بول کے لب آزاد ہیں تیرے

پروگرام نمبر 218 بعنوان قید

رپورٹ…نفیس احمد نفیسؔ ناندوروی انڈیا
ادارہ، “عالمی بیسٹ اردو پوئٹری” دورِ حاضر میں دنیا کا واحد ادارہ ہے جو اِس برقی ترقی یافتہ دَور میں شعراء, ادباء و مُصنفینِ زبانِ اردو ادب کی ذہنی آبیاری کرتا ہے اور نئے نئے لسّانیاتی پروگرامز منعقد کرتا ہے… ادارۂ ھٰذا میں تمام تر پروگرامز برائے تنقید کئے جاتے ہیں… عالمی سطح پر کامیابی کے ساتھ ادبی تنقیدی پروگرامز کا انعقاد یقیناً ادارۂ ھٰذا کی انفرادیت, مقبولیت مع کامیابی کا وثیقہ ہے…

احبابِ ذی وقار…،
حسبِ معمول بروز ہفتہ، 31/08/2019 شام سات بجے، ادارۂ ھٰذا کے بانی و چیئرمن محترم توصیف ترنل صاحب کی زیرِ سرپرستی، 218واں آنلائن پروگرام بنام “قید” (ایک شام چھ شعراء کے نام) منعقد کِیا گیا… جس میں محترم مشرف حسین محضر (بھارت)، محترم عاطف جاوید عاطف (پاکستان)، محترم خواجہ ثقلین (بھارت)، محترم اسرار رازی، محترم اصغر شمیم کولکتہ (بھارت)، محترمہ صبیحہ صدف (بھارت) شامل رہیں…
قارئین کرام…،
یوں تو عنوان “قید” سے متعلق بے شمار تخلیقات، سخنورانِ عالم کے ذہنی خلیوں سے نِکل کر نوکِ قلم کے ذریعہ صفحۂ قرطاس پر اتاری جاچکی ہیں… لیکن یہاں چند مثالیں بہ شکلِ اشعار آپ کی باذوق بصیرتوں کے حوالے کررہا ہوں…،
“قید” سے متعلق بھارت کے تاریخی شہر بنارس سے تعلق رکھنے والے مشہور و معروف شاعر حفیظ بنارسی نے کیا خوب کہا ہے کہ…،
حصارِ ذات کے دیوار و در میں قید رہے
تمام عمر ہم اپنے ہی گھر میں قید رہے
(حفیظ بنارسی…)
تو وہی جہانِ ادب کے کہنہ مشق استاد شاعر عزم شاکری فرماتے ہیں کہ…،
زندگی میری مجھے قید کئے دیتی ہے
اس کو ڈر ہے میں کسی اور کا ہوسکتا ہوں
(عزم شاکری…)
ایک طرف مشہور و معروف شاعرہ رفعت سروش اسی عنوان کو لے کر اپنی بے بسی کچھ یوں ظاہر کرتیں ہے کہ…،
اچھا یہ کرم ہم پہ تُو صیاد کرے ہے
پر نوچ کے اب قید سے آزاد کرے ہے
(رفعت سروش…)
تو وہی مشہور و معروف استاد شاعر شکیل بدایونی اس عنوان کو مثبت رنگ و عشقیہ پیرہن میں یوں نظم کرتے ہیں کہ…،
مجھے تو قیدِ محبّت عزیز تھی لیکن
کسی نے مجھ کو گرفتار کر کے چھوڑ دیا
(شکیل بدایونی…)

خیر احبابِ گرامی…، پروگرام کے نظم و نسق کی مکمل ذمّہ داری، ادارے کے بانی و چیئرمن محترم توصیف ترنل صاحب نے بحسن و خوبی نبھائی… اور مشوراتی کمیٹی کی متّفقہ رائے سے اِس مجلسِ کی مسندِ صدارت بھارت سے تعلق رکھنے والے منفرد لب و لہجہ کے شاعر محترم مشرّف حسین محضر صاحب کے نام کی گئی… بطور گرافک ڈیزائنر پاکستان کے مشہور و معروف شاعر محترم صابر جاذب لیّہ اور بطور پبلیشرز محترم وقاص سعید برزبن آسٹریلیا، جان محمد جموں کشمیر بھارت، سمی شاہد پاکستان، کامران ضیا بھارت، سیدہ کوثر منور لندن، محمد شفیع میر بھارت، عندلیب صدیقی آسٹریلیا، ڈاکٹر وسیم راشد بھارت، ملک محمد شہباز پاکستان نے اپنی خدمات انجام دیں… جہاں بطورِ ناظم، بھارت سے تعلق رکھنے والی منفرد لب و لہجہ کی خوبصورت شاعرہ محترمہ صبیحہ صدف صاحبہ نے اپنی مسحور کن نظامت سے محفل کی فضاؤں کو سحرانگیز بنا دِیا تو وہی مجلس کی روداد تحریر کرنے کی اہم ترین ذمّہ داری راقم الحروف خاکسار نفیس احمد نفیسؔ ناندوروی نے نبھائی…

احبابِ ذی وقار..
اِس آنلائن محفلِ مشاعرہ کا آغاز ربِّ ذوالجلال کی پاک و شفّاف حمد و ثنا کے ساتھ، صدرِ محفل محترم مشرّف حسین محضر (بھارت) نے یوں کِیا کہ..

حمد بارئ تعالٰی…،
گھولتا ہے جب رنگِ اطاعت فکر و احساسات میں تو
پیدا کر دیتا ہے تلاطم میرے حسیں جذبات میں تو
ذکر ترا جب کرتے کرتے ظلمت ڈسنے لگتی ہے
اشک منور کر دیتا ہے غم کی کالی رات میں تو
یہ بھی تیرا خاص کرم ہے اپنے مومن بندوں پر
حامئ و ناصر بن جاتا ہے نا گفتہ حالات میں تو
رکھتا ہے عبرت کو مضمر شان کو کرتا ہے ظاہر
قہر وغضب کی آندھی میں تو رحمت کی برسات میں تو
ہو نہیں سکتا کامل مومن جس کا نہ ہو یارب یہ یقیں
تیرا کلام بھی لاثانی ہے یکتا اپنی ذات میں تو
سارا جہاں مصروف ہے مولا رسوائی کی سازش میں
ہم کو عطاء ثابت قدمی کر ان مشکل حالات میں تو
محترم مشرف حسین محضر (بھارت)

معمول کے مطابق حمد باری تعالٰی کے بعد…، بارگاہِ رسالتﷺ میں نعتِ پاک کا نذرانۂ عقیدت بھارت سے تعلق رکھنے والے شاعر محترم مشرّف حسین محضر نے یوں پیش کیا…کہ

نعت پاکﷺ
جس کی باتوں میں تھی حق کی ترجمانی وہ رسول
جس کے لہجے میں تھی قرآں کی روانی وہ رسول
ساری دنیا میں نہیں ہے جن کا ثانی وہ رسول
کر رہے ہیں میرے دل پر حکمرانی وہ رسول
جن کی خوشبو سے مہکتا ہے ہمارا ہر نفس
حشر کے دن بھی کریں گے مہربانی وہ رسول
کس قدر ہیں صاحبِ عظمت تم اندازہ کرو
ہم کو قرآں بھی ملا جن کی زبانی وہ رسول
عاصیوں کو بخش وا لیں گے یقینأ حشر میں
ہے مدینہ شہر جن کی راجدھانی وہ رسول
کہنے کو امیّ تھے لیکن نکتہ داں تھے نکتہ رس
کر گئے قرآن کی جو ترجمانی وہ رسول
دوستوں سے تو محبت سب ہی کرتے ہیں مگر
دشمنوں پر بھی تھی جن کی مہربانی وہ رسول
بسترِ خاراں تھا جن کا یہ جہانِ آرزو
جنت الفردوس تھی جن کی دوانی وہ رسول
یہ ہماری خوش نصیبی کر دیا رب نے عطاء
آئینہ تھی جس کی محضر زندگانی وہ رسول
محترم مشرف حسین محضر (بھارت)

بعد ازاں…، دیگر معزّز و محترم شعراء کرام نے بھی بعنوان “قید” اپنا اپنا کلام محفل میں پیش کِیا…
صدرِ محفل محترم مشرف حسین محضر صاحب نے “قید آخر قید ہے” اس عنوان سے مختصر مگر پُرمغز نظمیہ کلام پیش کِیا… فرماتے ہیں کہ…،

صدارتی کلام…،
کلام نمبر۶) بعنوان”قید”
قید آخر قید ہے
زندگی کی الجھنوں سے
تنگ آکر
ایک دن
آسماں کی سمت دیکھا
تو خیال آیا کہ انساں
کس قدر مجبور ہے
کس قدر کمزور ہے
وہ اگر چاہے بھی تو
آسماں کی اور زمیں کی
قید سے حاصل رہائی کر نہیں سکتا مگر
پھر بھی اتنا
کس لیے مغرور ہے
آسماں کی اور زمیں کی
قید پر
کس لیے مسرور ہے
سوچتے ہی سوچتے پتھر نہ ہو جاؤں کہیں
محترم مشرّف حسین محضر (بھارت)

دیگر شعراء کرام کا کلام…،

کلام نمبر۵) بعنوان”قید”
جنگجو ہوکے بھی زنبیل میں حربہ نہ رکھے؟
میر ہوتے ہوئے انداز ظریفانہ رکھے؟
اس نے یہ قید سے پیغام مجھے بھیجا ہے
شوق سے بھی کوئی پنجرے میں پرندہ نہ رکھے
اس نے چہرے کے اجالے میں لکھا خط مجھکو
یہ بھی لکھا ہے کہ پڑھنے کو اجالا نہ رکھے
قید ہی تیرا مقدر ہے تو پھر مانگ دعا
تیرا مالک تجھے زندان میں زندہ نہ رکھے
لوٹتے وقت نصیحت ہے بھلانے کی اگر
وہ بھی پہچان کا آنکھوں میں اشارہ نہ رکھے
قیدِ بےجا بھی ہے فطرت کے اصولوں کے خلاف
آج کے دن کوئی اندیشہء فردا نہ رکھے
ایسا باشندہ کوئی پیار کی بستی میں کہاں؟
خانۂ دل میں جو خوابوں کا جزیرہ نہ رکھے
اب کوئی قید ہی کرلے مجھے سرحد بن کر
یا کوئی آج مرے پاؤں میں رستہ نہ رکھے
قید سے اپنی رہائی پہ تو مقدور ہوں میں
شکلِ آزادی کوئی بھیک کا ٹکڑا نہ رکھے
میں وہ پنچھی ہوں کہ اڑجاؤں قفس کو لے کر
کوئی صیاد مجھے قید رسیدہ نہ رکھے
محترم خواجہ ثقلین ناگپور (بھارت)

کلام نمبر۴) بعنوان”قید”
قیدِ حالات میں مرجانا ستم ہے خود پر
پا بجولاں ہی سہی خاک اڑا کر دیکھو
محترم اسرار رازی (بھارت)

کلام نمبر۳) بعنوان”قید”
بیٹھے ہیں تیرے در پہ جدائی کے بعد بھی
“ہم ہیں ترے غلام رہائی کے بعد بھی”
دنیا کی خواہشات میں برباد ہو گیا
کچھ بھی نہیں ہے پاس کمائی کے بعد بھی
جو مسئلہ تھا اور بھی پیچیدہ ہو گیا
مشکل میں پڑ گئے ہیں لڑائی کے بعد بھی
گرتے ہوئے کو جب سے سنبھالا ہے میرے دوست
کیا کیا نہ سن رہا ہوں بھلائی کے بعد بھی
گرچہ میں مر چکا ہوں مگر یہ ہوا شمیم
مٹی کی قید میں ہوں رہائی کے بعد بھی
محترم اصغر شمیم، کولکاتا ،(انڈیا)

کلام نمبر۲) بعنوان”قید”
نہیں صیاد سے کوئی بھی آس ، قیدی ہوں
سپہ سالار کو بھیجو سپاس، قیدی ہوں
یہ آبشار یہ جھرنوں کا شور کہتا ہے
کسی حسین سی وادی کے پاس قیدی ہوں
ترے بدن سے درختوں کی باس آتی ہے
اے ہم قفس میں پرندہ شناس قیدی ہوں
وہ شاہ زادی رہائی کا اِزن دے دے گی ہے
بس اُس سے کہنا میں اُس سے اُداس قیدی ہوں
مرے صیاد سے کہدو کہ مار ڈالے مجھے
مہک یہ خون کی آئے گی راس قیدی ہوں
محترم عاطف جاوید عاطف لاہور (پاکستان)

کلام نمبر۱) بعنوان”قید”
خیال و فکر کی آوارگی کی قید میں ہوں
عجیب طرح کی دیوانگی کی قید میں ہوں
چہار سمت بہاروں کے قافلے ہیں مگر
میں ایک دائمى ویرانگی کی قید میں ہوں
نہ آ اے موت تعاقب میں تو ابھى میرے
نفس نفس میں ابھی زندگی کی قید میں ہوں
سمندروں کی بڑائ کا سچ ہوا ظاہر
لبوں پہ پیاس ہے میں تشنگی کی قید میں ہوں
ڈرا نہ پائیگى اب ظلمتِ حیات مجھے
کہ پوری طرح سے تابندگى کی قید میں ہوں
بے اختیار تمہارا مجھے گلے ملنا
میں آج بھى اسى وارفتگى کى قید میں ہوں
مجھے حیات کی سب بندشیں قبول “صدف”
کہ اب تو بس تری وابستگی کی قید میں ہوں
محترمہ صبیحہ صدف بھوپال (بھارت)

الحمدللّہ…،
پروگرام میں بطورِ ناقد بھارت سے تعلق رکھنے والے بزرگ کہنہ مشق شاعر و نقاد محترم شفاعت فہیم صاحب نے تنقیدی نقطۂ نظر سے شعراء کے کلام کو پرکھا اور اپنی قیمتی آراء سرِ محفل پیش کیں…، جسے شعراء کرام نے خندہ پیشانی سے قبول کِیا…
احبابِ ذی وقار…، اِس طرح “ادارۂ عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری” کے تحت اس انلائن ادبی سفر کا 218واں پڑاؤ بھی کامیابی و کامرانی کے ساتھ پار ہوا… اور تاریخِ ادب میں ادارے کے نام مزید ایک کامیاب پروگرام درج کرلِیا گیا… اس کامیاب پروگرام کو پیش کرنے کے لئے “ادارۂ ھٰذا کے منجملہ عہدداران و اراکین مبارکباد کے مستحق ہیں… بالخصوص ادارے کے چیئرمن محترم توصیف ترنل صاحب کی خدمات قابلِ ستائش ہیں…، ساتھ ہی اِس باوقار مجلس میں شریک تمامی محبّانِ ادب کا ادارۂ ھٰذا کی جانب سے شکریہ ادا کرتا ہوں…

تحریر از قلم….،
خاکسار…، نفیس احمد نفیسؔ ناندوروی (انڈیا)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram