مرکزی حکومت کے بجٹ پر سیاسی لیڈران کا رد عمل

وزیراعلیٰ گہلوت نے گمران کن بجٹ،سنجے سنگھ نے اسے سرجیکل اسٹرائیک اور نائیڈو نے کسانوں کے ساتھ مذاق والا بجٹ کہا

نئی دہلی؍جےپور: راجستھان کے وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت نے مودی حکومت کے عبوری بجٹ کو گمراہ کن اور مایوس کن قرار دیا ہے۔ انہوںنے عبوری بجٹ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ گمراہ کن بجٹ ہے اور اس میں بڑی سوچ کہیں نظر نہیں آتی۔ انہوں نے کہا کہ عبوری بجٹ میں پیش کیاگیا وژن ایک مذاق ہے کیونکہ موجودہ حکومت کی مدت کار تین ماہ میں ختم ہو رہی ہے۔ یہ بجٹ انتخابی اعلانات کا پٹارہ ہے۔ یہ نوجوانوں اور کسانوں کے لیے مایوس کن ہے۔ بے روزگاری دور کرنے کے مقصد سے ٹھوس اقدام نہیں کیےگئے ہیں۔ کسانوں کی آمدنی بڑھانے کے لیے بی جے پی حکومت کی کوششیں ناکام رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دو ہیکٹیئر تک کی زمین والے کسانوں کوسالانہ چھ ہزار روپیے ناکافی ہیں۔عام آدمی پارٹی کے لیڈر اور راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ نے عبوری بجٹ کے دوران دو ہیکٹئر والے کسانوں کو سالانہ ۶؍ ہزار روپے کے اعلان کے سلسلے میں مودی سرکار پر سخت حملہ بولا ہے۔ سنجے سنگھ نے کہاکہ کیا آپ (مرکزی حکومت) نے کسانوں کا قرض معاف کیا؟ آپ نے بڑے صنعت کاروں کے قرض معاف کیے۔ آپ کسانوں کو ۱۷؍ روپے روزانہ دے رہے ہیں اور اسے سرجیکل اسٹرائیک کہتے ہیں۔ کیا یہ پاکستان ہے؟ یاد رکھیے، یہ ہندوستان ہے، پاکستان نہیں۔ کم سے کم ایسے محاوروں کا استعمال تو نہ کیجیے۔ آندھراپردیش کے وزیراعلیٰ این چندرا بابو نائیڈو نےعبوری بجٹ پر رد عمل دیتے ہوئے کہاکہ اس میں آندھرا پردیش کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ ایک ٹیلی کانفرنس کے دوران تیلگودیشم پارٹی کے کارکنوں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے نائیڈو نے کہاکہ وزیراعظم کسان یوجنا سے کسانوں کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ نائیڈو نے کہاکہ روزانہ ۱۶؍ روپے سے کسانوں کی حالت میں سدھار کیسے ہوسکتی ہے؟ کیا آپ انہیں بھیک دے رہے ہیں؟ نائیڈو نے کہاکہ ۲۰-۲۰۱۹ء کے بجٹ میں عام آدمی کے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *