دیباچہ

اسلم چشتی (پونے) انڈیا
چیئرمین “صدا ٹوڈے” اُردو نیوز ویب پورٹل
Www.sadatoday.com Sadatodaynewsportal@gmail.com
09422006327

بیسویں صدی کے شعری ادب کی روش میں چراغاں کرنے والوں میں خمار بارہ بنکوی کا نام درجنوں ممتاز شاعروں کے درمیان تابندہ دکھائی دیتا ہے – اس وقت کی اس روش پر چلنے والوں اور ضیاء پانے والوں کی کمی نہ کل تھی نہ آج ہے – 1999.ء میں ان کی زندگی کے سفر کے اختتام کے باوجود ان کے مترنّم لفظوں کا سفر اکیسویں صدی کی سرحد میں داخل ہو کر شعری حلقوں میں روشنی پھیلا رہا ہے ۔
غزل کی روایتوں کی پاسداری کرتے ہوئے کچھ نئے رنگ و آہنگ کی آمیزش خمار کے کلام کا خاصہ ہے جو آج کے قاری کو بھی اپنی گرفت میں لینے کی سکت رکھتا ہے – برسوں پہلے کہے گئے ان کے اشعار میں آج بھی تازگی محسوس کی جا سکتی ہے – مثال کے طور پر کچھ اشعار ملاحظہ فرمائیں ۔
نہ ہارا ہے عشق اور نہ دنیا تھکی ہے
دیا جل رہا ہے ہوا چل رہی ہے
کہوں کس طرح میں کہ وہ بے وفا ہے
مُجھے اس کی مجبوریوں کا پتہ ہے
وہ مجھ سے میں اس سے جدا ہو گیا
زمانے کا قرضہ ادا ہو گیا
جی تو ہلکا ہوا مگر یارو
روکے ہم لُطفِ غم گنوا بیٹھے
بے سہاروں کا حوصلہ ہی کیا
گھر میں گھبرائے دریچہ آ بیٹھے
اک آنسو کہہ گیا سب حال دل کا
میں سمجھا تھا یہ ظالم بے زباں ہے
ایسے درجنوں غزلیہ اشعار نے اس زمانے میں قارئین اور سامعین کا دل جیت لیا تھا – جگر، فراق، مجروح، شکیل، بیکل، مخدوم، جوش، جعفری، ساحر، جانثار، فیض، کی بے پناہ مقبولیت کے بیچ کسی اور شاعر کا شہرت پا جانا معمولی بات نہیں میرے خیال سے خمار بارہ بنکوی کی شہرت کی وجہ ان کی دودھ سے دھُلی صاف اور شفّاف زبان، سُخن کے انداز میں انفرادیت کے علاوہ مُترنّم بحروں کا استعمال بھی ہے اور مشاعروں میں ان کی کھنک دار آواز اور ان کا ترنّم ریز performance بھی ہے ۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ خمار کی شہرت مشاعروں کے حوالے سے رہی ہے شاعروں میں ان کا کلام حاصلِ مشاعرہ ہوا کرتا تھا – سامعین واہ واہ اور مکّر مُکرّر کہتے نہیں تھکتے تھے – اس شور و غل میں جب وہ مائک سے ہٹ جاتے تو شائقین چلّانے لگتے – جو سامعین اس ہنگامہ خیز ماحول کے چشم دید گواہ ہیں ان کی زبانی میں نے سنا ہے کہ خمار کو سامعین کے بے حد اصرار پر دوبارہ سہ بارہ پڑھایا جاتا اور ہر غزل تروتازگی کے ساتھ سناتے اور مشاعرہ لوٹ لیتے تھے – اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ان کے بعد کسی اور کا چراغ جل نہیں پاتا تھا ۔
خمار بارہ بنکوی کا ایک مخصوص دلکش اور دلنشیں ترنّم تھا جو ان ہی کی آواز میں بھلا لگتا تھا – اس دور میں اور ان کے بعد کے دور میں کچھ مشاعرہ باز شعراء نے ان کے ترنّم کو cash کرنے کی کوشش کی – لیکن بات پیدا نہ ہو سکی ہوتی بھی کیسے ترنّم کی نقل تو کی جا سکتی ہے لیکن ترنّم کے ساتھ خمار کے کلام کا جو تال میل ہوا کرتا تھا اس کی نقل تو نا ممکن ہے – نئے کلام کے ساتھ ان کے ترنّم کا سنگ نہیں ہو پاتا پھر خمار سا انداز اور وہ آواز کہاں سے لائے – چنانچہ ان کے ساتھ یہ ساری صفات بھی گُم ہو گئیں ۔
بارہ بنکی ( اودھ) کے مہذب گھرانے میں پیدا ہونے والے محمد حیدر خان کی ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی پھر انھیں انگریزی اسکول میں داخل کر دیا گیا – پڑھائی میں من نہیں لگتا تھا ، جوں توں بارہویں جماعت تک پہنچے تعلیمی سلسلہ ختم ہو گیا – دراصل اردو زبان سے فطری لگاؤ اور شاعری کے شوق نے انھیں اعلی تعلیم سے محروم رکھا – اس محرومی کی تلافی بحیثیت شاعر ان کی شہرت نے کردی – انھیں شعری ذوق لڑکپن کے زمانے سے تھا – 15 برس کی نو عمری میں ان کی شاعری کی ابتداء ہوئی استاد کی ضرورت پڑی تو انھوں نے قرار بارہ بنکوی کو اپنا استاد بنایا – سخن کے رُموز و نُکات سے واقفیت حاصل کی لیکن ابتدائی دور کی کچھ غزلوں پر ہی استاد سے اصلاح لے پائے اس کے بعد طبیعت کی موزونیت اور ذوقِ سُخن نے ان کی رہبری کی – مسلسل مشقِ سُخن نے انھیں منفرد غزل گو بنا دیا – ان کے کچھ مشہور اشعار جو میرے حافظے میں محفوظ رہ گئے ہیں – مجھے بہت پسند ہیں – ملاحظہ فرمائیں ۔
اس سلیقے سے ان سے گلہ کیجئے
جب گلہ کیجئے ہنس دیا کیجئے
ہیں دن قربتوں کے بھی یوں تو سہانے
مگر ہائے رے دوریوں کے زمانے
وہ ہمیں جس قدر آزماتے رہے
اپنی ہی مشکلوں کو بڑھاتے رہے
یہ مصرعہ نہیں ہے وظیفہ مرا ہے
خُدا ہے محبّت محبّت خُدا ہے
جانِ بہار پھول نہیں آدمی ہوں میں
آجا کہ مسکرائے زمانے گزر گئے
وہی پھر مجھے یاد آنے لگے
جنھیں بھولنے میں زمانے لگے
اک پل میں اک صدی کا مزہ ہم سے پوچھئے
دو دن کی زندگی کا مزہ ہم سے پوچھئے
خمار بارہ بنکوی کے غالیباً تین مجموعے ( حدیثِ دل ، آتش تر ، رقصِ مئے ) ہی شایع ہوئے ہیں – جن سے ان کا ادبی حلقوں میں بھی نام ہوا – اصل میں مشاعروں کی شہرت نے عوام و خواص کو ان کی کتابوں کی طرف راغب کیا – لوگ باگ ان کا کلام شوق سے پڑھنے لگے – کتابوں کی فروخت بھی اطمینان بخش رہی – گانے والوں نے ان کی غزلوں کو سُر تال اور اپنی اپنی مدھر آوازوں سے سجایا ان کی غزلیں جب زیورِ موسیقی سے سج دھج کر عوام میں آئیں تو ان کی شہرت میں چار چاند لگ گئے – فلم والے بھی ان کی طرف راغب ہوئے لیکن محدود پیمانے پر گیت کاری کا سلسلہ رہا – میرے خیال سے اس زمانے کی مشہور میوزک کمپنی ایچ ایم وی نے بھی گراموفون کے لئے ان کی غزلوں کے کچھ ریکارڈ جاری کئے – اس سلسلے میں تفصیل بتانے سے ناچیز قاصر ہے ۔
مُجھے خوشی ہے کہ کویت میں مقیم میرے دوست مشہور شاعر و ادیب افروز عالم جنھوں نے کویت کے شاعروں اور ادیبوں کی تاریخ مرتّب کی، نئے شعراء کو ادبی دنیا سے واقف کروایا – اردو زبان اور ادب کے فروغ کے لئے خلوصِ دل سے کوشاں رہنے والے افروز عالم نے خمار بارہ بنکوی جیسے اپنے زمانے کے منفرد شہرت یافتہ مرحوم شاعر پر ایک کتاب مرتّب کرنے کا فیصلہ کیا – مجھے اطمینان ہوا دراصل یہ وہ کام ہے جو بہت پہلے ہی ہوجانا چاہئے تھا – اب افروز عالم کے ہاتھوں اس کام کا ہونا فالِ نیک ہے ۔
اس کتاب میں ماضی قریب اور حال کے درجنوں نمائندہ قلمکاروں کے مضامین ہیں – جن میں خمار بارہ بنکوی کی شخصیت اور ان کے شعری فن پر کھُل کر گفتگو کی گئی ہے – یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ کتاب اپنے موضوع پر دستاویز کا درجہ رکھتی ہے مجھے یقین ہے کہ شعری دنیا کے ہر حلقے میں اس کتاب کا پُر جوش خیر مقدم کیا جائے گا ۔
میں آخر میں افروز عالم اور ان کے احباب کو اس کتاب کی اشاعت پر مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ انھوں نے بڑی محنت سے خمار بارہ بنکوی کی نو کلاسک شاعری کو نئی زندگی دی ہے – یہ محبّت کی بات ہے ۔
محبّت خُدا ہے، خُدا ہے محبـّت
Aslam chishti
Flat no 404 Shaan Riviera Apartment Riviera Society 45/2 wanowrie
Near Jambhulkar GardenPune 411040 Maharashtra India

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram