شہریت ترمیمی بل ۔آئین کی روح کے خلاف ۔جانئے اپوزیشن کا رخ

لوک سبھا میں اپوزیشن پارٹیوں نے’شہریت (ترمیمی) بل 2019‘ کو آئین کے روح کے خلاف قراردیتےہوئے بی جے پی پر الزام لگایا کہ وہ سیاسی فائدے کےلئےملک کومذہبی بنیاد پرتقسیم کرنےکی کوشش کررہی ہے۔ کانگریس کےمنیش تیواری نے بل پربحث کی ابتدا کرتے ہوئےکہا کہ یہ بل آئین کے کئی آرٹیکلوں کی خلاف ورزی اوربابا صاحب بھیم راؤامبیڈکرکےذریعہ تخلیق کئے گئےآئین کی روح کی حقیقی جذبہ کے خلاف ہے۔
بی جے پی اس بل کے سلسلے میں پرجوش ہے اورپورا ملک اس کےاسنفرت کے جذبےکوسمجھ رہا ہے۔ ہمارے آئین میں سبھی شہریوں کےلئے برابری کی بات کہی گئی ہے، لیکن یہ بل برابری کے حقوق سے لوگوں کومحروم کرتا ہے۔ انہوں نےکہا کہ ہندوستان کی تعمیرغیرجانبداری کی بنیاد پررکھی گئی ہے، لیکن اس بل میں صرف کچھ ہی مذاہب کےپناہ گزینوں کوشہریت حاصل کرنےکا حق دیا گیا ہے۔ انہوں نےکہا کہ بل میں تضاد ہے اور حکومت کواس کی خامیوں کودورکرکے سبھی شہریوں کو یکساں بنائے رکھنےکےآئینی حقوق کا پالن کرتےہوئےاس بل کو پھرسےلانا چاہئے۔
منیش تیواری نےاس بل کوحکومت کی’بہت بڑی بھول‘ قراردیا اورکہا کہ پناہ گزینوں کو برابری کی نگاہ سے دیکھنا ہندوستانی روایت ہےاوراس بل کونئے سرے سے تیارکرکے حکومت کوملک کی اس روایت کا خیال رکھنا چاہئے۔ انہوں نےکہا کہ سب کوبرابری کا حق دینا ہمارا فرض ہونا چاہئےاورپناہ گزینوں کوشہریت دینےکا کام ان کے مذہب کی بنیاد پر نہیں ہونا چاہئے۔ بی جے پی کے راجندراگروال نے بل کوآئین کی خلاف ورزی قراردیتے ہوئے اپوزیشن کےالزامات کوغلط قراردیا اورکہا کہ تقسیم کے وقت جوپرتشدد واقعات ہوئے ہیں اسے یاد رکھا جانا چاہئےاور پڑوسی ممالک میں اقلیتوں کے ساتھ کس طرح کا برتاؤ ہورہا ہے اس کو دھیان میں رکھتے ہوئے یہ بل لایا گیا ہے۔ انہوں نےکہا کہ دراندازوں کوپناہ گزین نہیں کہا جاسکتا ہے۔ ملک اور ملک کے شہریوں کونقصان پہنچانےکےمقصد سے جوملک میں آئے ہیں اسے پناہ گزین نہیں کہا جاسکتا ہے۔
دیاندھی مارن نےکہا کہ مذہب کی بنیاد پر پناہ گزینوں کوشہریت نہیں دی جانی چاہئے۔ مسلمان پناہ گزینوں کو بھی شہریت کا حق دینےکا مطالبہ کرتے ہوئےانہوں نے کہا کہ پاکستان میں اگرہندویا دیگراقلیتوں کے ساتھ ناانصافی ہوتی ہےتوہندوستان کواسی کا طرح برتاؤ نہیں کیا جانا چاہئےکیونکہ ہندوستان اس شعبہ میں ایک سپرپاورہے۔
ترنمول کانگریس کےابھیشیک بنرجی نے اس بل کوفرقہ پرستی کا نمونہ قراردیتے ہوئےکہا کہ ان کی پارٹی نفرت کی سیاست کی مخالفت کرتی رہےگی۔ انہوں نے قومی شہریت رجسٹر کونوٹوں کی منسوخی کی طرح بتایا اورکہا کہ ا س سےغریبوں کونقصان ہوگا۔ وائی ایس آرکانگریس کے پی وی متھن ریڈی نے بل کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان نے ہمیشہ دوسرے ممالک سے مظالم کےشکارہوکرآئے لوگوں کو پناہ دی ہے۔ پارسی او رتبتی برادری اس کی مثال ہے۔ انہوں نےکہا کہ پاکستان میں مسلمانوں میں بھی بوہرہ احمدیہ اور دیگر برادریوں کو بھی پناہ دینے کی ضرورت ہے۔
شیوسینا کے ونائک راوت نےکہا کہ حکومت نے اب تک یہ نہیں بتایا کہ ان تین ممالک سے کتنے لوگ آچکے ہیں اورکتنوں کو شہریت دی جانی ہے۔ انہوں نےکہا کہ پناہ گزینوں کو شہریت ضروردی جائے، لیکن اس سے ہندوستان کےلوگوں کے حقوق پراثرنہیں پڑے۔ انہوں نے سری لنکا کے تملوں اوراقلیتی مسلمانوں کوبھی ہندوستانی شہریت دینےکا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کشمیری پنڈتوں کوجموں کشمیرمیں بسانےاوران کی آبائی املاک پرحق دلائے جانےکی مانگ کی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *