نشہ مخالف مہم میں مقتول روپیش گوجر کی بیوہ کو دلی وقف بورڈنے دی ملازمت۔

اعزازی تقریب میں وزیر اعلی اروند کیجریوال نے دیا تقرری کا پروانہ،گوجر برادری نے وزیر اعلی اور امانت اللہ کا شکریہ ادا کیاگزشتہ سال 30ستمبرکو اوکھلا حلقہ کے تیمور نگر میں نشہ آوروں کی مخالفت کرتے ہوئےہوئے گوجر برادری کے روپیش کا گولی مارکر قتل کردیا گیا تھا جس کے بعد برادری نے بڑے پیمانے پر احتجاج کیاتھا اور وزیر اعلی اروند کیجریوال سے ملاقات کرکے دیگر مطالبات کے علاوہ مقتول روپیش کی بیوہ کو ملازمت دینے کی مانگ بھی کی تھی۔وزیر اعلی اروند کیجریہوال نے سارے مطالبات منظور کرتے ہوئے فوری طور پر خاندان کو معاضہ کی مد میں کئی لاکھ روپئے کی اقتصادی مدد کی تھی اور جلد ہی ملازمت دینے کا وعدہ بھی کیا تھا۔وزیر اعلی کے اسی وعدہ کو دہلی وقف بورڈ کے چیئرمین امانت اللہ خان نے پورا کرتے ہوئے مقتول روپیش کی بیوہ کو دہلی وقف بورڈ میں مستقل ملازمت دی ا ہے اور آج وزیر اعلی اروند کیجریوال نے اپنے ہاتھوں سے گوجر برادری کی موجودگی میں تیمور نگر میں ایک اعزازی تقریب کے دوران مقتول کی بیوہ مونا کو ملازمت کا تقرری نامہ حوالہ کیا۔حالانکہ مونا دہلی وقف بورڈ پہلے ہی جوائن کرچکی ہیں مگر آج رسمی طور پر انھیں وزیر اعلی کے ہاتھوں مستقل ملازمت کا تقرری نامہ بھی دیدیا گیا جس کے بعد گوجر سماج کے بڑے چودھریوں نے وزیر اعلی کا اور دہلی وقف بورڈ کے چیئرمین امانت اللہ خان کا شکریہ ادا کیا۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے کہا کہ ہمارے پاس اس سلسلہ میں گوجر برادری کے لوگ آئے تھے اور اپنے مطالبات رکھے تھے ہم نے ان کے سارے مطالبات پورے کئے،وزیر اعلی نے کہا کہ مقتول روپیش کے نام پر تیمور نگر میں ایک چوک کا نام بھی رکھا گیا،مالی تعاون بھی کیا گیا، ان کے بچوں کا اچھے اسکول میں داخلہ بھی کرایا گیا اور ان کی بیوہ کو دہلی وقف بورڈ میں ملازمت بھی دی گئی۔انہوں نے مزید کہا کہ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم نے ساری ضرورتیں پوری کردی ہیں بلکہ آگے بھی جو ضرورت ہوگی ہم اسے پورا کریں گے۔وزیر اعلی نے امید ظاہر کی کہ روپیش کے بچے بھی اچھی تعلیم حاصل کرکے سماج میں اونچا مقام حاصل کریں گے اور اپنے والد کی طرح سماج کی خدمت کریں گے۔وزیر اعلی نے اس دوران دہلی کے عام لوگوں کے لئے کئے گئے اپنی حکومت کے کاموں کو بھی گنایا۔دہلی وقف بورڈ کے چیئرمین امانت اللہ خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ روپیش کا قتل ایک سال پہلے ہوا تھاجس کے بعد برادری کے احتجاج میں میں اور میرے علاوہ تین دیگر ممبران اسمبلی نے پنچایت کے سامنے وعدہ کیا تھا کہ دہلی سرکار کے کرنے کے جو کام ہیں وہ ہم کریں گے اور آج میں فخر کے ساتھ کہ سکتا ہوں کہ دہلی حکومت نے اس سلسلہ میں کئے ہوئے اپنے سارے وعدے پورے کئے ہیں۔امانت اللہ نے مزید کہا کہ ہم نے ایک مسلم ادارہ میں مقتول روپیش کی بیوہ کو اس لئے ملازمت دی تاکہ سماج میں اچھا پیغام جاسکے اور ہندو مسلمانوں میں آپس میں بھائی چارہ مضبوط ہو۔اس سے قبل گوجر برادری نے وزیر اعلی اروند کیجریوال کا پگڑی پہناکر استقبال کیااور مقتول کے بھائی امیش نے وزیر اعلی اروند کیجریوال اور امانت اللہ کا اپنی برادری کی جانب سے استقبال کرتے ہوئے بھرپور تعاون کا یقین دلایا۔اس موقع پر کالکاجی سے ممبر اسمبلی اوتار سنگھ،تغلق آباد سے ممبرا سمبلی سکھی رام  اور ممبر اسمبلی مد ن لال کے علاوہ دہلی وقف بورڈ کے ممبر حمال اختر،ممبر رضیہ سلبطانہ،عام آدمی پارٹی اقلیتی ونگ کے فیروز احمد،گوجر سماج کے سینکڑوں گاؤوں کے مکھیا و چودھری اور بڑی تعداد میں قرب و جوار کے لوگ شامل تھے۔مقتول روپیش کی بیوہ مونا نے دہلی وقف بورڈ میں ملازمت دینے کے لئے امانت اللہ خان اور وزیر اعلی اروند کیجریوال کا شکریہ ادا کیا۔غور طلب ہیکہ مقتول روپیش کے دو بچے ہیں ایک لڑکا جس کی عمر 14سال ہے اور ایک لڑکی جسکی عمر سات سال ہے اور دونوں دہلی کے سرکاری اسکولوں میں زیر تعلیم ہیں

9 Attachments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram