پلوامہ دہشت گردانہ حملہ انتہائی دردناک ،لیکن ہم سے کہا ں بھول ہوئی؟؟؟

ڈاکٹر وسیم راشد، چیف ایڈیٹر ، صدا ٹوڈے

کشمیر میں تعینات پیراملٹری فورس پر جو حملہ ہوا اور اس میں 40؍ لوگ شہید ہوئے اس کے بعد نیشنل میڈیا اور سوشل میڈیا پر پاکستان کے لیے جونفرت کا سیلاب امڈا ہے اس کا ذکر تو بعد میں ہوگا ، لیکن یہ ضرور ہے کہ یہ بہت ہی دردناک حادثہ ہےاور اس حملے کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ 1989 کے بعد انڈین فورسز پر کشمیر میں ہونے والا یہ سب سے بڑا حملہ ہے۔ پاکستان میں حکومت تو نئی آگئی، لیکن دہشت گردی میں کوئی فرق نہیں پڑا۔ حکومت یا تو دہشت گردوں کے ہاتھوں مجبور ہوچکی ہے یا پھر وہاں ان کو باقاعدہ اس طرح کی ٹریننگ دی جارہی ہے کہ دونوں ممالک میں یہ نفرت کا کاروبار بڑھتا جائے ان شہیدوں کے خاندان پر کیا گزری ہوگی ان کے بچے یتیم ہوگئے، ان کا کمانے والا چلا گیا اس نقصان کی تلافی ناممکن ہے۔ لیکن یہ بھی کہنا ضروری ہے کہ ہمارے انٹلی جنس ذرائع نے ۱۲؍فروری کو ہی ملک بھر کی سیکورٹی ایجنسیوں کو شدت پسند گروپ جیش محمد کی جانب سے ایک بڑے حملے کے بارے میں خبردار کیا تھا تو پھر یہ لاپرواہی کیوں برتی گئی؟2016ء میں بھی جیش محمد نے پٹھان کوٹ ایئربیس پر حملہ کیا تھا۔ اور تبھی یہ باتیں سامنے آئی تھیں کہ کچھ خفیہ دستاویز اہم وزارتوں سے باہر گئے ہیں اب یہ حکومت اس حملے کے بعد بھی سنبھل نہیں پائی تو پھر یہ کس کی بھول ہے، یہ حملہ آور یہ دہشت گرد کہاں سے آرہے ہیں جبکہ کشمیر میں فوج ہائی الرٹ پر ہے انٹلی جنس ان پٹ تھا کہ تقریباً ڈھائی ہزارفوجی 45 ,40 ٹرکوں میں گزرینگے لیکن جہاں فوج گزر تی ہے وہاں کوئی بھی دوسری گاڑی نہیں ہونی چاہئے تھی پھر فوج کو اکیلا کیوں چھوڑ دیا گیا پولیس نے کنارے پر جو گاڑیاں کھڑی تھیں ان کی تلاش کیوں نہیں لی اوراب آپ بیانات دے کر شہیدوں کی موت پر سیاست کر رہے ہیں
نمٹ لینگے بدلہ لینگے یہ الفاظ ہیں ہمارے میڈیا پر سیاست دانوں کے اور وزیر آعظم کہ رہے ہیں منہ توڑجواب دینگے ،ارے جناب اتنے لوگ گھس آئےاورآپ کو پتہ ہی نہیں چلا راجناتھ سنگھ جی آپ ہی جواب دیجئے کہ پٹھان کوٹ کے بعد آپ نے کیا حفاطتی اقدامات کئے اور انٹرنل سیکورٹی کے لئے کیاکیا ؟؟؟؟؟؟؟
پاکستان جیش محمد کو باقاعدہ پناہ دے رہا ہے۔ مسعود اظہر کھل کر تقریریں کرتا ہے، نفرت کا اظہار کرتا ہے ۔ بڑے بڑے مجمع کو پاکستان میں خطاب کرتا ہے لیکن اس کو نہ تو پکڑا جاتا ہے نہ ہی اس پرکوئی کارروائی ہوتی ہے۔ چین مسلسل مسعود اظہر کو بچاتا چلا آرہا ہے، اور چین کی وجہ سے ہی مسعود اظہر کوبین الاقوامی دہشت گرد قرار نہیں دیاجاتا۔
وزیراعظم جذباتی تقریر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان جوانوں کی شہادت رائیگاں نہیں جائے گی۔دوسرے لیڈران بھی جذباتی بیانات دے رہے ہیں، لیکن کوئی بڑا قدم کیوں نہیں اٹھایاجاتا ہمیشہ حکومت کسی نہ کسی بڑے حادثہ کی منتظر کیوں رہتی ہے۔
اب اس حملے کے بعد دونوں ممالک میں نفرت کا بازار گرم ہو جائے گا۔ ہندو نوجوان مسلم نوجوانوں کو آتنک وادی کہہ کر پکاریں گے، ویزا پہلے ہی نہیں دی جارہی تھی، اب بالکل ہی سفارتی تعلقات ختم ہوجائیں گے ،اور اس سب کا نقصان کس کو ہوگا؟ دونوں ممالک کے رہنے والے عزیزوں کو،رشتہ داروں کو۔
موسٹ فیورڈ نیشن کا درجہ واپس لینے سے کچھ نہیں ہوگا۔ اب دونوں ممالک کو مذاکرات سے باہر نکل کر کچھ اہم فیصلے کرنے ہوں گے۔ سوشل میڈیا نفرت پھیلارہا ہے نیشنل میڈیا بھی نفرت کا زہر اگل رہا ہے نہ یہاں کی میڈیاپر کوئی روک ہے نہ وہاں کی۔ لیکن اس سب نفرت کے اظہار سے نتیجہ کچھ نہیں نکلے گا۔ جب تک صحیح قدم نہیں اٹھایا جائے گا۔ اور دہشت گردوں کو پکڑ کر پھانسی نہیں دی جائے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest