برطانوی وزیراعظم تھریسا مے نے

پارلیمنٹ میں یورپی یونین سے علیحدگی ’’بریگزٹ‘‘ پر رائے شماری موخر کردی

لندن: وزیراعظم تھریسا مے نے پارلیمنٹ میں برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی ’’بریگزٹ‘‘ پر رائے شماری موخر کرتے ہوئے کہا ہے کہ شمالی آئرش سرحد کا مسئلہ بدستور باعث تشویش ہے اور یورپی ممالک کے سربراہان سے معاہدے پر مزید بات چیت کی ضرورت ہے۔برطانوی میڈیا کے مطابق برطانوی وزیراعظم تھریسا مے نے پارلیمنٹ میں یورپی یونین سے علیحدگی ’’بریگزٹ‘‘ پر رائے شماری موخر کردی۔
تھریسا مے نے کہا کہ وہ یورپی یونین سے ہنگامی مذاکرات کریں گی جس میں سرحد میں ممکنہ تبدیلیوں پر بات چیت کی جائے گی۔ یورپی ملک جمہوریہ آئرلینڈ اور برطانوی وفاق میں شامل ریاست شمالی آئرلینڈ کے درمیان سرحد کا معاملہ بریگزٹ معاہدے کا اہم حصہ ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق برطانوی حکومت کو پارلیمنٹ میں بریگزٹ پر ووٹنگ میں شکست کا خطرہ ہے، کیونکہ بہت سے ارکان پارلیمنٹ برطانوی حکومت اور یورپی یونین کے مجوزہ معاہدے سے اختلاف رکھتے ہیں۔
دریں اثنا بریگزٹ پر ووٹ ملتوی کیے جانے پر برطانوی پارلیمنٹ میں اس وقت ڈرامائی صورتحال پیدا ہوگئی جب لیبر رکن پارلیمنٹ رسل موائل نے احتجاجاً دارالعوام میں رکھا بادشاہی عصا اٹھالیا۔ انہوں نے عصا ایوان سے باہر لے جانے کی کوشش کی تو سیکیورٹی اہلکاروں نے انہیں پکڑ لیا۔ اس حرکت پر رسل موائل کو ایک روز کیلیے معطل کرکے ایوان سے باہر نکال دیا گیا۔ ایوان کے اختیار کی علامت بادشاہی عصا اجلاس کے دوران اسپیکر کے سامنے رکھا جاتا ہے۔واضح رہے کہ برطانیہ میں 23 جون 2016 کو ریفرنڈم ہوا تھا جس میں 51 فیصد عوام نے بریگزٹ کے حق میں ووٹ دیا تھا۔
دوسری جانب یورپی یونین نے بریگزٹ معاہدے پر برطانیہ سے دوبارہ بات چیت سے صاف انکار کردیا ہے۔ کمشنر یورپی کمیشن جین کلاڈ جنکر نے کہا کہ بریگزیٹ ڈیل پر برطانیہ سے دوبارہ مذاکرات نہیں ہوں گے، ہمارے مطابق برطانیہ 29 مارچ کو یورپی یونین سے نکل جائے گا۔اسکاٹش نیشنل پارٹی کی سربراہ نکولا اسٹرجن نے بھی وزیراعظم تھریسا مے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بریگزٹ بل پر رائے شماری موخر کرنا بزدلی ہے، حکومت افراتفری کی وجہ سے مکمل طور پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔بریگزٹ کے ووٹ میں تاخیر کی خبر پر پاؤنڈ کی قدر میں بھی کمی دیکھنے میں آئی اور ڈالر کے مقابلے میں پاؤنڈ کی قدر میں 0.4 فیصد جبکہ یورو کے مقابلے میں 0.6 فیصد کم ہوگئی۔برطانوی وزیراعظم تھریسا مے نے
پارلیمنٹ میں یورپی یونین سے علیحدگی ’’بریگزٹ‘‘ پر رائے شماری موخر کردی
لندن: وزیراعظم تھریسا مے نے پارلیمنٹ میں برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی ’’بریگزٹ‘‘ پر رائے شماری موخر کرتے ہوئے کہا ہے کہ شمالی آئرش سرحد کا مسئلہ بدستور باعث تشویش ہے اور یورپی ممالک کے سربراہان سے معاہدے پر مزید بات چیت کی ضرورت ہے۔برطانوی میڈیا کے مطابق برطانوی وزیراعظم تھریسا مے نے پارلیمنٹ میں یورپی یونین سے علیحدگی ’’بریگزٹ‘‘ پر رائے شماری موخر کردی۔
تھریسا مے نے کہا کہ وہ یورپی یونین سے ہنگامی مذاکرات کریں گی جس میں سرحد میں ممکنہ تبدیلیوں پر بات چیت کی جائے گی۔ یورپی ملک جمہوریہ آئرلینڈ اور برطانوی وفاق میں شامل ریاست شمالی آئرلینڈ کے درمیان سرحد کا معاملہ بریگزٹ معاہدے کا اہم حصہ ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق برطانوی حکومت کو پارلیمنٹ میں بریگزٹ پر ووٹنگ میں شکست کا خطرہ ہے، کیونکہ بہت سے ارکان پارلیمنٹ برطانوی حکومت اور یورپی یونین کے مجوزہ معاہدے سے اختلاف رکھتے ہیں۔
دریں اثنا بریگزٹ پر ووٹ ملتوی کیے جانے پر برطانوی پارلیمنٹ میں اس وقت ڈرامائی صورتحال پیدا ہوگئی جب لیبر رکن پارلیمنٹ رسل موائل نے احتجاجاً دارالعوام میں رکھا بادشاہی عصا اٹھالیا۔ انہوں نے عصا ایوان سے باہر لے جانے کی کوشش کی تو سیکیورٹی اہلکاروں نے انہیں پکڑ لیا۔ اس حرکت پر رسل موائل کو ایک روز کیلیے معطل کرکے ایوان سے باہر نکال دیا گیا۔ ایوان کے اختیار کی علامت بادشاہی عصا اجلاس کے دوران اسپیکر کے سامنے رکھا جاتا ہے۔واضح رہے کہ برطانیہ میں 23 جون 2016 کو ریفرنڈم ہوا تھا جس میں 51 فیصد عوام نے بریگزٹ کے حق میں ووٹ دیا تھا۔
دوسری جانب یورپی یونین نے بریگزٹ معاہدے پر برطانیہ سے دوبارہ بات چیت سے صاف انکار کردیا ہے۔ کمشنر یورپی کمیشن جین کلاڈ جنکر نے کہا کہ بریگزیٹ ڈیل پر برطانیہ سے دوبارہ مذاکرات نہیں ہوں گے، ہمارے مطابق برطانیہ 29 مارچ کو یورپی یونین سے نکل جائے گا۔اسکاٹش نیشنل پارٹی کی سربراہ نکولا اسٹرجن نے بھی وزیراعظم تھریسا مے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بریگزٹ بل پر رائے شماری موخر کرنا بزدلی ہے، حکومت افراتفری کی وجہ سے مکمل طور پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔بریگزٹ کے ووٹ میں تاخیر کی خبر پر پاؤنڈ کی قدر میں بھی کمی دیکھنے میں آئی اور ڈالر کے مقابلے میں پاؤنڈ کی قدر میں 0.4 فیصد جبکہ یورو کے مقابلے میں 0.6 فیصد کم ہوگئی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *