غزل

گلیوں میں مرے پیار کا چرچا بھی نہیں ہے
تم بھول گئے ہو مجھے ایسا بھی نہیں ہے

یہ بات الگ ہے کہ خفا مجھ سے ہوئے ہو
رشتہ تو ابھی پیار کا ٹوٹا بھی نہیں ہے

غیروں کی عداوت کا گلہ کس سے میں کروں
اپنوں نے کبھی پیار سے دیکھا بھی نہیں ہے

میرے دلِ مضطر کو قرار آئے تو کیسے
آنسو مری آنکھوں کا تو سوکھا بھی نہیں ہے

کس طرح اسے راز مرے دل کا ملا ہے
میں نے تو اسے خط کبھی لکھا بھی نہیں ہے

رہبر ؔ وہ دل وجاں سے مجھے چاہ رہا ہے
کیا بات ہے وہ جب مرا اپنا بھی نہیں ہے
٭٭٭
رہبر ؔگیاوی
آبگلہ،گیا بہار
موبائل نمبر8507854206

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest