بہار میں اردو اسامیاں خالی ۔نتیش کی اردو دوستی کی کھلی پول۔اردو والوں کو نوکریاں نہیں 

اردو کو بہار میں 1981دوسری سرکاری زبان کا درجہ دیاگیا تھا۔ تب اردو کے نام پر ایک بڑی تحریک چل رہی تھی اور بہار اسمبلی انتخاب کا اردو انتخابی ایجنڈا تھا ۔ اس کے بعد ریاست میں ہونے والے سبھی انتخابات میں اردو پر سیاست ہوتی رہی ہے۔ سابقہ لالو پرساد اور رابڑی دیوی کی حکومت میں بھی اردو پر سیاست ہوتی رہی ہے اور موجودہ نتیش کمار بھی اردو کے نام پر محبان اردو کو صرف اعلان اور نعروں سے ہی خوش کرتے رہے ہیں۔ صوبہ کے نصف سے زیادہ اسکولوں میں اردو کی آسامیاں کئی سالوں سے خالی ہیں وہیں اردو کے سرکاری اداروں کی تشکیل تک نہیں ہوپارہی ہے۔اور اب نتیش کمار کی نیت پر برابر سوال اٹھ رہے ہیں ۔سی اے اے اور این آر سی کو لیکر بھی ان کی نیت پر  تھا اور اب اردو والوں کو بھی ان پر بھروسہ نہیں رہا۔حالانکہ نتیش اردو کی ترقی کا دعوہ کرتے رہے  لیکن صوبہ کی اقلیتی تنظیموں نے اردو کے معاملے پر ایک بڑا سوال کھڑا کیا ہے۔ اقلیتی تنظیموں کے مطابق اردو کے سلسلے میں حکومت کا اعلان صرف دھوکہ ثابت ہوا ہے دراصل بہار میں اقتدار میں آتے ہی نتیش کمار نے اردو آبادی کو خوش کرنے کی مہم شروع کی تھی۔ جس میں اردو کی ترقی کے ساتھ ساتھ صوبہ کے تمام اسکولوں میں اردو اساتذہ کی خالی اسامیوں پربھرتی کرنے کا اعلان کیاگیا تھا۔ تقریباً 15 ہزار اردو اساتزہ کی بحالی کی گئی لیکن سبھی اسکولوں میں اردو اساتذہ کو بحال کرنے کا نشانہ پورا نہیں ہوا۔ریاست کےنصف اسکولوں میں اردو کے ٹیچر ہی نہیں ہیں۔ابوالکلام ریسرچ فاؤنڈیشن کے چیئرمین مولانا انیس الرحمان قاسمی نے کہا ہے کہ حکومت کی اب پول کھل رہی ہے۔ واضح ہے کہ ریاست میں حکومت سے تعلق رکھنے والے اردو اداروں کی حالت بھی بہت خراب ہے۔ اردو اکیڈمی کا دو سال سے کچھ اتا پتا نہیں ہے تو اردو مشاورتی کمیٹی ایک سال سے تشکیل نہیں دی گئی ہے۔ وہیں ٹی ای ٹی اردو میں کامیابی حاصل کرنے والے امیدواروں کو نوکری نہیں مل رہی ہے۔ امارت شرعیہ بہار کے جنرل سکریٹری مولانا شبلی قاسمی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اردو کے معاملے پر ایک غیر سیاسی کمیٹی کی تشکیل کی جائے اور اسکی روشنی میں بہار حکومت اردو کا کام کرے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *