غیر فعال سیاست میں دعوتی مواقع

فیروز عالم ندوی
معاون ایڈیٹر ماہنامہ پیام سدرہ، چنئی
ہندوستان آزادی کے ساتھ دو حصوں میں تقسیم ہوا، بہت کوششوں کے باوجود بھی اس تقسیم کو روکا نہ جا سکا، کیونکہ دونوں قوموں میں موجود چند قد آور لیڈروں کے مفادات اس سے وابستہ تھے ۔ بہرحال تقدیر کا لکھا پورا ہوا اور مسلم قوم پہلے دو اور پھر تین حصوں میں تقسیم ہوئی۔ بھارت سے زیادہ تر مسلمان اصحاب علم و فن اور متمول حضرات ہجرت کر کے پاکستان چلے گئے۔ یہاں جو تعداد بچی اس کی اکثریت مفلوک الحال اور ناخواندہ لوگوں کی تھی۔ وقت کا پہیہ گھوما اور دھیرے دھیرے ماضی کے زخم بھرنے شروع ہوئے، ساتھ ہی ساتھ نئے زخم بھی لگتے رہے، گرتے پڑتے اور لڑکھڑاتے ہوئے آزادی کے ستر سال پورے ہوئے، اس عرصہ میں مسلمانوں نے کیا کھویا اور کیا پایا اس پر اصحاب فکر و نظر نے کافی کچھ لکھا اور تجزیہ کیا ہے۔ لیکن اب اس مقام پر پہنچ کر جو سوال سب سے زیادہ ہمارے سامنے آ رہا ہے وہ یہ ہے کہ یہاں کی سیاست میں ہماری حصہ داری کیسی ہونی چاہیے؟ ہمارے خود کی قیادت کا کیا خدوخال ہونا چاہیے؟
گزشتہ سات دہائیوں میں مسلمانان ہند کبھی کانگریس تو کبھی علاقائی پارٹیوں پر اعتماد کرتے رہے، سب نے اپنے اپنے اعتبار سے ان کا استعمال کیا اور بدلے میں کچھ ادھورے خواب اور موہوم امیدوں کا بستہ تھما دیا۔ ہر ایک نے اپنی عصبیت اور دشمنی کا خمار اپنے انداز اور اپنے اپنے طریقے سے نکالا۔ ہر فریب کے بعد یہ مسکین قوم پھر اعتماد کے اسی مقام پر کھڑی ہوتی ہے۔ ہر زخم کے بعد پھر انہیں سے نئی امیدیں وابستہ کر لیتی ہے۔
مجھے یہ کہنے میں کوئی تامل نہیں ہے کہ ماضی قریب اور حال میں جو بھی مسلمان سیاستدان اس میدان میں (ممکنہ استثناء کے ساتھ) ہیں وہ فکری پختگی سے عاری ہیں۔ وہ انتہائی رسمی طریقہ سےسیاست کرتے ہیں۔ سیاست کے رائج الوقت طریقہ اور ڈھب سے ہٹ کر ان کے لیے سیاست کا کوئی دوسرا راستہ یا اس میدان کی کوئی نئی افق ان کے سامنے نہیں ہوتی ہے ۔ پارٹیوں کی وہی پرانی پھیر بدل، نشستوں کا حصول، قلم دان کی بازیابی، ووٹوں کے الٹ پھیر کا بکھیڑا اور الزام وجواب الزام کی گرم بازاری، بس اتنی ہی سی دنیا رہتی ہے ہماری۔ اسی میں ڈوب کر ہمارے سیاستداں میدان کے شہسوار کہلاتے ہیں۔
ہندوستان کی متنوع تہذیب و ثقافت اور یہاں کی تاریخ پر ایک نگاہ ڈالیں تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ابھی جو قوم یہاں خود کو بڑی اکثریت کہتے نہیں تھک رہی ہے وہ در اصل ایک اقلیت محض ہے۔ مگر وہ اپنی جہد مسلسل اور عمدہ پلاننگ کی وجہ سے اس مقام پر پہنچ گئی ہے کہ خود کو ایک بڑی اکثریت کہلوا کر ملک کے سیاہ و سفید کی مالک بن بیٹھی ہے ۔ ان کے مقابلہ میں مسلمان تنظیمی اعتبار سے کافی کمزور ہیں ۔ پختہ لائحہ عمل کا فقدان مسلسل رہا، طریقہ کار کی جذباتیت تمام مواقع پر حاوی رہی، ان سب کے ساتھ مسلکی رسہ کشی اور عصبیت نے ہماری کشتی کو ڈبونے میں بڑا اہم کردار ادا کیا۔
زیر نظر مضمون میں دیکھیں گے کہ فعال سیاست میں نہ رہتے ہوئے بھی ہم یہاں کی سیاست کو بڑے پیمانے پر متاثر کر سکتے ہیں۔ اس کے پورے مواقع پہلے بھی موجود تھے اور اب بھی ہیں۔
بحیثیت مسلمان ہم ایک داعی قوم ہیں، یعنی ہمارے پاس اسلام کا آفاقی نظام موجود ہے جو ہم سے یہ تقاضا کرتا ہے کہ ہم معاشرے میں موجود لوگوں تک اس کی افادیت کو عام کریں! یا پھر اس کی افادیت کا احساس کرائیں۔ اگر ہم اس دعوت کے کام کو حکمت کے ساتھ غیر فعال سیاست کی شکل میں کریں تو یہ نہ صرف ہمارے لیے بہت ہی فائدہ مند ہوگا بلکہ ہندوستان میں بسنے والے تمام لوگوں کے لیے بھی بڑا ہی سود مند ثابت ہوگا۔
مظلوموں کی دادرسی، ان کی حمایت، ان کے ساتھ کھڑا ہونا اور انکی مدد کرنا ایک ایسی چیز ہے جسے اسلام نے بہت زیادہ اہمیت دی ہے اور یہ اسلام کا ایک بہت ہی نمایاں وصف رہا ہے۔ اگر ہم تنظیمی طریقے سے اپنے مظلوموں کے ساتھ ساتھ دیگر طبقات کے مظلوموں کی بھی مدد کریں ، لوگوں کو ظلم کے جملہ نوعیتوں، طریقہ کار اور ڈھب سے واقف کرائیں تو یہ نہ صرف ہمارے مفاد میں ہوگا بلکہ ملک کے جملہ باشندگان کے لیے بھی انتہائی مفید رہے گا۔ ظالم اپنے ظلم کے لیے بڑی تیزی سے چولا بدلتے ہیں، مثلاً: اگر انہیں ایک خاص طبقہ پر ظلم کرنا ہے تو وہ اس کے لیے طبقاتی عصبیت کا سہارا لیں گے۔ عین اسی وقت ملکی معیشت کی خرابی کا حوالہ دے کر لوگوں پر بیجا ٹیکس لگا دیں گے، اسی کے ساتھ عالمی تجارت کا حوالہ دیکر ملک کے وسائل کو ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ہاتھوں لٹا دیں گے۔ قصہ مختصر یہ کہ عوام ایک مخصوص اور انتہائی محدود طبقہ کے ظلم کا شکار ہوتے ہوئے بھی اپنی مظلومیت سے ناواقف رہتی ہے، یا پھر انھیں اپنی مظلومیت کا احساس اس وقت ہوتا ہے جب چڑیا کھیت چگ گئی ہوتی ہے۔ بحیثیت داعی قوم اگر ہم لوگوں کو ظلم کی جملہ نوعیتوں سے واقف کرائیں، اس کے الگ الگ ہتھکنڈوں کو متعارف کرائیں اور اس سے بچنے کے لیے تمام لوگوں کو بیدار اور یکجا کریں تو یہ نہ صرف ہمارے لیے بہتر رہے گا بلکہ اس ملک کی ترقی اور خوشحالی میں انتہائی معاون اور مددگار ثابت ہوگا۔ دوسری جانب متحرک سیاست (Active politics) پر براہ راست اثر انداز بھی ہوگا۔
دولت کی تقسیم کا مسئلہ ہو یا انتظامی امور کی شفافیت و جوابدہی کا، ہر جگہ ظلم کا بازار گرم ہے۔ لوگ دن و رات اس کی چکی میں پس رہے ہیں۔ یہاں ضرورت ہے ایسے مسیحاؤں کی جو مفادات سے بالاتر ہو کر ان کی مسیحائی کرے۔
قدیم زمانے میں کسی بھی ملک کے راجہ مہاراجہ اپنے چند وزرا کے ساتھ ٹھاٹ باٹ کی زندگی بسر کرتے تھے۔ موجودہ وقت میں خود کو عوام کا خادم کہنے والے سیاستدانوں کی ایک کافی بڑی جماعت ان کے حق رائے دہی کے زینے سے چڑھ کر ایوان حکومت تک پہونچ تی ہے اور ایسا دادعیش دیتی ہے کہ پرانے وقت کے بادشاہوں کی روحیں بھی شرما جائیں، مگر پورے معاشرے میں اس پر نکیر کرنے والا کوئی بھی نہیں ہے۔ اگر ہم بحیثیت داعی قوم عوام الناس کے تئیں حکمرانوں کے حقوق کو اجاگر کریں، عوام میں اس کے تئیں بیداری لائیں اور اس کی تشہیر کریں تو یہ بھی براہ راست متحرک سیاست پر اثر انداز ہوگی۔
دیار ہند میں آزادی کے ستر سال گزرنے کے باوجود بھی عوام الناس ابھی تک جمہوریت کے تئیں بالغ نہیں ہے ۔ ان کی اکثریت معاشرتی اور غیر معاشرتی تمام امور کے لیے صرف اور صرف حکومت کو ذمہ دار سمجھتی ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ہر ایک شہری کے اپنے کچھ فرائض اور رول ہوتے ہیں۔ جب تک دونوں جانب سے فرائض کی ادائیگی میں ذمہ دارانہ رویہ کا وجود نہیں ہوگا تب تک ایک خوشحال ملک کا تعمیر ہوا نا بڑا ہی مشکل کام ہے۔ اس ناحیہ سے بھی ہمارے لیے کام کرنے کا ایک بڑا وسیع میدان ہے، اور یہ بھی راست طور سے فعال سیاست کو متاثر کرے گا ۔
سماجی بے اعتدالیوں کی ایک لمبی فہرست ہے۔ یہ سب بالواسطہ یا بلا واسطہ نظام سیاست کو متاثر کرتے ہیں۔ ظاہر ہے حکومت ان امور پر کام کرنے سے رہی۔ کچھ تنظیمیں خاص ناحیوں سے کام کرتی ہیں جو مختلف وجوہات کی بنا پر زیادہ دور رس نتائج کے حامل نہیں ہو پاتے ۔ ضرورت ہے کہ مسلمان پوری تڑپ اور توجہ سے اس سمت میں کام کریں۔
ایک بات اچھی طرح ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ بحیثیت داعی قوم ہمیں مدعو سے شاکیانہ رویہ رکھنے کے بجائے یک طرفہ طور پر قربانیوں کے ساتھ فعال اور متحرک رہنا چاہیے ۔ جہاں ہماری نگاہیں اپنے فرض منصبی اور اپنے نصب العین پر ہوں وہیں دوسری جانب وقت کی نبض پر ہاتھ رکھ کر حالات اور مطالبات کو سمجھتے رہنا چاہیے اور اس کے مطابق لائحہ عمل ترتیب دیتے رہنا چاہیے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram