بے داغ تصویر کے لیڈر سابق مرکزی وزیراسلم شیر خان نے لکھاراہل گاندھی کو خط

کانگریس کو قوم پرستی سے دوبارہ شامل کرنے انتہائی ضروری ہے

نئی دہلی ، سابق مرکزی وزیر اُور ہاکی میں اولمپک میڈل حاصل کرنے والے اسلم شیر خان نے کانگریس قومی صدر راہل گاندھی کو ایک خط لکھا ہے ، جس میں انہوں نے کانگریس قومی صدر منتخب ہونے کی خوائش کا اظہار کیا ، نمائندہ سے گفتگو کر تے ہوئے اسلم نے کہا کہ میں اُس وقت کانگریس صدر کو خط لکھا ہے ، جب کانگریس ایک مرتبہ دوبارہ انتخابات میں ناکامیاب ہوئی ہے ،جب راہل گاندھی نے کہا کہ وہ پارٹی کے قومی صدر کے عہدے سے ہنا چاہتے ہیں، اُور کسی اور کو یہ ذمہ داری پر دیکھنا چاہتے ہیں، میں نے محسوس کیا کہ یہ ایک موقع ہے، اسلم شیر خان نے کہا کہ کانگریس کو اس وقت دلیری کی ضرورت ہے، کسی کو آگے بڈھنا چاہیے ، اس لیئے میں نے اُنہیں( راہل گاندھی ) خط لیکھا کہ اگر وہ پارٹی صدر بنے رہنا چاہتے ہیں، تووہ ایسا کر سکتے ہیں، لیکن اگر وہ ایسا نہیں کرنا چاہتے تو ان کے اس فیصلہ کا بھی احترام کرنا چاہئے ، انہوں نے کہا کہ اگر آپ نہروگاندھی خاندان سے باہر کا شخص چاہتے ہیں، تو مجھے موقع دیں کیونکہ کوئی آگے نہیں آرہا ہے، میں نے خط لیکھا ہے ، مجھے دو سال کے لئے یہ موقع دیں ، کانگریس کو قوم پرستی سے دوبارہ شامل کرنے انتہائی ضروری ہے،
واضح ہوکہ اسلم شیر خان نے 1972 سے1976 تک اولمپک میں ہاکی ٹیم میں رہ کر بھارت کو کئی تمغہ دلوایے، سال 1985سے 1989تک اُور1991سے 1996 تک بیتول (مدھیہ پردیش ) سے پارلیمنٹ پہنچے،وزیر اعظم پی وی نرسمہارائوحکومت میں مرکزی وزیر رہے،
سیاسی ماہر طارق فیضی ( بین الاقوامی جنرل سیکرٹری ، اُردو پریس کلب انٹر نیشنل، نئی دہلی)کا کہنا ہے کہ انتخابات ۲۰۱۹ میں جنوبی بھارت کے علاوہ ،شمالی بھارت کے لوگوں کو یہ احساس ہو اہے کہ ملک کے حصول نیشنل پارٹی کے ہاتھوں میں ہونا چاہئے ، ملک میں دو قومی جماعتیں موجود ہیں، ایک حکومت میں ایک اپوزیشن میں ہے، اسلم اُن لیڈروں میں سے ایک ہیں جن پر کوئی داغ نہیں ہے، جو کانگریس کو زمینی سطح پر مضبوط کر سکتے ہیں، کانگریس صدر راہل گاندھی کو اسلم کے خط پر غور کرنا چاہئے ،
سینئر صحافی خالد نسیم صدریقی کا کہنا ہے کہ اگر کانگریس صدر راہل گاندھی قیادت میں تبدیلی کی بات کرتی ہے، اُور نہرو گاندھی خاندان سے کسی کو بھی قومی صدر منتخب کرنا نہیں چا ہتی ،تواُن کے لئے اسلم ایک اختیار ہیں، کانگریس سابق میں بھی مولانا ابوالکلام آزاد کو بھی قومی صدر کی زمہ داری دے چکی ہے،
اُردو صحافی اظہر عمری کاکہنا ہے کہ موجودہ وقت میں اقلیتی برادری علاقائی جماعتوں سے ناپسندیدہ ہے، اُن کو اس بات کا علم ہو گیا ہے کہ اُن کی ترقی کانگریس یا حکمران جماعت ہی کر سکتی ہے، چھوٹی سیاسی جماعتیں ان کو خوف اُور بیوقوف بناکر اُن کا ووٹ حاصل کر رہی ہیں، اس سال انتخابی نتائج سے اقلیتی عوام نے علاقائی جماعتوں کو پیغام دیا ہے ، اگر اسلم کو قومی صدر کی زمہ داری دی گئی تو اقلیتی عوام کا کانگریس میں یقین مضبوط ہوگا،

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest