دہلی وقف بورڈ نے پورا کیا وعدہ

تعلیم مکمل کرنے کے لئے ایم بی بی ایس کی طالبہ کودیا6لاکھ کا چیک
MBBSسال آخر کی طالبہ کو فیس جمع نہ کرپانے کی وجہ سے کلاس میں بیٹھنے سے روک دیا گیا تھا،ملت کے ضرورتمند افراد کی مدد کرنا بورڈ کے مقاصد میں شامل:امانت اللہ خان

نئی دہلی:دہلی وقف بورڈ نے آج ایک اور تاریخی کارنامہ انجام دیتے ہوئے ملت کی ایک بیٹی کو ایم بی بی ایس کی تعلیم بیچ میں چھوڑنے سے بچالیااوراس کی درخواست پر فوری ایکشن لیتے ہوئے سال آخر کی فیس میں کمی کو پورا کرکے 6لاکھ کا چیک طالبہ اور اس کے والد کو بورڈ آفس میں ذرائع ابلاغ کے سامنے ایک پریس کانفرنس کے دوران دیا۔اس دوران بورڈ کے چیئرمین امانت اللہ خان نے ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کل ہمارے پاس دوارکا دہلی کے رہنے والے جمیل صاحب آئے اور انہوں نے لکھنؤکے ٹی ایس مشرا میڈیکل کالج میں ایم بی بی ایس کی تعلیم حاصل کر رہی اپنی بچی صاحبہ کی فیس جمع نہ ہوپانے کی وجہ سے کلاس جانے سے روک دئے جانے کے بارے میں بتایااور طالبہ کی تعلیم سے متعلق تمام ضروری دستاویز بورڈ کے سامنے رکھے اور مکمل فیس جمع کرنے میںاپنی مالی دشواریوں کی وجہ سے معذوری ظاہر کرتے ہوئے بورڈ سے تعاون کی درخواست کی اس وقت ہم نے کہا کہ اگرتحقیقات میں ان کی باتیں صحیح پائی گئیں تو دہلی وقف بورڈ ضرور ان کا تعاون کرے گااور آج بورڈ اپنا وعدہ پورا کرتے ہوئے آپ سب کے سامنے طالبہ اور اس کے والد کو 6لاکھ روپئے کا چیک دے رہاہے۔امانت اللہ خان نے آگے کہا کہ لکھنوٗمیں ایم بی بی ایس کی تعلیم حاصل کر رہی طالبہ کی ایک سال کی فیس 14لاکھ روپئے سے زائد ہے جو اس کے والد اب تک کسی طرح سے جمع کرتے آئے ہیں تاہم سال آخر کی فیس پوری جمع کرنے کے لئے پورے پیسوں کا انتظام نہیں کرپائے اورتقریبا ساڑھے پانچ لاکھ روپئے کم رہ گئے ۔انہوں نے مزید کہا کہ بورڈ نے طالبہ کے والدجمیل صاحب کی درخواست پر سنجیدگی سے غور کیا اور طالبہ کی تعلیم بیچ میں نہ چھوٹ جائے اور ملک اور قوم ایک ہونہار ڈاکٹر سے نہ محروم ہوجائے اس لئے ہم نے فوری طور پر طالبہ کی مدد کرنے کا فیصلہ کیااور 6لاکھ روپئے کا یہ چیک ہم طالبہ کو دے رہے ہیں جو اس کے اسکول کے نام پر ہے،ساڑھے پانچ لاکھ فیس کے لئے اور باقی 50ہزار ضروری تعلیمی اخراجات کے لئے۔ایک سوال کے جواب میں بورڈ کے چیئرمین امانت اللہ خان نے کہا کہ وقف بورڈ کے مقاصد میں یہ بات شامل ہے کہ وہ قوم اور ملت کے ضرورت مند افراد کی مدد کرے اس لئے بورڈ آگے بھی ایسے اقدام کرتا رہے گا۔غور طلب ہے کہ دہلی کی رہنے والی صاحبہ لکھنوٗکے ٹی ایس مشرا میڈیکل کالج میں ایم بی بی ایس کی تعلیم حاصل کر رہی ہیں وہ کافی محنتی اورہونہار طالبہ ہیں ان کے والد عبد الجمیل صاحب ایک ریٹائرڈسرکاری ملازم ہیںجنہوں نے اپنی بچی صاحبہ کو ڈاکٹر بنانے کے لئے اپنی ساری جمع پونجی لگاکرکالج کی تین سال تک فیس بھری جو ہر سال 14لاکھ رپئے سے زائد تھی تاہم سال آخر کی مکمل فیس 1جولائی تک جمع ہونی تھی مگر مالی تنگی کی وجہ سے وہ پوری فیس کا انتظام نہیں کر پائے اور تقریبا ساڑھے پانچ لاکھ روپئے کم رہ گئے جس کے لئے انہوں نے کل دہلی وقف بورڈ کے آفس دریاگنج آکر بورڈ کے چیئرمین امانت اللہ خان،ممبران ایڈوکیٹ حمال اختر اور چودھری شریف کے سامنے اپنی آپ بیتی سنائی اور تعاون کی درخواست کی جسے بورڈ نے تحقیق کے بعد منظور کرلیا۔چیک ملنے کے بعد طالبہ کے والد عبد الجمیل صاحب نے دہلی وقف بورڈ خاص کر چیئرمین امانت اللہ خان صاحب کا شکریہ اداکرتے ہوئے کہا کہ ہم بروقت تعاون کے لئے بورڈ کے شکرگزار ہیں اور بورڈ کی مزید ترقی کے لئے دعاگو ہیں۔صاحبہ نے کہا کہ وہ ڈاکٹر بننے کے بعد اگر ممکن ہوسکا تو آگے کی پڑھائی کریں گی اور اپنے جیسی ضرورت مند بچیوں کی مدد کریں گی۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest