قطعات

شریفوں کی زباں سے آدمی عزت ہی پاتا ہے
رزیلوں کی زباں ایسی جسے سن کر ہی دم نکلے
مجھے بند گوبھی لینے میں عجب وحشت سی ہوتی ہے
یہ وردی والا اس کو کیا پتا کس وقت بم کہہ دے
۔۔۔۔۔۔۔۔
کار آمد جس کو کہتے تھے وہ اب ناکام ہے
چیز جو انمول تھی اس پہ بھی لکھا دام ہے
کیجئے گا اب بھروسہ کس پہ یہ بتلائیے
سی بی آئی پر بھی رشوت لینے کا الزام ہے
۔۔۔۔۔۔۔
عدالت سے کہا یہ ای وی ایم نے
ہم اپنے ملک میں ہیں پانی پانی
ہمارے ساتھ بھی انصاف کرنا
یہ نیتا کررہے ہیں چھیڑ خانی
۔۔۔۔۔۔۔۔
کسی کو تیل پڑھ کر دے دیا ہے
کسی کے گھر پلیتہ جل رہا ہے
کرشمہ مولوی صاحب کا دیکھیں
بنا پونجی کے دھندہ چل رہا ہے
۔۔۔۔۔۔
خواب میں رام نے کہا مجھ سے
بینگ کی طرح ٹرٹراتے ہیں
چند لیڈر ہیں ،ہم جنہیں اے چونچ
بس الیکشن پہ یاد آتے ہیں
۔۔۔۔
اپنے بیٹے سے باپ نے یہ کہا
میری باتوں کو ٹال مت دینا
سب تمہارے ہی نام کردوں مگر
مجھ کو گھر سے نکال مت دینا
۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنی بیٹی سے باپ نے یہ کہا
مجھ کو الجھن میں ڈال مت دینا
لکھنے پڑھنے تو جارہی ہومگر
میری پگڑی اچھال مت دینا
۔۔۔۔۔۔۔۔
کوئی رنج و الم نہیں ہوتا
جیل جانے کا غم نہیں ہوتا
گھومتا ہے گدھے پہ وہ پھر بھی
جذبہء عشق کم نہیں ہوتا
۔۔۔۔۔۔
ہے بس انیس ابھی انتظار کا موسم
پھر اس کے بعد دیکھنا بہار کا موسم
ریاستوں کے نتائج سے صاف ظاہر ہے
گذر چکا ہے عجب ترے اعتبار کا موسم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پرائے دیس سے ہرگز وہ کالا دھن نہ لائیں گے
ہمیں اور آپ کو یونہی سدا الو بنائیں گے
کہا بچے نے سنئے چونچ انکل کہہ رہا ہوں میں
ابھی دو تین برسوں تک وہ اچھے دن نہ آئیں گے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چونچ گیاوی
chonchgayavi12@gmail.com
Mob.8507854206/9334754862

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest