درگاہ سید نا امیر ابولعلأ احراری اکبرآبادی پر سالانہ جشن غوث اعظم کا انعقاد

آگرہ:درگاہ سید نا امیر ابولعلأ احراری اکبرآبادی پر سالانہ جشن غوث اعظم بڈے دھوم دھام سے منایا گیا، جس کی سرپرستی وصدارت درگاہ کے سجادہ نشن الحاج سید عنایت علی شاہ نے فرمائی ۔جشن غوث اعظم کا آغاز صبح گیارہ بجے محفل سماع کا انعقاد کر کے کیا گیا،اس مین غوث اعظم پر صوفیانہ کلا م پیش کیا ۔
بعدنماز ظہر علماء کرام نے غوث اعظم کی حالات ذندگی پر روشنی ڈالی،فیروزآباد سے آئے مہان مولانا عرفان نے فرمایا کہ غوث اعظم کی تعلیمات پر عمل کرنے پر انسان اپنی دنیا و آخرت دونوں سنوار سکتا ہے، مفتی مولانا مدثر خان قادری نے اپنے بیان میں کہا کہ انسان بغیر علم کے ترقی نہیں کر سکتا اور نہ ہی خدا کی معرفت حاصل ہو سکتی ہے، اسلام کی بنیارہی تعلیم ہے ، لیکن موجودہ وقت میں مسلمانوں نے تعلیم سے فاصلہ بنا لیا ہے ، یہ کیوں ہو رہا ہے اس پر جایزہ لینے کی ضرورت ہے ، میرے نبی کے دُنیامیں آنے کے بعد جو بھی ولی اس دُنیاں میں تشریف لائے تمام نے تعلیم کو اول اُور تمام کام کو اس کے بعد کہا ، غوث اعظم کو بن الاقومی سطح پر ۲۲ اسم مبارک سے ہر مسلمان یاد کرتا ہے ، جو اس طرح سے ہیں،غوثِ اعظم، پیران ِپیردستگیر ، محی الدین، شیخ الشیوخ، سلطان الاولیائی، سردارِاولیائی، قطبِ ربائی، محبوبِ سبحانی  ، قندیل لامکانی، میرمحی الدین، امام الاولیائی، السید السند، قطب اوحد ئی،شیخ الاسلام ، زعیم العامای ،سلطان الاولیائی، قطب بغداد ، بازِاشہتئی، ابوصالح، حسنی آبائی، حسینی اُمائی، ہیں ، غوثِ اعظم حضرت عبدالقادر جیلانی نے فرمایا کہ قبر حسین پر اللہ تعالیـ نے ستر ہزار فرشتے مقرر کئے ہیں جو قیامت تک روتے رہیں گے۔
فاتح آگرہ حضرت مولانا ارشد ارحمن قادری نے سید شیخ عبدالقادری جیلانی پر بیان کرتے ہوئے کہا کہ بچبن میں عام طور سے بچے کھیل کود کے شوقین ہوتے ہیں لیکن آپ بچبن ہی سے لہوولہب سے دور رہے آپ کا ارشاد ہے کہ کلماھممت ان العب مع الصبیان اسمع قائلا یقول الی یا مبارک ( یعنی جب بھی میں بچوں کے ساتھ کھیلنے کا ارادہ کر تا تو میں سنتا تھا کہ کوئی کہنے والا مجھ سے کہتا تھا اے برکت والے، میری طرف آجا)، حضرت غوثِ اعظم شیخ عبدالقادر جیلانی کا انتقال ۱۱۶۶ء کو ہفتہ کی شب (۸ربیع الاول ۵۶۱ہجری ) کو نواسی سال کی عمر میں ہوا اور آپ کی تدفین آپ کے مدرسہ کے احاطے میں ہوئی ، حافظ ممتاز کے ساتھ تمام علماء کے اغوث پر اپنے انداز میں بیان کیا، شاہد ندیم نے غوثِ اعظم کی شان میں اپنا کلام پیش کیا، آختتام فاتحہ کے ساتھ ہوا، اس موقع پر سید محتشم علی ، سید وراثت علی ، سید اشایت علی ، سید کیف علی ، سید شاہب علی،سید اظہر علی موجودرہے ، فاتحہ کے وقت ملک میں امن چین کی دُعا کی گئی ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *