اب تمھارے حوالے وطن ساتھیوں ۔نوجوان قیادت ذندہ باد ْْ


جاویدجمال الدین
ہندوستان میں حال کے عرصہ میں کئی سیاسی پارٹیوں میں نوجوان لیڈرشپ ابھری ہے اور ان سیاستدانوںکا طلوع ہونا،ملک کے لیے ایک نیک شگون ہی کہا جاسکتا ہے ،کیونکہ ان کی اکثریت اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ اچھے بُرے کی سمجھ بھی رکھتی ہے۔ ان کی سرگرمیوں اور خدمات سے انہیں عوامی مقبولیت بھی حاصل ہورہی ہے۔جس سے ایک بات واضح ہوگئی ہے کہ ملک میں عوام نوجوان نئی نسل کی لیڈرشپ کو پسند کرتے ہیں اور ان سے اُمیدیں اور توقعات بھی وابستہ ہیں۔ملک کے سیاسی حالات کا جائزہ لیا جائے تومحسوس ہوگا کہ حال میں علاقائی اور چھوٹی پارٹیوں میںہی نہیں بلکہ کئی مقبول اور بڑی پارٹیوں میں بھی نئے چہرے سامنے آئے ہیں اور اعلیٰ عہدوں پر فائزہوئے ہیں ،ان کی ایک طویل فہرست ہے ،ان لیڈروں میں اپنے بل بوتے پر بھی شہرت ،عزت اور مقبولیت حاصل کی ہے،اور ایسے بھی نوجوان لیڈرہیں جنہیں وراثت میں سیاست ہاتھ لگی ہے۔ان میں وزیر اعلیٰ جھار کھنڈ ہیمنت سورین ،مہاراشٹر کے سب سے جوان وزیراور شیوسینا لیڈرادیتیہ ٹھاکرے اوراین سی پی کے سربراہ شردپوار کی صاحبزادی سپریا سُلے کا نام سرفہرست ہے ،ویسے اس فہرست میں حال میں ہریانہ کے نائب وزیراعلیٰ بنے دشینت چوٹالہ بھی شامل ہوچکے ہیں،جبکہ بہارمیں لالو پرساد کے صاحبزادے تیجسوی یادواور مرکزی وزیررام ولاس پاسوان کے بیٹے چراغ پاسوان ،آندھرا پردیش کے وزیراعلیٰ وائی ایس جگن موہن ریڈی ایک دہائی سے سیاست میں سرگرم اور کامیاب بھی ہیں۔
جھارکھنڈ میں حالیہ اسمبلی انتخابات میں جھاڑکھنڈمکتی مورچہ (جے ایم ایم ) نے،کانگریس کے ساتھ مل کر ہیمنت سورئن کی قیادت میں شاندار کامیابی حاصل کی ہے ،حالانکہ وہ دوسری مرتبہ وزیراعلیٰ بنے ہیں ،لیکن حال میں شاندار کامیابی حاصل کرکے دوبارہ ملک کی علاقائی سیاست میںابھرے ہیں۔ وہ پہلی بار 13 جولائی 2013ءتا 28 دسمبر 2014ءجھار کھنڈکے وزیر اعلیٰ رہ چکے ہیں اورپھر ایک بار جھارکھنڈ اسمبلی انتخابات میں جھار کھنڈ مکتی مورچہ اور کانگریس کے متحدہ ترقی پسند اتحادکے وزیر اعلی بن گئے ہیں۔ ہیمنت ایک بار پھر اُس وقت مقبول ہوئے جب 2016ءمیں جھار کھنڈ میں بھارتیہ جنٹا پارٹی(بی جے پی) کی حکومت نے چھوٹا ناگپور کرایہ دار اےکٹ اور سنتھل پرگنہ کرایہ دار ایکٹ میں ترمیم کرنے کا منصوبہ بنایا جس کی رو سے آدی واسی کی زمینوں کے کرایہ داروں کو زمین کو غیر کاشتکاری کے لیے استعمال کرنے کی اجازت ہو گی اور آدی واسیوں کی زمین کو سڑک، عمارت، نہر اور تعلیمی اداروں، ہسپتال اور دیگر سرکاری ضرورتوں کے لیے استعمال کیا جا سکے گا۔ حکومت کے اس فیصلہ کی وجہ سے حزب مخالف نے ریاست بھر میں احتجاج شروع کردیا اور ہیمنت سورین اس میں پیش پیش تھے۔2019کے آواخر میں وہ ایک بار پھر متحدہ محاذ کے وزیراعلیٰ مقررکردیئے گئے ہیں۔
اگر انتخابی سیاست کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلے گا کہ حال کے دنوں میں کئی نوجوان چہرے سیاست کے میدان میں سرگرم نظرآرہے ہیں،ان میں خواتین بھی پیش پیش ہیں ، ان میں نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی)کی ایم پی سپریا سُلے،رنجیتا رنجن اور ماہوا میتراقابل ذکر ہیں ،ان کی تقریر نے حکمراں پارٹی کی چولیں ہلادی تھیں۔حالانکہ انہوںنے سیاست میں کافی پہلے قدم رکھا ہے ،لیکن حال کے دنوںمیں لوک سبھا کے ایوان میں اپنی تقریروں اور مدلل بحث میں حصہ لیکر لیڈرشپ کی صلاحیت کو پیش کیا ہے۔جبکہ سپریاسُلے نے حال میں مہاراشٹرکی سیاست اور نئی حکومت کی تشکیل میں اہم رول اداکیا ہے ۔وہ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی ) کے سربراہ شردپوار کی اکلوتی صاحبزادی ہیں۔ لوک سبھا کے ایوان میںحال میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی شخصیت بن گئی ہیں۔لوک سبھاکے ایوان میں سوالات کرنے والے مہاراشٹرکے 6اراکین سمیت دس ممبران پارلیمنٹ کی فہرست میں شامل ہیں ،جنہوںنے لوک سبھا کے ایوان میں حکومت سے اس کی پالیسی کے تعلق سے موقعہ بموقعہ سوال کیے ہیں۔
سپریا سُلے بارہ متی سے تیسری مرتبہ لوک سبھا کے لیے منتخب ہوئی ہیں ،ایک بار راجیہ سبھا میں بھی رہی ہیں۔اعدادوشمار کے مطابق انہوںنے مئی اور دسمبر2019کے درمیان ایوان میں 167سوالات کیے اور 75بارمختلف بحث میں شریک بھی ہوئی ہیں۔سُلے نے حکومت سے متعددمسائل اور معاملات پر مسلسل سوالات کیے ہیں ،ان میں صحت عامہ،خواتین واطفال ،اقلیتوں کے مسائل اور ماحولیاتی معاملے بھی شامل ہیں۔سپریا سُلے ایوان میں وقفہ سوالات کے دوران سرگرم رہتی ہیں اور ان کا خیال ہے کہ کیونکہ ایک ایم پی کی حیثیت سے یہ ان کا فرض ہے کہ وہ حکومت سے عوامی مسائل پر سوالات کریں اور انہوںنے اپنا فرض بخوبی اداکرنے کی کوشش کی ہے۔سپریا سُلے ایک سرگرم اپوزیشن لیڈر ہیں اور انہوںنے حکومت سے مسلسل مختلف معاملات پر سوالات کیے ہیں۔ماضی میں لوک سبھا میں سپریا سُلے نے طلاق ثلاثہ بل پر سیرحاصل بحث کی ہے اور ان کی مدلل بحث کے سامنے بی جے پی اراکین کی فقرے بازی ٹک نہ سکی، بلکہ مختلف موقعوں پر انہوں نے بحث کے دوران لقمہ دینے والے اراکین کو ان کے انداز میں جواب بھی دیا ،اسی طرح جموںکشمیر سے 370ہٹائے جانے کے معاملات پر بھی ایوان میں انہوںنے اپنے خیالات عمدگی سے پیش کیے اور واضح کیا کہ کشمیری عوام کو ان کے حقوق سے محروم نہ کیا جائے بلکہ ہر طرح سے انہیں گلے لگایا جائے ۔بہار کے سیاستداں پپویادوکی اہلیہ کانگریس کی رنجیتا رنجن اور ٹی ایم سی ماہوا میتراکی طلاق ثلاثہ اور اقلیتی فرقہ کے مسائل پر بے باکی سے اظہار خیال کرنا ان کی کامیابی کی علامت ہے ،رنجیتا رنجن نے ایوان میں جس انداز میں بلاخوف وخطر اپنی بات رکھی ،وہ قابل ستائش ہے ،اہوں نے طلاق ثلاثہ پر ایسی دلیلیں پیش کیں کہ ایوان میں میزبجتی رہیں۔جبکہ ماہوامیترا کی ایک تقریر نے انہیں راتوںرات مشہور کردیا تھا ،انہوںنے بی جے پی اورفرقہ پرستوں کو بے باکی سے لتاڑا تھا۔ٹی ایم سی کی اس ممبرپارلیمنٹ نے اپنی تقریرمیں اردواشعار پیش کیے اور لوگوں کا دل جیت لیا۔
ہریانہ میں اکتوبر کے اسمبلی الیکشن میں بی جے پی کی کم نشستوں کی وجہ سے جن نائیک جنتاپارٹی(جے این جے پی) کے سربراہ دیشیانت چوٹالہ کو تقریباً دس نشستوں کی بنیاد پراقتدار میں شامل ہونے کا موقعہ ملااور آج وہ ہریانہ کے نائب وزیر اعلیٰ ہیں۔ وہ جن نائیک جنتا پارٹی کے سیاستدان ہیں۔ 2014 کے عام انتخابات میں وہ ہریانہ کے حصار سے لوک سبھا کے لئے منتخب ہوئے تھے۔ دیشیانت کو26 سال کی عمر میں سب سے کم عمر رکن اسمبلی بننے کا اعزاز حاصل ہے۔وہ اجے سنگھ چوٹالا کے بیٹے ہیں۔ جن نائیک جنتا پارٹی ،لوک دل سے نکالے جانے کے بعد تشکیل دی گئی تھی ،ان کے والداور دادا چوٹالہ بھی سیاست میں سرگرم رہے ہیں ،جبکہ پردادا چودھری دیوی لال ملک کے نائب وزیراعظم بھی تھے۔شمالی ہند میں دیشیانت چوٹالہ ایک نئی نسل کے لیڈر کی شکل میں ابھرے ہیں۔
مہاراشٹر میں ایک اور نوجوان ادیتیہ ٹھاکرے آج کل سرخیوں میں ہے،اور انہیں کم عمر وزیرہونے کا اعزاز بھی حاصل ہوگیا ہے ،شیوسینا کے بانی بال ٹھاکرے کے پوتے اور وزیراعلیٰ ادھوٹھاکرے کے صاحبزادے ادیتیہ،ٹھاکرے خاندان کے پہلے ایسے رکن ہیں جنہوںنے انتخابی سیاست میں حصہ لیا اور ممبئی کے ورلی اسمبلی حلقہ ¿ سے بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئے ہیں۔ ادیتیہ ٹھاکرے اپنے دادا کے دورسے سرگرم سیاست میں داخل ہوئے اور انہیں بعد میں یووا سینا کی ذمہ داری سونپ دی گئی ہے اب بھی وہ صدر نشین ہیں۔ یہ شیو سینا کے نوجوانوں کی شاخ ہے۔ادیتیہ ٹھاکرے ایک تعلیم یافتہ سیاست داں ہیں،انہوں نے اپنی اسکول کی تعلیم بامبے اسکوٹش اسکول میں مکمل کی۔ بعد ازاں انہوں نے بی اے کے لیے سینٹ زیوئرس کالج، ممبئی میں داخلہ لیا،مشہور کے سی کالج سے پوسٹ گریجویشن لا کالج سے کیا اور ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی ہے۔
غالباً2007ءمیں انہوں نے اپنی شاعری کا مجموعہ ”مائی تھوٹز ان وائٹ اینڈ بلیک“ (میرے خیالات سیاہ و سفید میں) شائع کی۔ اگلے سال انہوں نے نغمہ نگاری میں طب آزمائی کی اور ایک البم بنام ’امید‘ جاری کیا۔ انہوں نے اس البم آٹھوں نغمے خود لکھے تھے۔زمانہ طالبعلمی میں وہ اسٹوڈنٹ یونین کی سرگرمیوںمیں شریک ہوگئے ،2010ءمیں ممبئی یونیورسٹی کی قابل مطالعہ کتابوں کی فہرست میں روہنٹن مستری کی کتاب’ سچ ا لانگ جرنی‘ کورس میںشامل کی گئی ،جس میں مصنف نے ٹھاکرے خاندان اور مراٹھی لوگوں کے خلاف جم کر لکھاگیا ہے اور گھٹیا زبان کا استعمال کیا گیاہے۔ مصنف نے مراٹھیوں کو اپنی کتاب میں خوب لتاڑا ہے۔ ممبئی یونیورسٹی کی ریڈنگ لسٹ میں اس کتاب کی شمولیت کے خلاف آدتیہ ٹھاکرے نے زبردست احتجاج کیا اور کتاب کو نذر آتش کر دیا۔تب سے انہیں شہرت حاصل ہوئی ۔اور آج وہ مہاراشٹر کی کابینہ میں شامل کیے گئے ہیں۔ کانگریس اور این سی پی کے ساتھ مہاوکاس اگھاڑی (ایم وی اے) کی تشکیل اور حکومت سازی کے لیے انہوںنے کافی محنت کی اور ان کی حکمت عملی کے نتیجے میں تینوں پارٹیاں نزدیک آئی ہیں ۔جس کے سبب ریاست میں سہ رخی محاذ کی حکومت بن سکی ،جن کے نظریات اور اصول مختلف ہیں ،لیکن حال کے دنوں میں یہ دیکھا گیا ہے کہ ادیتیہ ٹھاکرے کی سربراہی میں شیوسینا نے ایک نئی راہ اپنائی ہے۔جو مساوات کی مثال بن سکتی ہے۔
اسی طرح۔کانگریس اور این سی پی میں بھی کئی نئے اور نوجوان لیڈر اپنی کامیابی کو درج کرا چکے ہیں ،آنجہانی ولاس راو ¿ کے صاحبزادہ امیت دیشمکھ بھی شامل ہیں ،تیسری مرتبہ ملاڈ اسمبلی حلقہ سے کامیاب ہوئے اسلم شیخ کو بھی ادھو ٹھاکرے کی کابینہ میں داخلہ۔مل گیا ہے،جنھیں فائر برانڈ لیڈر کیاجاتا ہے۔مہاراشٹر میں ہوئے حالیہ اسمبلی انتخابات میں شردپوار کی قیادت میں نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) ریاست کی ایک بڑی سیاسی طاقت بن کر ابھری ہے۔اس درمیان این سی پی کی صف سے ایک سیاستدان نواب ملک کو بھی ریاستی ہی نہیں قومی سطح پر اپنی حیثیت اور شناخت بنانے میں زبردست کامیابی ملی ہے۔نواب ملک ایک بار پھرٹرامبے اسمبلی حلقہ سے این سی پی کی ٹکٹ پر کامیاب ہوئے ہیں۔ریاستی اسمبلی انتخابات سے قبل سیاسی اتھل پتھل۔اور دل بدلنے کے دور میں پارٹی کے ممبئی صدر سچن اہیر پارٹی چھوڑ کر شیوسینا میں شامل ہوگئے۔تب شردپوار نے انہیں ممبئی این سی پی کا صدر نامزد کردیا اور حالیہ سیاسی بحران میں نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے قومی ترجمان بھی بن کرابھرے ہیںاور انہیں اقلیتی امور کی وزارت سونپی گئی۔
نواب ملک نے ممبئی میں تعلیم حاصل کی اورپہلی بار 1996 میں سماج وادی پارٹی کے امیدوار کی حیثیت سے ضمنی الیکشن جیت بلیا،اس کے بعد نواب ملک این سی پی میں شامل ہوگئے اور تین مرتبہ 1996,1999 اور 2004 میں نہرونگر اسمبلی حلقہ سے کامیاب ہوئے ،2009 میں وہ ایک بار پھر انوشکتی نگر سے کامیاب ہوگئے ،2014 کے اسمبلی انتخابات میں مودی لہر کا وہ بھی شکار بن گئے ،لیکن اس مرتبہ انہوں نے پھر ٹرامبے حلقہ سے کامیابی حاصل کرنے کامیاب ہوچکے ہیں اور اس کے ساتھ ہی ان کا سیاسی قد بڑھ گیا۔نواب ملک نے کانگریس پارٹی سے اپنے سیاسی کرئیر کا آغاز کیا ،لیکن پھر سماج وادی پارٹی میں شمولیت اختیار کی اور ضمنی الیکشن۔میں شیوسینا کے قدآور کو شکست دی۔ایس پی لیڈرشپ سے اختلاف پیدا ہوا اور وہ این سی پی سے وابستہ ہوگئے ،جہاں ترقی اور کامرانی نے ان کے قدم چوم لیے۔1999 میں کانگریس اور این سی پی اتحادی حکومت میں وزیر ہاو ¿سنگ بنائے گئے لیکن کسی وجہ سے چند ماہ میں مستعفی ہوگئے۔شردپوار نے ان۔کی سیاسی بصیرت اور قابلیت کوتاڑ لیا اور انہیں این سی پی کا ترجمان مقرر کیا گیا،کیونکہ وہ اردو ،ہندی ،مراٹھی اور انگریزی پر عبور رکھتے ہیں۔پوار کے خیال میں ان میں ایک بہترین۔لیڈر بننے کی صلاحیت پائی جاتی ہے۔اور ایک ترجمان کی حیثیت سے وہ بھر پور انداز میں اپنی بات کرتے ہیں۔اس بار ان کی صلاحیت اور قابلیت کو شردپوار نے محسوس کیا اور اپنی سرپرستی میں آگے بڑھانے میں مدد کی اور ایک بہتر انداز میں نواب ملک نے خود کو پیش کیا ہے۔سیاسی بحران کے دوران ثابت قدم رہے،اورفی الحال نواب ملک کی سیاسی ترقی اور کامرانی قابل دید ہے۔ کیونکہ انہیں ادھو کابینہ میں شامل کرلیا ہے۔امکان ہے کہ ملک اور ریاست میں مستقبل میں مذکورہ لیڈران سیاسی افق پر مزید ترقی کریںگے اور ملک وقوم اور ملت کی ترقی اور کامرانی پر توجہ دیں گے۔
javedjamaluddin@gmail.com
9867647741
Attachments area

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *