اردو اکادمی دہلی کے مشہور و معروف پروگرام نئے پرانے چراغ کا انعقاد

نئے پرانے چراغ کاانعقاداندھیروں کے خلاف مستحکم جدوجہد:شمیم حنفی
نئے لکھنے والوں کو یہ اسٹیج فراہم کرنااکادمی کا بڑا کارنامہ:ابن کنول
نئے پرانے چراغ کافی مقبول اورمشہورہے:شہپررسول
نئی دہلی:اردو اکادمی،دہلی کے زیراہتمام دہلی کے بزرگ اورجواں عمرقلم کاروں کاپانچ روزہ ادبی اجتماع نئے پرانے چراغ کا افتتاحی جلسہ قمر رئیس سلور جبلی ہال میں منعقد ہوا۔اپنی استقبالیہ تقریر میں اردواکادمی کے وائس چیئرمین اورمعروف شاعرپروفیسر شہپررسول نے کہا کہ نئے پرانے چراغ کا سلسلہ بہت پرانا ہے،اگلے سال اس پروگرام کے 25 برس مکمل ہوجائیں گے۔اس پروگرام کا مقصد نئے لوگوں کو اساتذہ اور بزرگوں کے سامنے ان کی تخلیق پیش کرانا ہے تاکہ بزرگ ادبا وشعرا کی سرپرستی میں نئے لوگ مہارت حاصل کرسکیں۔یہ پروگرام کافی مقبول اور مشہور ہے۔ ہمارے وزیراعلی ونائب وزیر اعلی کی اردو اکادمی پر خصوصی توجہ ہوتی ہے،ہم جو پروگرام مرتب کرتے ہیں انہیں وہ بڑی خوش اسلوبی کے ساتھ منظور کرتے ہیں۔ انھوں نے مہمان خصوصی اور مہمان اعزازی کا استقبال کرتے ہوئے کہا کہ آپ سب کو نئے پرانے چراغ کے اس افتتاحی اجلاس میں خوش آمدید کہتاہوں۔ مہمان اعزازی پروفیسر ابن کنول نے کہا کہ اس نئے پرانے چراغ کا انتظار ہر سال شدت کیساتھ نئے چراغوں کو ہوتا ہے۔ہر سال طلبہ وطالبات ہمارے پاس آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ میرا نام بھی بھیج دیاجائے۔نئے پرانے چراغ کا یہ چوبیسواں پروگرام ہے۔شاید ہی کوئی ایسا پروگرام ہو، جو چوبیس برس تک جاری رہتاہو۔چوبیس برس پہلے جو نئے چراغ تھے، وہ سب آج پرانے چراغ ہوچکے ہیں۔میں خود سامعین کی صف سے آج یہاں پہنچ گیاہوں حالاں کہ چوبیس برس پہلے میں خود نیا چراغ تھا۔اردو اکادمی نے نئے لکھنے والوں کو نئے پرانے چراغ کا اسٹیج فراہم کرکے بڑا کارنامہ انجام دیا ہے۔اردو اکادمی،دہلی کے سارے پروگرام سودمند اور معیاری ہوتے ہیں۔خوشی کی بات یہ ہے کہ اردو اکادمی کے ذمہ داران بڑے قابل اور ذمہ دار ہوتے ہیں،جو اچھے پروگرام کا انعقاد کراتے ہیں اور توازن واعتدال کے ساتھ اکادمی کو آگے بڑھاتے ہیں۔اس بدحال ہال کو بحال کرنے میں وائس چیئرمین اور اکادمی کے تمام ملازمین کی محنت شامل ہے۔
اردواکادمی کے سابق وائس چیئرمین پروفیسر خالد محمود نے کہا کہ اردو اکادمی،دہلی کے تمام کارنامے اہم ہیں۔اس کے علاوہ اکادمی کے تمام ملازمین بھی اہم ہیں۔بڑے خوش اخلاق اور معاون لوگ ہیں۔اکادمی کی تمام کامیابیوں کے پس پشت اکادمی کے ملازمین کا بڑا حصہ ہوتا ہے۔اس پروگرام کی جتنی بھی تعریف کی جائے وہ کم ہے۔نئے پرانے چراغ کے اس پروگرام میں تقریباً چار ساڑھے چار سو لوگ اپنی تخلیقات پیش کریں گے۔اس پروگرام کے افتتاحی جلسے میں بھی تمام ریسرچ اسکالرز کو شامل ہونا چاہئے۔یہاں تمام چراغ جلے ہوئے ہیں،سب روشن ہیں،اس پروگرام سے نئے لوگوں کا اعتماد بحال ہوتا ہے انہیں حوصلہ ملتا ہے۔سینئر لوگ اس پس وپیش میں ہوتے ہیں کہ کیا پتہ ہمارے بعد اردو ادب کا کیاہوگا لیکن یہاں بیٹھ کر انہیں بھی لگتا ہے کہ اردوادب مضبوط ہاتھوں میں ہے اور آئندہ بھی اردو ادب سے کسی کو مایوسی نہیں ہوگی۔

 

 

 

 

 

افتتاحی اجلاس کے مہمان خصوصی پروفیسر شمیم حنفی نے کہا کہ نئے پرانے چراغ پروگرام کی واقعی بہت شہرت ہے۔اکادمی میں آمد ورفت شروع سے ہے۔پرانی دہلی میں مجھے روحانی مسرت ملتی ہے،اکادمی اس لیے بھی مجھے پسند ہے کہ یہ پرانی دہلی میں ہے،یہ ایک جشن ہے میلہ ہے۔دہلی کی موجودہ حکومت نے تعلیم اور ثقافت کے میدان میں اردو اکادمی کے ذریعہ جس طرح کی بیداری پیدا کی ہے وہ قابل تعریف ہے۔منیش سسودیا کی بہت اہم خدمات ہیں۔اردو اکادمی جس پیمانے پر کام کررہی ہے،وہ غیر معمولی ہے۔فراغت کے باوجود اردو اکادمی بڑے اچھے کام کررہی ہے۔چراغ انسانوں کی خوبصورت ایجاد ہے،چراغ جلانے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ آپ اندھیرے کے خلاف جدوجہد کررہے ہیں، روشنی سے جو تقویت اور جو حوصلہ ملتا ہے وہ ناقابل فراموش ہے۔چراغ کی ایک خاص معنویت ہوتی ہے۔میں سمجھتاہوں کہ ایک چراغ بجھتا ہے تودو چراغ روشن ہوجاتے ہیں، پانچ روز تک آپ سینکڑوں شعرا سے کلام سنیں گے میں آپ کے حوصلے کی بھی داد دیتاہوں۔یہ ان پرانے چراغوں کی فیض رسانی ہے،جنہوں نے نئے چراغوں کے روشن کرنے کا یہ انتظام کیا ہے ۔ہمارے ملک کی تاریخ میں اردو ادب کا کردار بہت اہم ہے،ملک کی تعمیر وترقی کے لیے جو رول اردو ادب نے ادا کیا ہے دوسری زبان میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔اردو نے ایک عالمگیر چراغ جلا رکھا ہے۔ہماری اجتماعی اورتہذیبی زندگی میں اردو کاجو کردار رہاہے اس میں اکادمی بھی شامل ہے۔اردو کاچراغ آپ سب کی مشترکہ کوششوں سے روشن ہے۔پروگرام کی نظامت کرتے ہوئے ڈاکٹر شفیع ایوب نے کہا کہ نئے پرانے چراغ تاریخی پروگرام ہے ۔مجھے نہیں لگتا کہ ایسا اہم اور افرادی اعتبارسے اتنا بڑا پروگرام کسی اور زبان کی اکادمی کراتی ہو ۔اس پروگرام کا نام توگنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں درج ہوسکتا ہے ۔اس پروگرام کے انعقاد میں جو خلوص اورمحبت بزرگوں کی شامل رہی ہے وہ آج بھی روشن ہے ۔پروگرام کے آخر میں اردو اکادمی کے اسسٹنٹ سکریٹری مستحسن احمد نے مہمانان کرام اور سامعین کا شکریہ اداکیا۔نئے پرانے چراغ کے افتتاحی اجلاس کے بعد شام کو نئے پرانے چراغ کا پہلا مشاعرہ منعقد ہوا،جس کی صدارت معروف شاعر اورجامعہ ملیہ اسلامیہ کے سابق استاذ پروفیسرخالد محمودنے کی اور مشاعرے کی نظامت ڈاکٹررحمان مصورنے کی ۔نئے پرانے چراغ کے پہلے مشاعرے میں دہلی کے 60شعرانے اپنے کلام پیش کیے ۔ افتتاحی جلسے میں شہر کے معززین کے ساتھ ہی اکادمی کی گورننگ کونسل کے ممبران فرحان بیگ اور ڈاکٹروسیم راشد بھی شریک تھیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest