تین ریاستوں میں شکست کے بعد پارٹی میں بغاوت بلند

مہاراشٹرکے معروف کسان لیڈر اور ریاستی پینل وسنت راؤ نائک شیتی سواؤلمبن مشن (وی این ایس ایس ایم) کے چیئرمین کشور تیواری نے آر ایس ایس کو مطالبہ نما مشورہ دیا ہےکہ بی جےپی اگر ۲۰۱۹ء کا الیکشن جیتنا چاہتی ہے تو وزیر اعظم مودی کی جگہ مرکزی وزیر نتن گڈکری کو لایاجانا چاہئے

ممبئی: حالیہ دنوں میں ہوئے مدھیہ پردیش، راجستھان اور چھتیس گڑ ھ الیکشن میں بی جے پی کی شکست کے بعد اب پارٹی میں چوطرفہ حملہ شرو ع ہوگئی ہے۔ پچھلے دنوں تو پارٹی کے سینئر لیڈران شکست کی ذمہ داری اپنے اوپر لینے کے لیے بالکل تیار نہیں تھے۔ وہ کہتے رہے الیکشن میں شکست لوکل اور علاقائی وجوہات کی بنا پر ہوئی ہے۔ یعنی اس میں مرکز کے لیڈران یعنی بی جے پی کے سورمائوں کا اس میں کوئی رول نہیں ہے۔ خیر، لیکن اب بی جے پی میں وزیر اعظم مودی کے متبادل پر بحث شروع ہوگئی ہے۔ مہاراشٹرکے معروف کسان لیڈر اور ریاستی پینل وسنت راؤ نائک شیتی سواؤلمبن مشن (وی این ایس ایس ایم) کے چیئرمین کشور تیواری نے آر ایس ایس کو مطالبہ نما مشورہ دیا ہےکہ بی جےپی اگر ۲۰۱۹ء کا الیکشن جیتنا چاہتی ہے تو وزیر اعظم مودی کی جگہ مرکزی وزیر نتن گڈکری کو لایاجانا چاہئے۔ کشورتیواری نے آر ایس ایس سے یہ مطالبہ ایسے وقت میں کیا ہےجبکہ وزیر اعظم مودی ترقیاتی پروجیکٹوں کاسنگ بنیاد رکھنے کیلئے کلیان اور پونے کے دورے پر تھے۔ آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت اورجنرل سیکریٹری بھیاجی سریش جوشی کے نام لکھے گئے ایک خط میں کشور تیواری نے کہا کہ چھتیس گڑھ ، مدھیہ اور پردیش اور راجستھان میں بی جےپی کی شکست کی وجہ کچھ ’ضدی قسم کے لیڈر‘ رہے جنہوں نے نوٹ بندی ، جی ایس ٹی اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے جیسے عوام مخالف فیصلے کئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram