چنئی میں فن شاعری پر اصغر ویلوری کا توسیعی خطبہ

بزمِ اردو،شعبہ اردو، نیو کالج چینئی کے زیرِ اہتمام فن شاعری پر اصغر ویلوری کا توسیعی خطبہ
چینئی (س ح ن) بزمِ اردو،شعبہ اردو، نیو کالج چینئی کے زیرِ اہتمام اپنی نوعیت کا ایک منفرد پروگرام بعنوان ’’شاعر سے ملاقات‘‘ کا انعقاد بتاریخ 26 فروری 2020 کوبخاری ہال نیوکالج میں ہوا، جس میں ریاستِ تمل ناڈو کی مایہ ناز ادبی شخصیت، مشہور و معروف رباعی گو شاعر جناب اصغر ویلوری صاحب نے طلباء عزیز کے سامنے’’ فنِ شاعری ‘‘پر ایک توسیعی خطبہ پیش فرمایا۔
اس پروگرام کی نظامت بزمِ اردو کے نائب صدر پروفیسر سید باقر عباس نے کی جبکہ نیوکالج کے پرنسپل ڈاکٹر عبدالجبار صاحب نے صدارت کے فرائض انجام دیا۔ پروگرام کا آغازبی اے اردو سال دوم کے طالب علم عزیزم اسررا لحق کی تلاوت کلام پاک سے ہوا اور بی اے اردو سال اول کے طالب علم عزیزم سید اکبر حسین نے نبی کریم کی شان اقدس میں نذرانہ عقیدت پیش کیا۔شعبہ اردو، نیوکالج کے صدر شعبہ ڈاکٹرطیب علی خرادی نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے فرمایاکہ ’’ یہ ہمارے لیے خوش قسمتی کی بات ہے کہ آج ہمارے مابین ایسی شخصیت تشریف فرما ہیں جنہوں نے ریلوے محکمہ میں ملازمت کرتے ہوئے ،اردو شاعری میں بڑا مقام پیدا کیا ہے۔ رباعی گو شعرا میں آپ کامقام کافی بلند ہے۔ انہوں نے طلباء کو مخاطب کرتے کہاکہ’’طلباء کے لیے یہ پروگرام بہت خاص ہے۔ اس لیے کہ یہ پہلا موقع ہے کہ جب طلباء براہ راست اس شخصیت سے ملاقات کررہے ہیں جن کے اشعار ان کے نصاب میں شامل ہے۔ ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ آپ مصنف اور شاعر سے بذات خود ملاقات کریں۔
نیوکالج کے پرنسپل ڈاکٹر عبد الجبار صاحب نے اپنے صدارتی خطاب میں فرمایا کہ : ’’ میںاس پروگرام کے انعقاد کے لیے صدر شعبہ اردو ڈاکٹر طیب علی خرادی اور شعبہ اردو کے اساتذہ کو مبارک پیش کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ وہ اس طرح کے ٹیکنکل پروگرام کرتے رہیں گے، یہ پروگرام طلبا کے لیے خاص ہے جس میں فن شاعری کے متعلق مہمان خصوصی جنا ب اصغر ویلوری صاحب توسیعی خطبہ پیش کریںگے اور وہ طلباء کو یہ سمجھانے کی کوشش کریں گے کہ شاعری کیسے کی جاتی ہے؟ اور شاعری کے مختلف اصناف کے درمیان کیا فرق ہے؟ ہم کس طرح شاعری کے مختلف اصناف کو پہچان سکتے ہیں؟ اس طرح کی بہت سی اہم باتیں وہ پیش کریںگے اور امید کرتاہوں کہ طلباا س سے مکمل طور پرفائدہ فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے۔
پروگرام کے مہمان خصوصی اور تمل ناڈو کے مشہور رباعی گو شاعر اصغر ویلوری نے طلباء کو فن شاعری کے اہم اصناف خصوصا غزل، نظم، رباعی، قطعہ، قصیدہ اور مرثیہ کے درمیان فرق بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اردو کے دو اہم فنون ہیں ایک فن نثر اور دوسری فن شاعری ہے۔ پھر شاعری کی مختلف قسمیںہیں جیسے، نظم، غزل، رباعی، قطعہ،مرثیہ اور قصیدہ۔نظم کی شاعری میں تسلسل پایا جاتا ہے جبکہ غزل کا ہر ایک شعر میں الگ موضوع ہوسکتا ہے نیز غزل لمبی اور چھوٹی دونوں بحروں میں کہی جاسکتی ہے۔ رباعی کے تعلق سے انہوں نے کہاکہ رباعی بڑی مشکل صنف ہے،کیوں کہ اس کا ایک خاص وزن ہوتاہے، جیسے ’’لاحول ولا قوۃ‘‘ یہ رباعی کا وزن ہے۔ اگر اس وزن سے کوئی شعر ہٹ گیا تو وہ رباعی نہیں ہوگا۔ رباعی اور قطعہ میں فرق یہ ہے کہ قطعہ کا کوئی خاص وزن نہیں ہوتا اور اس کی بحر لمبی بھی ہوسکتی ہے لیکن رباعی کے خاص وزن متعین ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے مرثیہ ، قصیدہ اور دیگر اصناف کے درمیان بھی فرق کو واضح کیا۔
مہمان اعزازی جناب امتیاز احمد صاحب نے طلباء سے خطا ب کرتے ہوئے فرمایا کہ:’’ میں بھی آپ ہی کی طرح اس کالج کا قدیم طالب علم ہوں، آپ سے صرف میں یہی کہنا چاہتاہوں کہ آپ تعلیم کے ساتھ ساتھ دیگر میدانوں میں بھی حصہ لیکر کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کریں، اپنے وقت کو قیمتی بنانے کی کوشش کریں۔
اس پروگرام میں شعبہ اردو کے طلباء اور اساتذہ کے علاوہ دیگر شعبوں کے طلباء اور اساتذہ نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی۔ شعبہ اردو نیوکالج طلباء کے سکریٹری نائکر عبد الرحمان نے جملہ مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور اسی کے ساتھ یہ پروگرام اختتام پذیر ہوا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *