تعلیم چیلنجز کا سامناکرنے کے لایق بناتی ہے:منوج جہاں

نئی دہلی ۔ یوپی رابطہ کمیٹی بہ اشتراک سید حامد فاؤنڈیشن کے صوبائی تعلیمی کارواں کی اختتامی تقریب میں مہمان خصوصی کے طور پر خطاب کرتے ہوئے راجیہ سبھا میں آر جے ڈی کے نمائندے منوج جہاں نے موجودہ حالات میں تعلیمی کارواں نکالے جانے کو انتہائی ضروری بتاتے ہوئے کہا کہ تعلیم ایسی ہونی چاہئے جو موجودہ چیلنجزکا سامنا کرنے کے لائق بنانے کے ساتھ قومی یکجہتی کے جذبہ کو فروغ دینے کے ساتھ انسان کو سوچنے، سوال پوچھنے اور دلیل کی بنیاد پر ان کا حل تلاش نے کے لائق بنائے والی ہو ۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی ڈایورسٹی ہی اس کی طاقت ہے ۔ اس کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے ۔ یوپی رابطہ کمیٹی کے جنرل سکریٹری امان الله خان نے کارواں کے کامیابی کے ساتھ اپنا دورہ مکمل کرنے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس کے ذریعہ ملک میں تعلیم اور یکجہتی کا ماحول بنانا چاہتے ہیں جس میں کامیابی ملی ہے ۔ لوگ اس طرف متوجہ ہوئے ہیں اس کے آئندہ اچھے نتائج برآمد ہوں گے ۔

اس موقع پر مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے سابق پرو وائس چانسلر خواجہ شاہد نے تعلیمی کارواں کی کارکردگی پر روشنی ڈالی جبکہ عبدالرشید انصاری نے کارواں کے رفقاء کا تعارف کرایا ۔
تقریب میں شامل علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سابق پرو وائس چانسلر بریگیڈیئر احمد علی نے کہا کہ کئی لوگ تعصب کو تعلیم سے دوری کا بہانہ بناتے ہیں جبکہ تعصب ان کے ساتھ ہوتا ہے جو کمزور ہوتے ہیں ۔ تعلیم کا سیدھا تعلق معیشت سے ہے ۔ جو تعلیم میں ایکسی لینس پر فوکس نہیں کرتے ان کے لئے چھوٹے موٹے کاموں کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں بچتا۔

ڈاکٹر سید فاروق ڈائرکٹر ہمالیہ ڈرگس نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم کے تین جزو ہیں ایک آرٹ آف ایکسلریشن دوسرا آرٹ آفارنگ اور تیسرا آرٹ آف لیونگ ۔ ان تینوں ہی پہلوؤں میں قرآن رہنمائی کرتا ہے وہ بات کرنے کا سلیقہ سکھاتا ہے ۔ کمانے کے اصول بتاتا ہے حرام اور مال مفت سے بچاتا ہے ۔ اور رہنے کے آداب سے واقف کراتا ہے ۔ پہلے مدرسہ کا مطلب اسکول ہی تھا اب اس کو مذہبی ادارہ سمجھا جاتا ہے ۔ پروگرام میں موجود ممدوہا ماجد نے خواتین کی تعلیم پر خصوصی توجہ دینے پر زور دیتے ہوئے کارواں میں خواتین کو شامل کرنے کی تجویز پیش کی۔ پروفیسر زبیر مینائی شعبہ سوشل ورک جامعہ ملیہ اسلامیہ نے ارلی چائلڈ ایجوکیشن پر خاص توجہ دینے کی بات کہتے ہوئے بتایا کہ بچے کی نشونما کے لئے پہلے تین سال بہت اہم ہوتے ہیں۔ تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ جن بچوں پر ان ایام میں دھیان دیا گیا ہے ان کی کارکردگی25 فیصد زیادہ بہتر رہی ہے۔ ملیشیاء سے آئے طارق اعظم صاحب نے دنیا میں بہتر اسکولی تعلیم کے لئے مشہور سنگاپور کے تعلیمی نظام کی خوبیوں کو شیئر کیا ۔ الیاس صیفی صاحب نے شرکا کا شکریہ ادا کیا جبکہ مظفر علی صاحب نے نظامت کے فرائض انجام دیئے ۔ اس موقع پر کلیم الحفیظ صاحب کی کتاب تعلیم سے ہی تصویر بدلے گی کا رسم اجراء عمل میں آیا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest