دہلی کے رائے دہندگان کا بڑی خاموشی سے بی جے پی کو جواب

 

حال میں دہلی اسمبلی انتخابات کے دوران سیاسی رہنماؤں نے ضابطہ اخلاق کے نافذ ہونے کے باوجودمعاشرے میں رائج اخلاقیات کے اصولوںاور ضوابط کو بالائے طاق رکھ دیا ،اورسیاسی پارٹیوں میں دنیا کی خودساختہ’ سب سے بڑی ‘ بھارتیہ جنتاپارٹی نے اس میدان میں سب پر سبقت لے لی اور زمینی سطح کے گلی چھاپ ورکرس سے لیکر ایم ایل اے ،ایم پی اور اعلیٰ ترین لیڈران اور مرکزی وزیر بھی اس دوڑ میں ایک دوسرے سے سبقت لینے کی کوشش میں لگ گئے
ہاں میرے بول نے مجھے نیچا دکھایاہاں میرے بول نے مجھے نیچا دکھایا

جاویدجمال الدین
حال میں دہلی اسمبلی انتخابات کے دوران سیاسی رہنماﺅں نے ضابطہ اخلاق کے نافذ ہونے کے باوجودمعاشرے میں رائج اخلاقیات کے اصولوںاور ضوابط کو بالائے طاق رکھ دیا ،اورسیاسی پارٹیوں میں دنیا کی خودساختہ’ سب سے بڑی ‘ بھارتیہ جنتاپارٹی نے اس میدان میں سب پر سبقت لے لی اور زمینی سطح کے گلی چھاپ ورکرس سے لیکر ایم ایل اے ،ایم پی اور اعلیٰ ترین لیڈران اور مرکزی وزیر بھی اس دوڑ میں ایک دوسرے سے سبقت لینے کی کوشش میں لگ گئے ۔انتخابی مہم کے دوران کانگریس کے لیڈرراہل گاندھی کی زبان سے نکلنے والے ایک قابل اعتراض جملہ پر مرکزی وزیرمختار عباس نقوی نے فوراً ایک بیان داغ دیا کہ ”راہل گاندھی کو ابھی تہذیب کی زبان سیکھنے کی ضرورت ہے۔“ راہل نے انتخابی مہم کے دوران کہا تھا کہ ملک میں معیشت کی جوحالت ہے ،وہ دن دورنہیں جب لوگ مودی کو ڈنڈے مار مار کردوڑا دیں گے، یہ عجیب اتفاق ہے کہ راہل کے بیان کے برعکس موصوف کو بی جے پی لیڈرشپ کی پھسلتی ہوئی زبان اور گالیاں نہیں سنائی دی،دراصل مختار عباس نقوی اور شاہنواز حسین جیسے مسلم لیڈروں کو صرف بیان بازی کے لیے بی جے پی لیڈرشپ نے چھوڑرکھا ہے،اور بلاتاخیر یہ لوگ کسی بیان اور واقعہ پرلب کشائی کردیتے ہیں ۔انہیں اس بات کی واقفیت ہونی چاہئیے کہ جہاںامت شاہ نے مہم کے دوران بہکی بہکی باتیں کیں ،وہیں وزیراعظم نریندرمودی بھی ’اتفاق اور سازش ‘کی بولی بولنے سے نہیں چُکے اور ان سبھی کو شاہین باغ کو نشانہ بنانے میں اپنی جیت نظرآئی ،لیکن ایسا ہونہ سکا ۔
محترم مختار نقوی صاحب نے بیان دینے میں عجلت کا مظاہرہ کردیا ،اگر وہ منگل کودہلی اسمبلی انتحابات کے ظاہرہونے کے بعدمزید دوروز صبر کرلیتے تودہلی میںکراری شکست کے اسباب اپنے سنیئر لیڈراور ملک کے وزیرداخلہ اور ملک میں امن ونظم کے ’سیاہ وسفید‘کے مالک سمجھے جانے والے امت شاہ کی زبانی سن لیتے ،ورنہ اپنی زبان کو تکلیف نہیں دیتے تھے۔موصوف امت شاہ نے اسمبلی انتخابات کے نتائج کے دوروز بعد ہی اس بات کااعتراف کیا ہے کہ بی جے پی کوانتخابی مہم کے دوران اشتعال انگیز بیانات کا خمیازہ بھگتنا پڑا ،اوریہ اتفاق ہے کہ پہلی بار امت شاہ نے سچ کا دامن تھاما ہے اور امید ہے کہ وہ اس بیان سے مکرنہیں جائیں گے۔ورنہ ان کی ’کورنولوجی ‘سمجھنے میں تاخیر لگتی ہے اور بعض اوقات سمجھ میں بھی نہیں آتی ہے،جو انہوںنے سی اے اے ،این آرسی اور این پی آرکے تعلق سے بتائی تھی اور پھر حالات کی مجبوری کا شکاربن گئے۔اپنے ہی بیان کو جھٹلا دیا۔
حیرت انگیز طورپرامت جی نے یہ بھی قبول کیا کہ انتخابی مہم کے دوران ”گولی مارو “اور دہلی الیکشن کو ہندوستان بمقابلہ پاکستان میچ قرار دینے جیسے بیانات سے بھی بی جے پی کو نقصان پہنچا اور عوام سے دوری بھی ہوئی ہے۔دہلی کے رائے دہندگان نے بڑی خاموشی سے بی جے پی کو جواب دیا ہے، جوکہ شکست کی صورت میں ظاہر ہوا۔اس درمیان چند لیڈروںاور نیوز چینلوںکے ذریعہ دہلی کے عوام کو ’مفت خور‘کہے جانے کابھی بُرا اثر پڑا۔کیونکہ یہ دہلی کے عوام کی توہین تھی کہ محنتی اور باہمت دہلی کہ شہریوں کو مفت خورکہا جائے جوکئی کئی کلومیٹر کا سفرکرکے ملازمت اورکام دھندے کے لیے دہلی پہنچتے ہیں۔
واضح رہے کہ مرکزی وزیرمملکت برائے خزانہ انوراگ ٹھاکراور بی جے پی کے ایم پی کپل مشرا نے کے اشتعال انگیز بیانات نے بی جے پی کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی ،مودی کے نورنظرسمجھے جانے والے انوراگ ٹھاکرنے ایک انتخابی جلسہ میںنعرہ لگایا ”ملک کے غداروں کو۔ گولی ماروسا۔۔۔“جس نے نریندرمودی کے سب کا ساتھ ،سب کا وکاس اور سب کاوشواس کے نعرے کو خاک میں ملا کررکھ دیا۔ایم پی کپیل مشرا نے مزید دوقدم آگے بڑھائے اور دہلی کے انتخابات سے قبل اسے ہندوستان بمقابلہ پاکستان قرار دے دیا اور ان کا دعویٰ تھا کہ دہلی الیکشن میں پاکستان کو شکست ہوگی، انتخابی مہم کے دوران وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کو دہشت گرد بتایا گیا جبکہ اس معاملہ میں مرکزی وزیر پرکاش جاوڈیکر بھی پیچھے نہیں رہے اور کیجریوال کے دہشت گردہونے کے ثبوت تک ہونے کا سینہ ٹھونک کر دعویٰ کردیا۔سابق وزیراعلیٰ صاحب سنگھ ورما کے صاحبزادے پر جیسے الیکشن جیتنے کا بھوت سوار ہوگیا اور انہوںنے سی اے اے کے خلاف جاری شاہین باغ مظاہرے کے حوالے سے متنازعہ بیان دیا کہ شاہین باغ کے دھرنے میں بیٹھے مظاہرین اکثریتی فرقے کے گھروں میں گھس کر ان کی ماو ¿ں، بہنوں کی عزت لوٹیں گے اور دہلی میں کشمیر جیسے حالات پیدا کیے جارہے ہیں۔یہ بھی اتفاق ہے کہ جہاں انوراگ نے نے نعرے لگوائے ،اس حلقہ میں بی جے پی کو شکست سے دوچار ہونا پڑا ہے۔دہلی ہی نہیں ملک کے فرقہ وارانہ ماحول کو خراب کرنے کے لیے بی جے پی نے پوری طاقت جھونک دی تھی،لیکن محض آٹھ نشستوںپر اسے اکتفا کرنا پڑا ہے۔
حال تک بی جے پی کے قومی صدررہے ،امت شاہ کے اعترافی بیان کاذکر کیا گیا ہے ،نتائج کے بعد پہلی مرتبہ انہوں نے بی جے پی کے لیڈروں کے اشتعال انگیز ی اور فرقہ وارانہ نعروں کو اثر انداز ہونے کا ا عتراف کیا ہے، لیکن موصوف نے یہ نہیں بتایا کہ خود انہوںنے بھی الیکشن مہم کے دوران کس قسم کے بیانات دیے تھے ،نیوز چینلوں پر اس بیان کو مسلسل دوہرایا جارہا ہے کہ امت شاہ نے بابر پورکے انتخابی جلسہ میں رائے دہندگان سے التجا کی کہ وہ اے وی ایم کے بٹن کو اس قدر زور سے دبائیں کے شاہین باغ کے دھرنے پر بیٹھے لوگ کرنٹ محسوس کریں ۔اور مزیدفرمایا کہ مودی نے پورے ملک کو تبدیل کردیا ہے اوراگر انتخابات کے نتائج ان کے حق میں ہوئے شاہین باغ دوردورتک نظرنہیں آئے گااور یہ دعویٰ کیا کہ نتائج والے دن سے دہلی کانقشہ بدل جائے گا۔عجیب بات ہے کہ ایک جمہوری ملک کے وزیرداخلہ ہوتے ہوئے ان کی زبان ایسے بیانات کی بوچھار کرتی رہی ،انہیں ایسے بیانات سے احتراز کرنا چاہئیے تھا او مستقبل میں امید ہے کہ وہ اس پر عمل کریں گے ۔ایک وزیر داخلہ ہوتے ہوئے ،وہ اگراس قسم کے بیانات دیں گے تو دوسرے چھوٹے لیڈروںکو مزید تقویت ملے گی۔
گزشتہ دوسال کا جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آئے گی کہ اس عرصے میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو کئی ریاستوں میں اپنا اقتدارکھونا پڑا ہے ،ایسی کئی ریاستیں جہاں وہ اتحاد میں شامل ہے ،یا اکثریت نہ ہونے کے باوجودعلاقائی پارٹی سے مفاد پرستانہ اتحاد کرلیا ہے ،گوا اور ہریانہ اس کی تازہ مثالیں ہیں اور شمال مشرقی ریاتیوں میں بھی یہی کھیل کھیلا گیا ہے،جس کی فی الحال تفصیل میں نہیں جائیں گے۔چند ایک کو چھوڑکر ذرائع ابلاغ نے دبے لفظوں میں اعتراف کرلیا ہے کہ اس بار بھی الیکشن میں مودی کا جادونہیں چلا ہے ،انتخابی مہم کے آخری مرحلہ میں شخصیت کی بنیاد کے بجائے فرقہ واریت کو بڑھوادیا گیا اوررائے دہندگان کو مذہبی بنیاد پرتقسیم کرنے اور ان کے درمیان ایک پھوٹ ڈالنے کی کوشش کی گئی ،لیکن یہ حربہ ناکام رہا ہے۔ان کی یہ امید کہ دہلی کے رائے دہندگان 45حلقوںمیں ان کے حق میں ووٹ دیں گے اور ووٹوں کی گنتی کے دوران بھی اسی طرح کے بیانات سامنے آئے اور برقی نیوز چینل بھی کئی گھنٹے تک اس رومیں بہتے رہے۔لیکن یہ سچائی منگل کوسامنے آگئی کہ ووٹرس نے ترقی اور بہتر خدمات کے ساتھ ساتھ انہیں مہیاکرائی گئیں سہولیات کے حق میں فیصلہ دینے کی ٹھان لی تھی اور بڑی خاموشی سے انقلاب برپا کردیا،کیجریوال نے اسی لیے انقلاب زندہ باد کا نعرہ لگایا اور یہ انہوںنے دانستہ طورپر کیا ۔ بی جے پی کے پاﺅں تلے زمین کھسک گئی ہے ۔جو کہ ملک کی معیشیت کو درست اور ٹھیک ٹھاک کرنے کے بجائے فرقہ پرستی اور ہندو۔مسلم کا تنازع پیدا کرنے میں طاقت گنوارہی ہے۔دراصل بی جے پی لیڈرشپ یہ سمجھنے سے قاصر رہی تھی کہ رائے دہندگان نے اس بار پھر حکومت نوازی کے حق میں ووٹ دینے کا موڈبنالیا ہے۔ جس کی وجہ سے عام آدمی پارٹی اقتدار تک پہنچ گئی ہے۔دراصل بی جے پی نے دہلی کے لیے کوئی منصوبہ بندی نہیں کی تھی ،نہ وزیراعلیٰ کا چہرہ سامنے تھا،اس کے پالیسی سازوں نے صرف اور صرف شاہین باغ اور جامعہ ملیہ کو نشانہ بنانے کی کوشش کی اور دوسری اہم وجہ حد سے زیادہ خود اعتمادی ہے ،اس خوداعتمادی میں بی جے پی یہ سمجھ رہی ہے کہ عوام کو کمل کی جانب کھینچا ،آسان ہوچکا ہے ،لیکن اس نے ملک کے حالات سے چشم پوشی کی اور بے روزگاری، معاشی ترقی اور اتحاد وہم آہنگی کو بالائے طاق رکھ دیا۔دہلی اسمبلی انتخابات کے نتائج کو زیادہ دن نہیںگزرے ہیں ،لیکن گری راج سنگھ جیسے لیڈروںکی زبان قابو میں نظر نہیں آئی ہے اورانہوںنے دارالعلوم دیوبند کے تعلق سے جوبکواس کی ہے ،وہ ان کی بیمار ذہنیت کی عکاسی کرتی ہے ۔مودی اور امت شاہ کو ایسے اشتعال انگیزی کرنے والے اپنے لیڈروںکی زبان بندی کرنے کے ساتھ ساتھ ہوش کے ناخن لینا ہوگا ،کیونکہ بہار اور مغربی بنگال کے اسمبلی انتخابات 2020میں ہی ہونے ہیں اور دہلی کے اسمبلی الیکشن نتائج نے اپوزیشن کے حوصلہ بلند کردیئے ہیں ۔

javedjamaluddin@gmail.com
9867647741

Javed Jamaluddin,
 Editor In Chief ./HOD

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *