دنیا بھر میں خواتین کی بچے پیدا کرنے کی اوسط تعداد نصف رہ گئی ہے:رپورٹ

دنیا بھر میں خواتین کی بچے پیدا کرنے کی اوسط تعداد نصف رہ گئی ہے جب کہ ترقی یافتہ ممالک میں یہ شرح خطرناک حد تک کم ہوگئی ہے۔یہ انکشاف محققین نے کیا ہے۔ سائنسی جریدے لینسٹ میں شائع ہونے والے تازہ تحقیقی جائزے میں انکشاف کیا گیا ہے کہ چند افریقی اور ایشیائی غریب ممالک کے علاوہ دنیا بھر میں شرح ولادت نصف رہ گئی ہے۔ دنیا بھر میں خواتین کے بچے پیدا کرنے کے رجحان میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے جس کے باعث نصف سے زائد ممالک میں ’بے بی بسٹ‘ کا امکان پیدا ہوگیا ہے۔کسی بھی ملک میں بچے پیدا کرنے کی شرح 2.1 سے کم ہونے لگے تو ایسے ملک کی کل آبادی کم ہونا شروع ہوجائے گی ایسی صورت حال کو بے بی بسٹ کہا جاتا ہے۔ اس لیے ممالک میں بچوں کی ولادت کی شرح، شرح اموات سے زیادہ رکھنی چاہیے۔
اس تحقیق میں 1950ء سے 2017ء تک ہر ملک کے اعداد و شمار اور رجحانات کو جمع کیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ 1950ء میں خواتین اپنی زندگی میں اوسطًا 4.7 بچے پیدا کرتی تھیں جب کہ گزشتہ برس یہ شرح خطرناک حد تک گھٹ کر محض 2.4 تک رہ گئی ہے۔اس خطرناک صورت حال کا سامنا سب سے زیادہ ترقی یافتہ ممالک کو ہوا جہاں برطانیہ میں فی ماں 1.7 بچے پیدا کررہی ہے لیکن دوسری جانب پسماندہ ممالک جیسے مغربی افریقا میں یہ شرح اپنی انتہائی حد تک یعنی 7.1 ہے یعنی امیر ممالک میں فی ماں 1 سے 2 بچے پیدا کر رہی ہے جب کہ غریب ممالک کی ماں کے یہاں 6 سے 7 بچوں کی پیدائش معمول کی بات ہے۔
سروے میں خبردار کیا گیا ہے کہ جن ممالک کو بے بی بسٹ کا سامنا ہے وہ معاشی، معاشرتی اور سماجی مسائل کے ساتھ ساتھ تہذیبی اور ثقافتی مسائل کا شکار ہوجائیں گے اور ایسے معاشرے میں دادا دادی کی تعداد پوتے پوتیوں سے زیادہ ہوجائے گی۔ترقی یافتہ ممالک میں خواتین کے بچے پیدا کرنے کے رجحان میں کمی کے باعث مقامی آبادی کم ہونے پر اس خلاء کو غیرفطری آبادی سے پُر کیا جائے گا اور یوں ہجرت کرکے آنے والوں کی ثقافت اور تہذیب مقامی معاشرت پر حاوی ہوجائے گی۔ترقی یافتہ ممالک میں بچے پیدا کرنے کی شرح میں کمی کی وجہ ماؤں کا اپنی فٹنس کو برقرار رکھنے کی حد درجہ خواہش ہے اور وہ اپنی مرضی سے کم بچے پیدا کرتی ہیں جب کہ متوسط ممالک میں سہولیات اور آمدنی کو مدنظر رکھتے ہوئے ’خاندان‘ میں نئے اراکین کی تعداد کا تعین کیا جاتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest