غزل

بیچ رستے میں چھوڑ آیا ہے
عہد تو اپنا توڑ آیا ہے

راستے ختم ہیں جہاں جاکر
راستے میں وہ موڑ آیا ہے

اپنی آنکھوں کے قمقمے کوئی
ایک پتھر پہ پھوڑ آیا ہے

اپنے اندر ہی ٹوٹنے والا
سارے رشتوں کو جوڑ آیا ہے

بھرکے کشکول میں وہ اشک اپنے
خشک دریا میں چھوڑ آیا ہے

کوئی تپتی ہوئی زمینوں پر
پیاس اپنی نچوڑ آیا ہے

زندگی کو گزارنے والا
زندگی کو جھنجھوڑ آیا ہے

مسکرا کر یہ طفلِ دل شاکر
پنجہء غم مروڑ آیا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram