کیسےکیا جائےذیابیطس پر کنٹرول؟

ایک عالمی سروے رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ دنیا بھر میں گردوں کے مریضوں کی تعداد بڑھنےکی ایک بڑی وجہ ذیابیطس اور موٹاپے کا مرض ہے۔ اسی لیے خون میں شکر کی مقدار کو سختی سے کنٹرول کرکے پوری دنیا میں گردوں کے مرض کے بوجھ کو کم کیا جاسکتا ہے۔اس وقت ذیابیطس کی وجہ سے لاکھوں مریض گردوں کی ایک شدید مرض کے شکار ہیں جسے اینڈ اسٹیج کڈنی ڈیزیز (ای ایس کے ڈی) کہا جاتا ہے اور 2030 میں پوری دنیا میں اس کے مریضوں کی تعداد 14 کروڑ 50 لاکھ تک جاپہنچے گی لیکن افسوس یہ کہ ان میں سے صرف 55 لاکھ مریضوں کو ہی طبی سہولیات فراہم ہوسکیں گی جس کی وجہ غربت، ڈاکٹروں اور ہسپتال کی کمی، لاعلمی اور لاپرواہی ہے کیونکہ مریضوں کی اکثریت کا تعلق غریب ممالک سے ہوگا۔کم آمدنی والے ممالک میں ای ایس کے ڈی کے صرف 4 فیصد مریض ہی اپنا علاج کراپاتے ہیں کیونکہ سرکاری طور پر اتنے مہنگے علاج کی کوئی سہولت فراہم نہیں کی جاتی اور نجی ہسپتالوں میں اس کا علاج بہت مہنگا ہے۔اس وقت دنیا میں 16 کروڑ لوگ ایسے ہیں جنہیں ٹائپ ٹو ذیابیطس کے بعد ہی گردوں کا مرض لاحق ہوا ہے اور اگر خون میں شکر کی مقدار کو برقرار رکھا جائے تو اس سے مرض میں ایک تہائی کمی کی جاسکتی ہے اور اموات کو بھی کم کیا جاسکتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest