معروف خطاط،خوشنویس اور صحافی ڈاکٹر ریحان انصاری انتقال کرگئے

ممبئی کے مضافات میں واقع پاورلوم کے لیے مشہوربھیونڈدی کے معروف خطاط،خوشنویس اور صحافی ڈاکٹر ریحان انصاری دورہ قلب کے سبب آج شام انتقال کرگئے اور رات دیر گئے ، بھیونڈی کے غوری پاڑہ کے کھجور پورہ سے بھوسار محلہ قبرستان میں ان کے جسد خاکی کو سپردخاک کردیا گیا ،54سالہ ریحان انصاری کے پسماندگان میں اہلیہ،ایک بیٹا اور تین بٹیاں ہیں۔
گزشتہ روز گوامیں خوشنویسی کے ایک ورکشاپ میں شرکت کرنے کے بعد گھر واپس لوٹے تھے،پیشہ سے یونانی طبیب ڈاکٹر ریحان انصاری نے اسکول کے دوران ہی فن کتابت اور خطاطی سیکھ لی اورپھر انجمن اسلام طبیہ کالج سے تعلیم مکمل کرلی ،لکھنے پڑھنے کا شوق بھی تھا ،جس کے سبب تعلیمی ،سماجی اور سیاسی موضوع پر بھی مضامین لکھا کرتے تھے۔روزنا مہ انقلاب میں اکثر مضامین شائع ہوتے تھے ۔آج صبح سینہ میں درد کی شکایت کے بعد انہیں ڈاکٹر نے ممبئی لیجانے کا مشورہ دیا ،لیکن انہیں احتیاطاً تھانے کے ہورزون اسپتال میں لیجایا گیا جہاں علاج کے دوران شام پانچ بجے انہوںنے داعی اجل کو لبیک کہا۔انہیں ان کے فن خوشنویسی اور خطاطی کی وجہ سے کئی ریاستی اور قومی ایوارڈس سے نوازاگیا ۔ان کے انتقال پر تعزیت پیش کرتے ہوئے مشہور فوٹوجرنلسٹ اور ان کے خوشنویسی کے مشن میں ساتھی عبیدخان نے گہرے رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم ڈاکٹر ریحان انصاری ممبئی کے مہاراشٹر کالج اور بھیونڈی کے رئیس ہائی اسکول میں خطابت اور خوشنویسی کی کلاسیس چلاتے تھے ،جبکہ ممبئی یونیورسٹی سے وہ فن خطاطی پر پی ایچ ڈی کررہے تھے اور امسال کورس مکمل کرلیتے تھے۔اردوجرنلسٹ ایسوسی ایشن نے بھی ڈاکٹر ریحان انصاری کے انتقال پر دکھ کا اظہارکیا ہے اور ایسوسی ایشن کے صدرخلیل زاہدنے اپنے تعزیتی بیان میں کہا ہے کہ اردودنیامیں ایک قابل وباصلاحیت فن کار کھودیا ہے ،ان کی تعزیت کے لیے ایک جلسہ چند دنوںمیں منعقد کیا جائے گا۔ان کے دوست اور کتاب وخطاطی کے فن کو فروغ دینے کے لیے شانہ بشانہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram