دہلی وقف بورڈ کے تحت دو روزہ ٹیچرٹریننگ ورکشاپ اختتام پذیر

جامعہ ملیہ میں 9تا10اکتوبر منعقد کی گئی ورکشاپ میں 23اسکول کے45شرکاء ہوئے مستفید،کامیاب اختتام کے بعداساتذہ کو بورڈکی جانب سے سرٹیفکیٹ دئے گئے

دہلی وقف بورڈ کی جانب سے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے نہرو گیسٹ ہاؤس میں ٹیچرس ٹریننگ سلسلہ کے تحت دو روزہ ٹیچرڈیولپمنٹ پروگرام کا انعقاد عمل میں آیا جس میں اوکھلا اور قرب جوار کے 23اسکولوں کے کل 45ٹیچروں نے حصہ لیا جن میں بیشتر تعدادخواتین کی تھی۔پروگرام دہلی وقف بورڈ کی ڈپٹی ڈائریکٹر آف ایجوکیشن حلیمہ سعدیہ کی نگرانی میں ہوا جس میں ماہرین تعلیم نے ورکشاپ میں شرکت کرنے والے اساتذہ کو بہتر طریقہ تعلیم کے عملی گر سکھائے۔دہلی وقف بورڈ کی جانب سے یہ اپنی نوعیت کا پہلا پروگرام تھا جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ بورڈ نے اپنا دائرہ کار کتنا وسیع کرلیا ہے اوروہ یکے بعد دیگرے اپنے مقاصد کے حصول میں سرگرم عمل ہے۔تفصیل کے مطابق پروگرام کے 10گھنٹے کے کل 6سیشن ہوئے جس میں اساتذہ نے ڈاکٹر حلیمہ سعدیہ،ڈاکٹر ریحان سوری،پروفیسراختر صدیقی سابق ڈین ایجوکیشن فیکلٹی جامعہ ملیہ اسلامیہ،مسٹرمہرالدین سابق ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ تعلیم حکومت دہلی اورپروفیسراحرار حسین فیکلٹی آف ایجوکیشن جامعہ ملیہ جیسے ماہرین فن سے بہتر طریقہ تعلیم اور کامیاب تدریس کے ہنرسیکھے۔پروگرام میں شرکاء نے نہایت دلچسپی اور محنت کا مظاہرہ کیااور اختتامی سیشن میں دہلی وقف بورڈ خاص کر چیئرمین امانت اللہ خان کا شکریہ اداکرتے ہوئے اپنے تاثرات کا اظہار کیا۔تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کئی شرکاء نے بتایا کہ انہوں نے اس پروگرام سے عملی طور پر بہت کچھ سیکھا جس سے انھیں نہ صرف طلبہ کو پڑھانے میں مدد ملے گی بلکہ جو ہنر اور گر انھیں ماہرین فن کے ذریعہ سکھائے گئے ہیں ان پر عمل کرکے وہ اپنی تدریسی زندگی کو کامیاب بناسکیں گے۔افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین دہلی وقف بورڈامانت اللہ خان نے کہا کہ ہمارا ماننا ہے کہ اس وقت ملک و ملت کو تعلیم کی سب سے زیادہ ضرورت ہے،ہمارے پاس پہلی بات تو اسکولوں کی کمی ہے اور جو اسکول ہیں ان کی حالت دگرگوں ہے،بنیادی سہولیات کی کمی کی وجہ سے وہاں بچوں کو صحیح تعلیم ملنا بہت مشکل ہے اس لئے اس کام کا بیڑہ دہلی وقف بورڈ نے اٹھاتے ہوئے اسکول کھولنے کی سمت میں قدم بڑھائے ہیں جس کے لئے محترمہ حلیمہ سعدیہ کی ڈپٹی ڈائریکٹر آف ایجوکیشن دہلی وقف بورڈ کے عہدہ پرتقرری کی گئی اور کچھ اسکول کھولنے کی سمت میں عملی طور پر بنیادی کام بھی ہوا ہے جسے ہم انشاء اللہ جلد ہی پورا کرکے عملی طور پر شروعات کر یں گے۔میرا مانناہے کہ تعلیم اوراچھی تعلیم دونوں میں فرق ہے جب تک قوم کے نونہالوں کو اچھی تعلیم نہیں ملے گی قوم ترقی نہیں کرسکتی۔انہوں نے آگے کہا کہ موجودہ سسٹم سے آپ بہت زیادہ امیدیں نہیں کرسکتے اس کے لئے آپ کو نیا ایجوکیشن سسٹم ڈیولپ کرنا پڑے گااسی کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم نے دہلی وقف بورڈ کو اس اہم میدان سے جوڑا ہے اور انشاء اللہ آنے والے وقت میں دہلی کے مسلمانوں کی تعلیمی ضروریات دہلی وقف بورڈ پوری کرے گا۔اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے وقف بورڈ کے فعال ممبرایڈوکیٹ حمال اختر نے ورکشاپ میں شرکت کرنے والے اساتذہ کی ہمت افزائی کرتے ہوئے کہا کہ بطور استاذ تعلیم کے پروفیشن سے وابستگی خوش قسمتی کی بات ہے جو ہر کسی کو نصیب نہیں ہوتا،اساتذہ ہی قوم کے اصل معمارہیں جنھیں بچوں کے مستقبل کو سنوارنے کا اہم فریضہ انجام دینا ہے۔انہوں نے آگے کہا کہ دہلی وقف بورڈ ایک مہم لیکر چلا ہے جس میں کچھ تکنیکی دشواریوں اوراپنوں کی دشمنی نے ہمارے قدموں کی رفتار ضرور سست کردی ہے تاہم یہ قافلہ رکا نہیں ہے اورانشاء اللہ اگر موجودہ حکومت دوبارہ برسر اقتدار آئی اوردہلی وقف بورڈ کی ذمہ داری امانت اللہ خان صاحب کے کاندھوں پرآئی تو میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ دہلی وقف بورڈ 250اسکول ضرور کھولے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ دہلی وقف بورڈ کی تاریخ میں یہ ایک سنہرا باب ہے جو کام گزشتہ 50/60سالوں میں نہیں ہوئے تھے وہ کام امانت اللہ صاحب نے دہلی وقف بورڈ میں ایک سال میں کرکے دکھائے ہیں۔ڈپٹی ڈایرکٹر آف ایجوکیشن دہلی وقف بورڈ حلیمہ سعدیہ نے بتایا کہ انشاء اللہ اس سیریز کے تحت مزید پروگرام بھی ہوں گے اوراس کا اگلا پڑاؤ پرانی دہلی اس کے بعدسیلم پور اور دیگر علاقے ہوں گے اور آخر میں ایک بڑی ایجوکیشن کانفرنس دہلی وقف بورڈمنعقد کرے گا۔اس موقع پر دہلی وقف بورڈ ایجوکیشن کمیٹی کے ممبر کلیم الحفیظ صاحب نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا اور دہلی وقف بورڈ اور حلیمہ سعدیہ صاحبہ کی کوششوں کو سراہا۔شرکاء میں پروفیسر احرار،مہرالدین صاحب،سلمان اسعد صاحب،نعیم فاطمہ ممبر دہلی وقف بورڈ،قسیم صاحب،حافظ محفوظ صاحب اور وقف بورڈ کے اسٹاف میں سے کئی اراکین کی شرکت رہی اور اس طرح یہ پروگرام نہایت کامیابی کے ساتھ اختتام کو پہونچا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram