نوجوانوں و طلبا کے نعروں کی طاقت کو کم سمجھنا غیر دانشمندانہ قدم ہے

صداٹوڈے کے لئے خاص

تانا شاہ حکومت کے خلاف گیت و نغمے سب سے طاقتور ہتھیار ہیں

تحریر: پِریتیش نندی
( مشہور انگریزی صحافی )
pritishnandy @ gmail.com

مترجم : رئیس صِدّیقی
سابق آئی بی ایس۔ آکاشوانی ؍ دوردرشن)

عالمی شہرت یافتہ شاعر فیض احمد فیض کی رحلت کے پندرہ ماہ بعد انکی ۷۵ ویں سالگرہ پر ، ۱۳؍ فروری ۱۹۸۶؁ کو لاہور کے الحمرہ آرٹ کونسل میں منعقدہ پروگرام میں مقبول گلو کارہ اقبال بانو سیاہ رنگ کی ساڑی پہن کر آئیں۔جنرل ضیاء الحق کے دور حکومت میں کالا رنگ احتجاج اور ساڑی غیر اسلامی مانی جاتی تھی۔

اس وقت فیض کے کلام کو عوامی پلیٹ فارم پر گانا ممنوع تھا

اقبال بانو نے یہاں موجود پچاس ہزار لوگوں کے سامنے فیض کی سب سے یاد گار نظم ہم دیکھیں گے کو اپنی آواز میں پیش کیا ۔ اس وقت فیض کے کلام کو عوامی پلیٹ فارم پر گانا ممنوع تھا اورہم دیکھیں گے تو تب لکھی گئی تھی ، جب جنرل ضیاء اپنی حکمرانی کے عروج پر تھے۔ یہ ایک ایسے شاعر کی جانب سے کھلی للکار تھی جس نے اپنی ساری زندگی سماج کو ہراساں کرنیوالی تانا شاہی کے خلاف کھڑا کر دیاتھا۔

ؒلاہور کی آڈیٹوریم میں جب اقبال بانو کی آواز میں ہم دیکھیں گے کی پہلی لائن کو گایا گیا تو وہاں ایکدم خاموشی تھی اور اسکے بعد حیرت زدہ سامعین نے تالیوں کی گڑگڑاہٹ سے اس خاموشی کو توڑ دیا۔
یہ جبر زدہ سیاست کو للکارنے کا ایسا موقع تھا جو اس بر اعظم کے عوام کی یادوں میں ہمیشہ محفوظ رہیگا۔ اس ایک سحر زدہ لمحہ میں اقبال بانو نے اس نظم کو ایک کبھی نہ بھولنے والے احتجاجی ترانہ میں تبدیل کر دیا تھا اور اس وقت کے حکمران کو یہ کھلی چنوتی تھی ۔جوں جوں اقبال بانو بلا خوف اسے گاتی رہیں ، تالیوں کی آوازیں تیز تر ہوتی گئیں۔ کئی بار تو انہیں اگلا شعر گانے کے لیے تالیوں کی آواز کے شور کو تھمنے تک رکنا پڑتا تھا ۔انہی لمحوں میں یہ نظم دنیا بھر میں جابر حکمرانوں کے خلاف احتجاج کا بینر بن گئی ۔ اسٹیج پر دکھایا گیا یہ جوش و خروش آج بھی دنیا بھر میں نوجوانوں کے لئے باعث تحریک بنا ہوا ہے ۔

کوئی بھی سیاست اس عظیم نظم کو مٹا نہیں سکتی ۔ا

فیض کی رحلت کے۳۵ سال بعد اآج جنرل ضیاء کو کوئی یاد بھی نہیں کرتا لیکن سیل فون اور وائرل میڈیا کے اس دور میں بھی ہم دیکھیں گے نوجوان طلباء کے لیئے احتجاج،جرائت،اور تحریک کا دائمی ترانہ بنا ہوا ہے ۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کوئی بھی سیاست اس عظیم نظم کو مٹا نہیں سکتی ۔

میں نے ڈھاکہ میں تحریک آزادی کے دوران بھی ایسا ہوتے دیکھا تھا۔ جب پاکستانی فوج نے طلبا کی آواز دبانے کی کوشش کی تو انہوں نے بھی اسکی مخالفت میں اپنے ہر دل عزیز شاعر شمس الرحمان کی نظموں کو کیمپس میں گانا شروع کر دیا تھا ۔لیکن کوئی بھی بندوق آزادی کے ان نعروں کو خاموش کرانے میں کامیاب نہیں ہو سکی ۔یہ ایک لفظ ہے جسکو دنیا بھر کے شاعروں نے کئی معنی دئے ہیں ۔ اس لئے مجھے اس وقت ذرا بھی تعجب نہیں ہوا جب گذشتہ دنوں ملک کے اہم تعلیمی اداروں میں سے ایک، کانپور آئی آئی ٹی میں جامعہ ملیہ یونیورسٹی کے طلباپر پولس کے حملہ کی مخالفت میں وہاں کے طلباکو ہم دیکھیں گے گاتے ہوئے دیکھا گیا۔

مخالفت کرنے والے سبھی شاعر اشتراکی نہیں ہیں

فیض کی یہ نظم آج للکار کا گیت بن گیا ہے ۔ یہ وہ گیت ہے جو تانا شاہ حکومت سے لڑ رہے سبھی لوگ گا رہے ہیں ۔یہ بات بے معنی ہے کہ اسے پاکستان کے ایک کمیونسٹ شاعر نے لکھا تھا ۔ زبان ہم سبکی ہے ۔ دنیا بھر کے نو جوان طلبا کے لئے یہ مخالفت اور للکار کے جوش سے لبریز احتجاجی ترانہ ہے ۔ کچھ احمق لوگ، جو آج بہت زیادہ ہیں، اس نظم کو ہندو اور دیش مخالف ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ دونوں باتوں میں سے کچھ بھی نہیں ہے ۔ یہ ایک حکومت مخالف ، ظلم مخالف اور فاشسٹ مخالف نظم ہے ۔ مخالفت کے بیج تو دبانے کی سیاست کی زرخیز زمین پر ہی پنپتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ دنیا کی بہترین نظمیں انہیں ملکوں میں کہی گئیں جو مشکل میں تھے ۔چلی کے پابلو نے رودا اسکی مثال ہیں ۔ لیکن مخالفت کرنے والے سبھی شاعر اشتراکی نہیں ہیں ۔ نوبل انعام یافتہ میکسیکو کے اوکٹا ویو پال نے کمیونسٹ حکمرانوں کی دبانے اور جبر کی روش کے خلاف اتنی ہی مضبوطی سے آواز اٹھائی ، جتنے زوردار طریقہ سے کیوبہ کے نکولس گوئللین کاسترو ۔ حکومت کی حمایت کر رہے تھے ۔ بھارتیہ کمیونسٹ پارٹی کے رکن اور بنگال کے بہترین شاعروں میں سے ایک سبھاش مکھوپادھیائے نے اُن نو جوانوں پر نظموں کی ایک کتاب کو شعری جامہ پہنایا جو اپنی پڑھائی چھوڑ کر نکسلوادی تحریک میں شامل ہوگئے تھے۔ انکی پارٹی نے اس کتاب کو منظور ی نہیں دی لیکن سبھاش مکھوپادھیائے نو جوانوں کے آدرش و آئڈیل بن گئے۔

یہ وہ آزادی ہے جو وہ مانگتے ہیں

میں نے برسوں سے طلبا کے مخالف مظاہروں کو دیکھا ہے ۔ یہ وہ آزادی ہے جو وہ مانگتے ہیں :
پاکھنڈ سے آزادی ،جھوٹ سے آزادی ، سیاسی چالبازی اور دو منھی و دوغلی باتوں سے آزادی، راشٹرواد پر کھوکھلے بھاشنوں سے آزادی ، اسے ہی وہ آزادی کہتے ہیں ۔ اس آزادی کے لئے جے این یو کے طلبا نعرے لگاتے ہیں ۔ اسکی طاقت کو کبھی کم نہ آنکیں ۔ یہی وہ جذبہ ہے جسے کبھی ملک کی آزادی کے لئے منسوب کیا گیا تھا ۔ یہ آج ہماری ا س حکومت کے خلاف جدوجہد و سنگھرش کی ترجمانی کرتا ہے جو یہ نہیں سمجھتی کہ اس دیش کے لوگ کیا چاہتے ہیں !
( یہ مضمون نگار کے اپنے خیالات ہیں )

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *