رشوت  خوری سے پاک سماج،وقت کی اہم ترین ضرورت

 دنیا میں زندگی گذارنے کےلئے انسان کو رزق، غذا اورمال کی بھی ضرورت ہے،اب یہ چیزیں وہ کس ذرائع سے حاصل کرے؟اسکے دو طریقے ہیں،ایک تو وہ ہے جسکوحلال کہا جاتاہے اوراسکو اپنانے میں کسی طرح کی کوئی رکاوٹ نہیں،اوردوسرا
وہ ہے جسے حرام کہاجاتاہے،شریعت اسلامیہ نے اس پرروک لگادی اوریہ ہدایت دی کہ حلال طریقہ سے حاصل کیاگیارزق یہ ایک اہم فریضہ ہے اورحرام طریقے سے روزی کمانا ایک عظیم گناہ ہے
 جسکی شریعت میں اجازت نہیں،سماجی مسائل پراگرایک نظر ڈالی جائےتو بخوبی اندازہ ہوگاکہ آج معاشرے کےحالات دگرگوں ہوتےجارہےہیں اسکی کئی وجوہات ہیں ان میں سے ایک رشوت خوری کابڑھتا ہواچلن بھی ہے جوسماج کے امن وامان اورخو شحالی وترقی کو تباہ وبربادکررہاہے،
جبکہ
 رشوت خوری سے پاک سماج وقت کی اہم ترین ضرورت ہے،لیکن المیہ یہ ہے کہ جدھر دیکھئے ہرطرف رشوت خوری کابازار گرم ہے،آپ کاکوئی کام بغیررشوت کے نہیں ہوسکتا،رشوت خوری کی وبا اس قدرعام ہے کہ اس کی وجہ سے قانون چند ٹکوں کے بدلے بکتاہے اوراسکی سرعام بولی لگتی ہے،بےگناہ غریب مجرم اورقاتل ٹھہرتا ہےاورسرمایہ دار رشوت کے جادو سے بےگناہ اورپاکباز بن جاتاہے،قاتل اورمنشیات فروش، رشوت کے دم قدم سے سوسائیٹی کامعزز ممبرشمار ہوتاہے،اس پرکسی کوہاتھ ڈالنے کی جرات نہیں ہوتی،”گویا رشوت دیکر آپ انسانوں کاخون ناحق بہاسکتے ہیں،انکے مستقبل سے کھیل سکتے ہیں انکی صلاحیتوں کو تباہ وبرباد کرسکتےہیں،اسکے ذریعہ آپ قانون خرید سکتے ہیں،جھوٹے گواہوں کاانتظام کرسکتےہیں،زمینوں اورمکانوں پرناجائز قبضہ کرسکتےہیں،من گھڑت میڈیکل رپورٹس حاصل کرسکتے ہیں،امتحانات میں اعلی نمبرات سے پاس ہوسکتے ہیں،گورنمنٹ کے عہدے حاصل کرسکتے ہیں،پانی اوربجلی کے کنکشن لےسکتےہیں،ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیاں کرسکتے ہیں،انتخابی نتائج تبدیل کرواسکتے ہیں”(ندائے منبرومحراب)فقیہ العصر مولاناخالد سیف اللہ رحمانی صاحب ایک جگہ رقم طراز ہیں کہ”شریعت میں کمائی کے جن طریقوں کی سخت مذمت کی گئی ہے ان میں ایک رشوت بھی ہے،رشوت کالینا اوردینا دونوں حرام ہے،ایک حدیث میں تو آپ ﷺ نے ان دونوں پراپنی زبان مبارک سے لعنت بھیجی ہے،رشوت،ظلم نہ کرنے کےلئے حاصل کی جانے والی رقم بھی ہے،اورناجائز حق دینے پر لی جانے والی رقم بھی،لینا تو بہر طور حرام ہے،البتہ اپنی جان ومال،عزت وآبرو کےتحفظ،انصاف اورجائز حق کے حصول کےلئے رشوت دینے کی گنجائش ہے،اس طرح کسی دشمن اسلام کے شر سے حفاظت کےلئے اسکورشوت دی جائے یہ بھی جائز ہے،جیساکہ خود حضور ﷺ مفسد شعراء کی زبان بندی کےلئے دیاکرتےتھے،آگے لکھتے ہیں کہ یہ بات بھی ذہن میں رہےکہ اس قسم کیی ناجائزرقمیں ہدیہ یا انعام کےنام پردی جائیں تب بھی وہ رشوت ہی  ہے،اسی  لئے  فقہاء نے لکھا ہے کہ قاضی کےلئے قریبی رشتہ داروں اوروہ لوگ جو پہلے سے تحفہ دینے کے عادی رہے ہوں،انھیں کے تحفے قبول کرناجائز ہے اورجولوگ پہلے سے تحفہ دینے کے عادی نہ ہوں یادیتے رہے ہوں لیکن اس مقدارمیں نہ دیاکرتے ہوں یاقاضی کے اجلاس میں انکا مقدمہ ہوتوانکا تحفہ اورانکی دعوت قبول کرنا جائز نہیں،علامہ شامی نے لکھاہے کہ یہی حکم گاؤں اورمختلف شعبوں کے ذمہ داروں،حکومت کی طرف سے مقرر کردہ مفتیوں،حکومت کے اعمال اورمارکٹ کے ذمہ داران وغیرہ کابھی ہے،بلکہ مقروض، قرض دہندہ کو خلاف عادت تحفہ دےتو یہ بھی اسی حکم میں ہے اس تفصیل سے یہ بات عیاں ہے کہ دفتروں اورآفسوں میں کام کرنےوالے لوگ اپنے مفوضہ فرائض کے انجام دہی پر انعام وغیرہ کے نام سے جووصول کرتےہیں اورجو قبیح وغیر شرعی رواج کے تحت داخل ہوگئےہیں  قطعاً ناجائز اورحرام ہیں،رشوت ہیں اورانکاواپس کردینا واجب ہے”(حلال و حرام)مفتی
 محمد شفیع صاحب ایک جگہ ابن عطیہ کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ”ابن عطیہؒ نے فرمایاکہ  جس کام کا پوراکرناکسی شخص کے ذمہ واجب ہو اسکے پوراکرنے پر کسی سے کوئی معاوضہ لینا اوربغیرلئے نہ کرنا اللہ کاعہد توڑنا ہے،اس طرح جس کام کا نہ کرنا کسی کے ذمہ واجب ہے کسی سے معاوضہ لیکر اسکو کردینا یہ بھی اللہ کا عہد توڑناہے،اس سے معلوم ہواکہ رشوت کی تمام قسمیں حرام ہیں جیسے کوئی سرکاری ملازم کسی کام کی تنخواہ حکومت سے لیتاہے تواس نے اللہ سے عہد کرلیاہے کہ یہ تنخواہ لیکر مفوضہ خدمت پوری کروں گا،اب اگروہ اسکے کرنے پرکسی سے کوئی معاوضہ مانگےاوربغیر معاوضہ کے اسکوٹلائے تو یہ اللہ کے عہد کو توڑرہاہے،اسی طرح جس کام کااسکو محکمہ کی طرف سے اختیارنہیں ہے اسکولیکر کرڈالنااللہ سے بھی عہد شکنی ہے”(معارف القرآن)رشوت کی وبا معاشرے میں عام ہوتی جارہی ہے جوبہت افسوس ناک ہے،اگراسکے سدباب کی کوششیں نہیں کی گئ تو یہ سماج کوبالکل کھوکھلا کردےگا،اسلئے ضرورت اس بات کی ہے کہ اس پرمکمل روک لگائ جائے،اورایک صالح،پاکیزہ اورمثالی معاشرے کی تعمیرمیں حصہ لیاجائے جسکےلئے رشوت جیسی نحوست کوختم کرناضروی ہے اورلوگوں میں اس تعلق سے بیداری اورذہن سازی کے ذریعہ یہ کام آسان ہوسکتا ہے
جولوگ سرکاری ملازم ہوتےہیں خاص طور پر یہ حضرات اس حرام کابہت زیادہ ارتکاب کرتےہیں،جوکام انکے ذمہ واجب ہوتاہے اوروہ اسکی تنخواہ حکومت سے پاتے ہیں، کسی کام کے کرنےپر بھی معاوضہ لیتے ہیں،اورنہ ملنے پرصاحب معاملہ کو ٹالتے رہتے ہیں اوربعض دفعہ اسکوکرتے بھی نہیں،لیکن معاوضہ لےلیتے ہیں،اس طرح کسی کام کے کرنا اختیار انھیں نہیں ہوتا،حکومت بھی اسکے کرنے کی اجازت نہیں دیتی مگروہ معاوضہ لیکر اس کام کو انجام دےدیتےہیں،اور اس طرح وہ حرام خوری اوررشوت میں مبتلا ہوجاتے ہیں ،جس سے اجتناب کرنے کی شدید ضرورت ہے،رشوت جیسے مذموم اورحرام فعل کاارتکاب کرکے ایسے لوگ اپنی دنیااورآخرت دونوں برباد کرتےہیں،اسکی تباہی صرف رشوت کالین دین کرنے والوں تک محدود نہیں رہتی،بلکہ پوری قوم پراسکااثر پڑتاہے ہے،ایک حدیث میں رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا”جب کسی قوم میں زنااوربدکاری عام ہوجاتی ہےتواس پرقحط مسلط کردیاجاتاہےاورجب کسی قوم میں رشوت عام ہوجاتی ہے تواس پردشمن کارعب مسلط کردیا جاتا ہے”(مشکوٰۃ)ایک دوسری میں آپ ﷺ کاارشاد ہےکہ”رشوت دینے اورلینے والے دونوں پراللہ کی لعنت ہے”(ترمذی)اسکے علاوہ اوربھی بہت ساری روایات موجود ہیں جس میں رشوت کاتذکرہ کیاگیا ہے،رشوت ایک انتہائی  بری اورخسیس عادت ہےجوپورے معاشرے کےلئے مضرِ ہےاسکالینا دینادونوں ناجائز ہے،رشوت دینے والااس سے ناجائز مقصد حاصل کرتاہے ہےاوررشوت لینے والاپیسے لیکر ظالم کی مدد کرتاہے اورمظلوم کومحروم کردیتاہے جوبہت بڑاظلم ہے،اس سے قوم کے مظلوم اورپسماندہ افراد سسک سسک کرزندگی گزارتے ہیں جوانتہائ غلط ہے،اللہ تعال ہم سبکی رشوت اورحرام خوری سے حفاظت فرمائے،حلال رزق کی توفیق عطافرمائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 برائے رابطہ 8801929100

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram