روہنگیائی پناہ گزین کے مسئلہ پر حکومت کینڈا کو تشویش لاحق

 ڈاکٹرفیضان کی تجویز عمل درآمد کی یقین دہانی
کینڈا کی حکومت نے آج یہاں یقین دلایا ہے کہ مینمارکے روہنگیا ئی شہریوں پر ہونے والے مظالم پرعالمی سطح پر مسئلہ کو اٹھایا جائے گا اور اس سنگین مسئلہ پر تشویش کا اظہار کیا ہے ، کینڈا کے صدرجسٹین ٹرئیڈین نے ان بے سہارا اور بے یارومددگا رلوگوں کے لیے باعزت زندگی کے لیے اہم اقدامات کیے جائیں گے ،کینڈاکے صدر نے روہنگائی شہریوں کے معاملہ میں ڈ اکٹرفیضان عزیزی کی تشویش کو حق بجانب قراردیتے ہوئے کہا کہ ان کے خلاف انسانی حقوق کی پامالی ہورہی ہے جوکہ کافی تشویش ناک ہے۔
ممبئی میں واقع کنیڈا کی سفارتکار محترمہ تاراشیورٹرنے اس مکتوب کے جواب میں ڈاکٹرفیضان عزیزی کوحکومت کینڈا کی جانب سے مدعوکیا اور اس ملاقات میں ڈاکٹرفیضان عزیزی کے ہمراہ ، حاجی ببوخان کارپوریٹراورسماجی کارکن یوسف انصاری کے شامل رہے ۔
اس موقع پر فیضان عزیز ی نے حکومت کو ان کے خیالات کواپنانے اس پر کارروا ئی کرنے پر کینڈا کے وزیراعظم و وزیزخارجہ اورکنیڈا کے ہاوس کامن( پارلیمنٹ) کے ممبروں کے نام ہدیہ تشکر اور مبارک بادی کا خط کنیڈاکی سفیر کو دیا اور یہ مکتوب انہوں نے حکومت کے سربراہ کو روانہ کردیا ہے ۔انہوں نے یقین دلایا کہ ان کی حکومت اس سنگین مسئلہ کو عالمی پلیٹ فارم پر اٹھائے گی اور ڈاکٹرعزیزی کوآئندہ دیگرمعاملات میں بھی خیالات پیش کرنے اورتعلقات استوار رکھنے کا مشوردہ یا۔ ڈاکٹرفیضان عزیزیکی کاوش کا نتیجہ ہے کہ ان کی تصنیف کو عالمی شہرت یافتہ یونیورسٹی جیسے انگلینڈ کی آکسفورڈ و کیمرج اور مشہور برٹش لائیبریری وغیرہ نے ستائش کی اور کتب خانے میں شامل کرلیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس تعلق سے کنیڈا کی پارلیمنٹ پہلے روہنگیائی مسلمانوں کے قتل کونسل کشی قرار دے چکی ہے اورملک کی وزیرخارجہ نے اقوام متحدہ میں ان کے خلاف ہورہے ظلم کے خلاف آواز اٹھائی اورعالمی عدالت کوروہنگیاپرظلم ڈھانے والوں پرکارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ،کینڈاکی حکومت نے کہا ہے کہ تمام ممالک کوظلم وبربریت کے خلاف متحدہوجانا چاہئیے تاکہ ان مظلموں کوانصاف مل سکے ۔دراصل ممبئی کے ایک دانشوراور کئی حقوق انسانی کی تنظیموں سے وابستہ ڈاکٹر فیضان عزیز کے ایک مکتوب پر حکومت کینڈا نے سخت نوٹس لیا ہے۔
واضح رہے کہ گذشتہ چندسال سے عالمی سطح پرانسانی حقوق کی پامالی دن بہ دن بڑھتی ہوئی نظرآرہی ہے خاص کرمذہبی معاملات کولیکر حکومت مینمارنے روہنگیافرقے پرجوقیامت ڈھائی ہے ، ایساظلم وستم موجودہ صدی میں پوری روئے زمین پرنظرنہیں آتاہے،لاکھوں افرادجن میں بچے، بوڑھے اورعورتیں شامل ہیں ،انہیں بے رحمی سے قتل کیاگیاانکی املاک اوربچیوں کی عزت لوٹی گئی گھروں اورعبادت گاہوں کونذرآتش کیاگیا،اس سلسلے میں فیصان عزیزی نے کہا کہ روہنگیا کے معاملے میں دیرسے سہی سوشل میڈیاکے ذریعہ دنیاکے کونے کونے سے اس ظلم کے خلاف آوازیں اٹھیں کئی دانشوروں نے اقوام متحدہ مکتوب روانہ کیے اور اس ظلم وستم کی سخت الفاظ میں مذمت کی ۔ اوراس مسئلہ پر ڈاکٹرفیضان عزیزی نے بھی ضمیرکوجھنجھوردینے والاخط اقوام متحدہ کے علاوہ دنیاکے کئے بڑے سربراہان مملکت اورانسانی حقوق کے عالمی اداروں کولکھے کہ دنیامیں مذہب ، ذات برادری ، رنگ ونسل وغیرہ کے نام پرہورہی قتل وغارت گری کی سخت مذمت کی جائے ۔کیونکہ ہم ایک مہذب معاشرے میں رہائش پذیر ہیں ،اگر ماضی کا جائزہ لیا جائے تو احساس ہوگا کہ دور جہالت میں لوگ کم علمی اورجہالت کی بناپریہ فعل انجام دیتے ہیں مگرآج 21ویں صدی جوسائنس وٹیکنالوجی سے لیس ہے، روشن خیالی کے اس دور میں دورجہالت سے بھی بڑھ کرکام انجام دیئے جارہے ہیں انسانیت کو برباد کرنے کی ہر ممکن کوشش کچھ گروہ کرنے میں لگے ہیں جن کی پشت پناہی کچھ حکومتیں کررہی ہیں ۔
انہوں نے مزید کہا کہ دنیاکے حکمراں دیکھ کربھی اپنے فائدہ اورنقصان کے چکرمیں آنکھ پھیرلے تے ہیں مگرانہیں یادرکھناچاہیئے کہ ظلم کی یہ آگ ایک دن ان کے گھرمیں بھی لگے گی اگرآج کے حکمراں اپنی بیداری کاثبوت مرتی ہوئی انسانیت کوبچاکرنہ دیاتوہم اپنی آگے کی نسلوں کوظلم ، دہشت مردہ انسانیت دے کرجایئے گے جسے دیکھ کروہ نسل آج کے حکمراں اورزمہ داروں کوکوسے گی انسانیت اوردنیاکی بربادی کاذمہ داراگرکوئی ہوگاتوبلاشبہ آج ذمہ دارعہدوں پربیٹھے لوگ ہوں گے۔
اس لئے انسانیت کوبچانے اورآئندہ نسل کوانسان بنے رہنے دینے کے لئے ضروری ہے کہ ہم آج روہنگیاکے قتل عام اورسیریا میں ہورہی بربادی اوردیگرجگہوں پرآستاں وغیرہ کے نام پرانسانوں پرہورہے ظلم کوروکنے اورایساکرنے والوں پرسخت کاروائی کرے تاکہ کوئی اپنے پاورکے نشے میں انسانی جان کوبربادنہ کرسکے بڑی مشکل سے اہل حق ودانشوروں نے اپنی جانی مالی وغیرہ قربانی دے کر انسانیت کوعہدجہالت سے نکلااورعلم فکرکاہتھیارانسانیت کی بقاء اسکے تحفظ اوردنیائی ترقی کے لئے دیامگرآج اس کا استعمال انسانیت کوتباہ کرنے کے لئے کیاجارہاہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *