ملک کے مختلف حصوں میں کڑاکے کی سردی، آمدورفت متاثر، کئی ٹرینیں کینسل

نئی دہلی: گزشتہ چند دنوں سے ملک کے مختلف حصوں سے کڑاکے کی سردی سےمتعلق خبریں آ رہی ہیں۔عام زندگی متاثر ہوکر رہ گئی ہے۔ ٹرینوں کی آمد ورفت بھی متاثر ہوگئی ہے۔ کئی ٹرینیں رد کردی گئی ہیں۔ مسافروں کو کافی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ آنے جانے میں لوگوں کو پریشانی ہورہی ہے۔ یہ سلسلہ بڑھتا جا رہا ہے اور اب اس میں ملک کے کسی مخصوص خطے کی قیدبھی نہیں رہ گئی ہے۔ شمال ، جنوب اور مغرب ہر سمت سردی کا راج ہے۔ ملک کی راجدھانی دہلی میں منگل کی صبح کہرا چھایا رہا اور شہریوں کو شدید سردی کا سامنا کرنا پڑا ۔یہاں کم از کم درجۂ حرارت چار ڈگری تھا، جو موسم کے اوسط کے لحاظ سے تین ڈگری نیچے ہے۔ صبح ساڑھے ۸؍ بجے نمی کی سطح ۱۰۰؍ فیصد رہی۔ حالانکہ دن چڑھنے کے ساتھ دھوپ نکلی اور لوگوں کو کچھ راحت ملی۔ دہلی میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت ۲۲؍ ڈگری کے آس پاس رہنے کا اندازہ ہے۔ پیر کو، زیادہ سے زیادہ درجۂ حرارت ۲۲ء۰۲؍ ڈگری میں درج کیا گیا، جو معمول سے تین ڈگری زیادہ ہے۔
اسی طرح راجستھان میں سرد لہر کا قہر جاری ہے۔ یہاں ضلع سیکر میں فتح پور اور ضلع سروہی کے سیاحتی مقام ماؤنٹ آبو میں درجۂ حرارت نقطۂ انجماد سے کم درج کیا گیا ہے۔ ریاست میں عوام نے سخت ٹھنڈ میں نئے سال کا استقبال کیا۔ اس دوران فتح پور اور ماؤنٹ آبو میں درجہ ٔ حرارت منفی ۰ء۰۵؍ ڈگری درج کیا گیاجبکہ ریاست کے کئی مقامات پر درجۂ حرارت پانچ ڈگری سے کم رہا۔ حالانکہ راجدھانی جے پورمیں درجۂ حرارت۵ء۰۶؍ ڈگری ریکارڈ کیا گیا۔ ادھر جنوبی ریاست تلنگانہ میں منگل کو ناقابل برداشت سردی رہی کیونکہ ریاست کے بیشتر حصوں میں درجۂ حررات معمول سے کم رہا۔ عادل آباد ضلع میں گزشتہ روز درجہ حررات ۵؍ ڈگری رہا جو حالیہ برسوں میں سب سے کم ہے۔ شمالی ہند سے آنے والی سرد ہواؤں کے سبب گزشتہ چنددنوں سے عوام کو مشکلات کا سامناکرنا پڑ رہا ہے۔ معمر افراد گرم کپڑے پہن کر گھروں میں ہی محدود ہونے پر مجبور ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest