں کی نگاہوں سے دور ہیں مگر انتہائی حساس اور سنگین نتائج کی حامل ہیں۔

استحصال :
آپ کسی بھی علاقے کی مثال لے لیں، وہاں ایک اوسط سے کم معیار کے انگلش میڈیم اسکول میں بچے کی داخلہ فیس کم از کم پندرہ ہزار اور ماہانہ فیس ڈھائی ہزار ہے، اس کے ساتھ یونیفارم، کتابوں کا مستقل خرچ، ویگن کا کم ازکم ماہانہ خرچ، پھر سالانہ بنیادوں پر مختلف تقاریب کے نام پر لیے جانے والے ہزاروں روپے الگ۔ یہ تو چھوٹے اسکولوں کا حال ہے ، اسی شہر میں ایسے نجی تعلیمی ادارے بھی ہیں جن کی فیسیں ناقابل یقین اور ہوشربا ہیں۔ ان اداروں کی ایڈمیشن فیس لاکھ یا اس سے زائد اور ماہانہ فیس پندرہ ہزار سے اوپر ہے، حتیٰ کہ ایسے اسکول بھی ہیں، جن کی ماہانہ فیسیں تیس ہزار تک بھی ہیں۔ اور پھر ان اسکولوں کی انتظامیہ کی شان بے نیازی کا یہ حال ہے کہ وہاں داخلے کے لیے لازمی شرائط میں سے پہلی شرط والدین کا مالی معیار ہے۔ ان اسکولوں میں یہ تک پوچھا جاتا ہے کہ گھر کیسا اور کہاں ہے؟ گاڑیاں کتنی اور کس ماڈل کی ہیں؟ سال گزشتہ کا انکم ٹیکس چالان، ملازموں کی تعداد، بزنس یا عہدے کی تفصیل وغیرہ، سب پوچھا جاتا ہے۔ پھر ایسا نہیں ہے کہ اتنی مہنگی تعلیم بیچنے کے بعد یہاں کوئی عالمی معیار کی تعلیم دی جاتی ہوگی۔

استحصال کے پہلے شکار تو والدین ہوتے ہیں جنھیں معیار کا جھانسہ دے کر بڑی بڑی رقمیں وصول کی جاتی ہیں۔ وہیں ان سکولوں میں کام کرنے والے اساتذہ استحصال کے شکار ہوتے ہیں، ان کو دی جانے والی تنخواہیں عام مزدروں کی یومیہ مزدوری سے بہت کم ہوتی ہیں۔ تاجران تعلیم ایک طرف standard کے نام پر موٹی آمدنی کرتے ہیں تو دوسری جانب بے روزگاری کا فائدہ اٹھا کر مدرسین کا استحصال کرتے ہیں۔

بچوں کا نفسیاتی نقصان :
تعلیم کی تجارت نے نفسیات کی رعایت سے ماورا بہت ہی کم سنی میں تعلیم شروع کرنے کا رواج ڈالا، نتیجتاً لوگ اب اپنے بچوں کو محض تین سال یا اس سے کم عمر میں ہی سکول پہونچا دیتے ہیں ۔ ماہرین کے مطابق چھوٹی عمر کی وجہ سے بچوں پر پڑنے والا دباؤ بعض اوقات ساری زندگی انہیں پڑھائی کے میدان میں کمزور کئے رکھتا ہے ۔ ایک ایسی عمر جس میں بچہ اپنی حرکات و سکنات کی نوعیت سے بھی ناواقف ہوتا ہے والدین کی شفقت سے دور دوسروں کی ڈانٹ ڈپٹ اور بندشوں کے نتیجہ میں کن نفسیاتی پیچیگیوں کا شکار ہو سکتا ہے کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔

علمی روح کی بے سمتی :
ہر طرح کے اعمال کی ایک روح ہوتی ہے ، اس سے اس کو الگ کر دینے یا غلط جہت میں موڑ دینے کی وجہ سے وہ عمل بے معنی اور غیر نتیجہ خیز ہو جاتا ہے۔ تعلیم کی سوداگری نے تجارت کے تمام ظواہر کو اس کے ساتھ چسپاں کر دیا جس کی وجہ سے یہ مقدس عمل خود اپنی معنویت کھونے کے ساتھ ساتھ بنی نوع انسان کے لیے اپنی افادیت بھی کھوتا چلا جارہا ہے۔
(أ) اساتذہ و طلباء کے درمیان کا پاکیزہ اور بے لوث رشتہ محض تجارتی انداز کا ہو گیا۔ تعلیم کی ترقی میں اس کے مضر اثرات بالکل واضح ہیں۔
(ب) علم کا تعلق مادیت کے ساتھ جڑ گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ شعبہ ہائے علوم نے انسانیت نوازی سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔

غلط معیارات اور نسلوں کی ارزانی :
تاجران تعلیم نے تجارتی مظاہر ( glamour) کو تعلیم کے ساتھ جوڑ دیا۔ وہ ظاہری چمک دمک جو مصنوعات کو فروخت کرنے کے لیے اختیار کی جاتی ہیں انہیں ظاہر داریوں کو تعلیم کے ساتھ بھی منسلک کر دیا جبکہ تعلیم برسوں پر محیط ایک مسلسل عمل ہے جسے حکمت و دانائی سے جاری کیا جاتا ہے۔ یہ انسانیت سازی کا وہ کام ہے جو مصنوعی رکھ رکھاؤ سے دور تدبر کا متقاضی ہے، دکھاوے سے پرے سادگی کا طالب ہے، خیالی معیارات سے دور حقیقت شناسی کا خواہاں ہے۔
(ألف) مکمل طور پر انگلش میڈیم سکولوں پر انحصار ہے۔ مادری زبانوں کے توسط سے تعلیم دینے والے ادارے کھوج کر بھی نہیں ملتے ہیں۔ سرکاری سکولوں کو مستثنیٰ کر کے پرائیویٹ میں ایسے کسی سکول کا چلانا دیوانگی تصور کیا جاتا ہے۔
(ب) ابتدائی درجات میں بھی مفروضہ نصاب کی تکمیل کو بچوں کے سیکھنے پر ترجیح دی جاتی ہے۔ بچہ سیکھے یا نہ سیکھے مگر پنڈتوں کے ذریعہ تعین شدہ نصاب مکمل ہونا چاہیے، بصورت دیگر ادارہ کی ساکھ خراب ہو جائے گی۔
(ج) ابتدائی درجات میں نمبرات کے اعتبار سے بچوں کی صف بندی (grades) فہم سے پرے بات ہے۔ وہ عمر جس میں صرف سیکھنے کی بات ہونی چاہیے وہاں تجارتی ذہنوں نے غیر ضروری طور پر مسابقت کا ماحول بنا دیا۔
(د)غیر ضروری مسابقانہ رویہ کی وجہ سے علم محدود ہو کر رہ گیا۔ کسی مضمون کو سیکھنے سکھانے کے بجائے چند نوٹس، بلو پرنٹ اور گائیڈس دے کر قابلیت کا گلا گھونٹ دیا جاتا ہے۔
(ہ) ان سوداگروں کا مطمح نظر صرف اور صرف ملٹی نیشنل کمپنیوں کے لیے خدام پیدا کرنا ہوتا ہے۔ علوم و فنون کی خدمت اور اس میں درجہ اجتہاد کا حصول نہ ان کا مقصد ہوتا اور نہ ہی ان کے ذریعہ متعارف کرائے گئے طریقہ سے ممکن ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest