دہلی اقلیتی سروے کی حقیقت

نئی دہلی: مختلف اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا یہ رپورٹ چھاپ رہے ہیں کہ حکومت دہلی اقلیتوں یا صرف مسلمانوں کے بارے میں سروے کرارہی ہے یا یہ کہ اس نے دہلی اقلیتی کمیشن کو اس طرح کا سروے کرنے کا حکم دیا ہے کیونکہ صوبائی الیکشن جلد ہی آنے والا ہے۔
اس مسئلے کی وضاحت کرتے ہوئے دہلی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر ظفرالاسلام خان نے ایک صحافتی بیان میں کہا کہ ان کو اس بات کا علم نہیں ہے کہ حکومت دہلی اس قسم کا کوئی سروے کرا رہی ہے لیکن حکومت دہلی نے دہلی اقلیتی کمیشن سے اس طرح کا کوئی سروے کرانے کو بھی نہیں کہا ہے۔
ڈاکٹر ظفرالاسلام نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ دہلی اقلیتی کمیشن اپنے ۹۹۹۱ کے ایکٹ کے مطابق اقلیتوں کے مسائل کے حل کرنے، اقلیتوں کے حق میں اقدامات کرنے اور اس سلسلے میں حکومت دہلی کو مشورے دینے کا پوری طرح مجاز ہے تاکہ اقلیتوں کے ساتھ عادلانہ معاملہ کیا جائے۔ اس قانونی ضرورت کے تحت کمیشن ہر سال دہلی حکومت کے مختلف اداروں اور پبلک سیکٹر کمپنیوں سے ان میں کام کرنے والے اقلیتی افراد کے اعدادوشمار حاصل کرتا ہے اور ان کو اپنی سالانہ رپورٹ میں شائع کرتا ہے ۔ یہ رپورٹ حکومت دہلی کو پیش کی جاتی ہے اور دہلی اسمبلی میں بھی پیش ہوتی ہے۔پہلے ہم پندرہ ،سولہ اداروں سے اعداد وشمار حاصل کرکے بطور نمونہ ان کو پیش کرتے تھے لیکن اس سال ہم نے حکومت دہلی کے تمام اداروں اور صوبۂ دہلی میں کام کرنے والی تمام پبلک سیکٹر کمپنیوں کو خط لکھا کہ وہ اپنے یہاں کام کرنے والے اقلیتی افراد کے اعداد وشمار ہم کو روانہ کریں۔ کچھ اداروں کے الگ الگ شعبے یا ذیلی ادارے بھی ہیں۔ ایسے بعض اداروں نے اپنے ذیلی شعبوں اور اداروں سے اعداد وشمار حاصل کرکے ہمیں ایک مکمل لسٹ بھیجنے کے بجائے ان ذیلی شعبوں کو خط لکھ دیا کہ آپ بطور خود کمیشن کو اس بابت مطلع کردیں۔اس بات سے یہ نتیجہ نکال لیا گیا ہے کہ دہلی سرکار ایسا سروے کرا رہی ہے یا یہ کہ کمیشن دہلی سرکار کے حکم پر ایسا کر رہا ہے۔ڈاکٹر ظفرالاسلام خان نے بتایا کہ ایسے اعدادوشمار جمع کرنا کمیشن کا پرانا کام ہے جوکمیشن پوری آزادی کے ساتھ ہر سال کرتا ہے جس میں حکومت دہلی کا کوئی آرڈر یا دباؤ شامل نہیں ہے۔ ڈاکٹر ظفرالاسلام نے واضح کیا کہ کمیشن ایک آئینی اور خود مختار ادارہ ہے جو صرف اپنے ایکٹ کی روشنی میں کام کرتا ہے۔

(مضمون یا مراسلہ)

ہمارے نیتا اس شعر کو نہیں سمجھ سکے!

تو ادھر ادھر کی نہ بات کر، یہ بتا کہ قافلہ کیوں لٹا

مجھے رہزنوں سے گلہ نہیں، تری رہبری کا سوال ہے

پارلیمنٹ میں یہ شعر پڑھنے سے اعظم خان ، ایم پی رام پور، کی نیت اور منشا کے خلاف ایک بحث چھڑ گئی ہے۔ شہاب جعفری کا یہ شعر تقریباً ساٹھ سال پہلے مولانا ابوالکلام آزاد نے اس وقت کے وزیر اعظم جواہر لال نہرو کو مخاطب کرتے ہوئے پارلیمنٹ میں پڑھا تھا۔ اس کے بعد سے نہ جانے کتنی دفعہ اس شعر کو پارلیمنٹ اور اس کے باہر دہرایا گیاہے۔ اس شعر کا سیدھا سا مطلب یہ ہے کہ ادھر، ادھر کی بات کرنے کے بجائے سیدھے سیدھے بتاؤ کہ ہماری بربادی کا سبب کیا ہے ؛ ہم چوروں کو الزام نہیں دیتے بلکہ چوکیداروں کو ملزم گردانتے ہیں۔

لیکن آج کتنے شرم کی بات ہے کہ ہمارے نیتاؤں کی نئی نسل، جو ہندوستان کی قیادت کا دعویٰ کرتی ہے، گنگا جمنی تہذیب سے اتنی دور ہے کہ اردو کے ایک بہترین شعر کو سمجھنے اور اس کا لطف لینے سے عاری ہے۔ اسی لئے اعظم خان کے پارلیمنٹ میں اس شعر کو پڑھنے کے بعد وہ سارا وبال شروع ہوگیا جو نہ صرف بالکل غیر ضروری تھا بلکہ ہماری ثقافتی گراوٹ کا غماز بھی ہے۔

ڈاکٹر ظفرالاسلام خان

صدر دہلی اقلیتی کمیشن

From
Delhi Minorities Commission
Vikas Bhawan, C Block, 1st Floor,
I.P. Estate / ITO [opposite Delhi Police HQ],
New Delhi-110002
Tel.: 011-23370823, 9911142151
Email: dmc_nct@rediffmail.com, chair.dmc@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest