دردل کے واستے پیدا کیا انسان کو

فیروز عالم ندوی
معاون اڈیٹر ماہنامہ پیام سدرہ، چنئی

ہر مہذب معاشرہ اپنے لیے کچھ اصول طے کرتا ہے جن میں سرِ فہرست قانون کی بالا دستی ہے۔ اقوام عالم کے بڑے ممالک اپنی فلاح اور ترقی کا راز قانون کی بالادستی کو قرار دیتے ہیں۔ ہندوستان میں ابھی یہ سفر شاید شروع نہیں ہوا ہندوستان ایک ایسا ملک ہے جو آزاد اور متحدہ ریاست کی اپنی مختصر تاریخ میں بہت سارے سیاسی اتار چڑھاؤ سے گزرتے ہوئے آج بحرانوں کی لپیٹ میں ہے۔ یہ آج قانون کی بالا دستی، اداروں کی فعالیت اور گورننس جیسے موضوعات پر ہر طرح کے ابہام کا شکار ہے ۔

جب قانون کی بالا دستی کا ذکر ہوتا ہے تو صرف پولیس کچہری، میونسپلٹی یا سرکاری دفاتر کا رویہ یا ان محکموں کی طرف سے روا رکھے جانے والی تفاوت قانون کی بالادستی کا موضوع نہیں ہے۔ یہ صرف ایک پہلو ہے۔ قانون کی بالادستی ایک سوچ ہے جس کو ریاست اصول کے طور پر اپناتی ہے اور خود سے جڑے ہر شخص کو برابر حقوق دیتی ہے۔ اور برابری کے اصول کو ملحوظ رکھتے ہوئے اداروں کو ذمہ داریاں تفویض کرتی ہے۔ وہ حقوق اور برابری کی بنیاد پر وسائل کو منضبط کرتی ہے،  امارت اور غربت کی لکیر کو مٹاتی ہے، صحت تعلیم اور انصاف کی یکساں فراہمی بھی کرتی ہے ۔ بات کہنے کی یکساں آزادی اور بات سنے جانے کے یکساں مواقع بھی ان بنیادی حقوق میں آتے ہیں۔ اگر تفصیل اور گہرائی سے ان بنیادی آزادیوں کا مطالعہ کیا جائے تو شہری اور ریاست کا رشتہ ان آزادیوں کا احترام اور بنیادی حقوق کا تحفظ ہے!

انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے میں جن بنیادی آزادیوں کا ذکر ہے وہ سب ہی ہندوستان کے آئین میں تسلیم شدہ ہیں۔ ان بنیادی انسانی حقوق میں سیاسی حقوق بھی شامل ہیں، ہر شہری اپنے نظریے میں آزاد ہے اور کسی بھی سیاسی جماعت کی حمایت کر سکتا ہے۔

گزشتہ چند سالوں میں جس طرح سے تمام حکومتی اداروں پر قبضہ کیا گیا اور انہیں پوری طرح ایک نظریہ کہ تابع بنانے کی کوشش کی گئی یہ ہندوستانی قوم کے لیے انتہائی نقصان دہ تھا مگر لوگوں نے اس کا صحیح ادرٹ نہیں کیا، اس کے خلاف متحدہ طور پر نہیں کھڑے ہوئے۔ جب فاشسٹوں نے اپنے شطرنج کا مہرہ چل دیا تو مسلمان سڑکوں پر اتر آئے، آج ملک کے طول و عرض میں یہ قوم حکومت کی ناانصافی اور ان کے ظلم و زیادتی کے خلاف سینا سپر ہےجب کہ دوسری قومیں خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں حالانکہ وہ ماضی میں انتہائی مظلومیت کی شکار رہی ہیں اور مستقبل میں انھیں پھر سے مظلومیت کے اسی درجے میں لانے کا پلان ہے، مگر میدان میں صرف مسلمان ہی ہیں۔

جنگ آزادی میں مسلمانوں کی طرف سے دی جانے والی قربانیاں  سب سے زیادہ تھیں، انڈیا گیٹ (دہلی) اس کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ مسلمانوں نے یکطرفہ طور پر اور والہانہ انداز میں اس فریضہ کو انجام دیا تھا، اور یہ کیوں نہ کرتے کہ مسلمانوں کے عقیدے کا ایک اہم حصہ ہے کہ جہاں کہیں بھی ظلم دیکھیں اس کے خلاف کھڑے ہو جائیں۔ آج پھر سے ہم ایک بار اٹھ کھڑے ہوئے ہیں تو ہمیں اپنی لڑائی کو صرف چند باتوں پر منحصر کرنے کے بجائے اتنی وسعت دینی چاہیے کہ اس میں وہ تمام باتیں اور موضوعات شامل ہو جائیں جو اس ملک کو واقعی ایک جنت نشان بنا سکیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *