آئیے جانتے ہیں کہ دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کیجریوال پر اب تک کتنے حملے ہوئے ہیں

نئی دہلی:قومی راجدھانی دہلی کے وزیر اعلیٰ اور عام آدمی پارٹی کے کنوینر اروند کیجریوال پر گزشتہ روز دہلی سکریٹریٹ کے اندر ہی مرچ پاؤڈر سے حملہ کیا گیا، اس واقعہ کی جتنی مذمت کی جائے ، وہ کم ہے۔ آپ کو بتادیں کہ جب سے دہلی کی کمان عالی جناب اروند کیجریوال سنبھالے ہیں ، تب سے اب تک ان پر اس طرح کے کئی حملے ہوچکے ہیں، جو افسوسناک ہے۔ اس سے پہلے بھی ان پر انتخابی ریلی اور پریس کانفرنس کے دوران جوتے، چپل، سیاہی اور انڈوں سے حملہ ہو چکا ہے۔
وزیراعلیٰ پر کب کب ہوئے ہیں حملے؟
۱۸؍اکتوبر۲۰۱۱ء: لکھنؤ میں کیجریوال پر چپل پھینکی گئی، ۲۰۱۱ء میں لکھنؤ میں ایک اجلاس کے دوران ٹیم انا کے رکن نے اروند کیجریوال پر چپل سے حملہ کیا تھا۔
۲۰۱۳ء: اروند کیجریوال پر ایک شخص نے سیاہی پھینک کر حملہ کیا تھا، ملزم نے خود کو انا ہزارے کا حمایتی بتایا تھا۔
۵؍مارچ ۲۰۱۴ء:حیدرآباد میں کیجریوال کی گاڑی پر پتھر پھینکنے کا واقعہ، اس حملے میں کیجریوال بال بال بچ گئے ورنہ انہیں بڑی چوٹ بھی آ سکتی تھی۔
۲۵؍مارچ ۲۰۱۴ء:لوک سبھا انتخابات کے دوران وارانسی میں کیجریوال پر سیاہی اور انڈے پھینکے گئے۔
۲۸؍مارچ ۲۰۱۴ء:ہریانہ میں انا ہزارے کے ایک حامی نے کیجریوال تھپڑ مارا، انتخابی مہم کے دوران ہی کیجریوال کو ایک شخص نے تھپڑ مارا تھا۔
۴؍اپریل۲۰۱۴ء: دہلی میں ایک روڈ شو کے دوران کیجریوال کی پیٹھ پر ایک شخص نے مارنے کی کوشش کی، اگرچہ وہ شخص کامیاب نہیں ہو سکا تھا۔
۸؍اپریل۲۰۱۴ء: دہلی کے سلطانپوری میں ایک آٹو ڈرائیور نے کیجریوال کو تھپڑمارا، بعد میں کیجریوال اس کے گھر پھول بھی لے کر گئے تھے، وہ کیجریوال سے ناراض تھا اور اسی لیے وہ اس منانے گئے تھے۔
جنوری۲۰۱۶ء:میں عام آدمی سینا کی رکن بھاؤنا ارورہ نے کیجریوال پر سیاہی پھینکی تھی، یہ واقعہ اس وقت ہوا تھا جب پہلی بار دہلی میں طاق جفت فارمولہ نافذ ہوا تھا۔
۹؍اپریل۲۰۱۶ء: طاق جفت فارمولہ کے اسٹیکرز کو لے کراسٹنگ معاملے میں جوتاپھینکا۔ ملزم شخص کا نام وید پرکاش تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram