سوئزرلینڈ میں اسلامو فوبیا

سوئزرلینڈر کے دیگر صوبے میں بھی برقعہ پر پابندی

جنیوا(ایجنسی)سوئزرلینڈر میں سینٹ گالنے کے رائے دہندگان نے گزشتہ روز ایک ریفرنڈم میں عوامی مقامات پر چہرہ ڈھکنے پر روک لگانے کی حمایت کی ہے۔ بتادیں کہ سوئزرلینڈ کا یہ دوسرا صوبہ ہے، جہاں برقعہ پر پابندی لگائی گئی ہے۔سرکاری نتائج کے مطابق، شمال مشرقی سینٹ گالن صوبہ میں ۳۶؍ فیصد ووٹنگ ہوئی، جس میں ۶۷؍ فیصد رائے دہندگان نے برقعہ پر پوری طرح سے پابندی کی حمایت کی ہے۔ اس سے دو سال پہلے جنوبی تیچینو نے بھی برقعہ اور دیگر مسلم نقاب پوشی پر پابندی لگانے کے لیے قانون لایاتھا اور سینٹ گالنے بھی اسی کے نقش قدم پر چلے گا۔
تفصیلات کے مطابق سوئزرلینڈ کے سینٹ گیلین صوبہ میں رائے دہندگان نے دو تہائی اکثریت سے برقعہ سے چہرے کو ڈھکنے پر اتوار کو پابندی لگا دی۔ ایسا کرنے والا یہ دوسرا سوئس صوبہ بن گیا ہے۔ یوروپ میں نقاب اور برقعہ سے چہرے کو پوری طرح ڈھکنا ایک پولرائزیشن کا معاملہ ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ خواتین کے خلاف تفریق کی علامت ہے اور اسے غیرقانونی اعلان کیا جانا چاہئے۔ فرانس اور ڈنمارک نے پہلے سے ہی چہرے کو ڈھکنے پر پابندی لگادی ہے۔جمہوریت کے سوئس نظام کے تحت شمال مشرقی صوبہ کے رائے دہندگان نے اپنے چہرے کو ڈھکنے والے لوگوں کے ، جو عام لوگوں کی حفاظت یا مذہبی یا سماجی امن کو خطرے میں ڈالتے ہیں، خلاف قانون کو سخت بنانے کا مطالبہ کیا تھا۔ علاقائی حکومت کو، جس نے اس قدم کی مخالفت کی تھی، اب پولنگ کے نتائج کو نافذ کرنا ہوگا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *