بھیڑ میں نئی راہ نکالنے والی فوزیہ اختر رداؔ

ؔ دنیا کے وجود سے ہی خواتین کی اہمیت و افادیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے ۔خواتین کسی بھی میدان میں گئی تو اپنی اہمیت اور قابلیت کی وجہ سے اپنی صلاحیتوں کا لواہا منوا لیا اور ایسے بھی دیکھا جائے توخواتین کے بغیر دنیا کی ہر چیز ادھوری دیکھائی دیتی ہے۔ شعرو ادب میںبھی خواتین قلمکاروں نے اپنی تخلیق سے دنیا کونئی رنگ وآہنگ سے روشناش کیا اگر یہ نہیں ہوتی تو ادبی فضا گرد آلود ہوجاتی۔نسوانیت اور تانیثیت کے بارے میں ذکر کریں تو ہمیں یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ لفظ’ نسا‘ کے معنی عورتیں،بیویاں،استریاں اور مستورات ہیں اسکی جمع نسواں ہے جس کے بھی وہی معنی ہیں لیکن اسکی صفت عورتوں سے منسوب ہوتی ہے۔تانیثیت میں خواتین کی آواز پوشیدہ ہے۔ جوسماجی،اقتصادی،قانونی،تہذیبی مسائل کی طرف لوگوں کو متوجہ کرتی ہے۔نسائی لہجے کی ترجمانی میں لفظیات اور نفسیات برتنے کے ساتھ ساتھ پاکیزگی کا پیکر بھی جھلکتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہماری شاعرہ جب غزل کی لہجے میں گفتگو کرتی ہیں تو دھیمی آنچ میںبھی وہ حرارت پیدا کردیتی ہے جس میںگرمی محسوس ہونے لگتی ہے۔
عہد حاضر میںاُردو ادب میں نسائی لہجہ کی ترجمان میں رشید جہاں،ممتاز شیریں،عصمت چغطائی،قرۃ العین حیدر، جیلانی بانو،پروین شاکر، کشور ناہید،ساجدہ زیدی، انجم رہبر،مینانقوی وغیرہ کے بعدہند میں ان دنوںکولکاتا کی سرزمین نسائی لہجے کی جو ترجمان بن کر شعر ادب میں بہت تیزی کے ساتھ ابھرتی ہوئی دیکھائی دے رہی ہے وہ فوزیہ اختر ہے جن کا تخلص رداؔ اور قلمی نام فوزیہ رداؔ انکی شاعری کی ابتداء 2013 ؁ء میں ہوئی جبکہ جائے پیدائش کولکاتا ہے۔ہمیں یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ اگردنیا میں خواتین نہیں ہوتی تو انسانی زندگی کا تصور ہی بے معنی ہوجاتاضرورت زندگی سے منسلک جو بھی شعبہ ہو ہر شعبہ میںخواتین نے اپنے کار کردگی سے سب کو متاثر کیا چاہے وہ ملک کی آزادی کا مسلہ ہو،قوم کا مسلہ ہو، علم و فن ،فکر معاش کا مسلہ ہو،ادبی یا تہذیبی مسلہ ہو یاپھر آمور خانہ داری کا مسلہ ہویا تعلقات نبھانے کا مسلہ ہو گویا کہ ہر کرداروں میں خواتین اپنی اہمیت کا لوہا منوا لیا کبھی ماں ، بیوی، بہن، دادی ، خالہ،بیٹی وغیرہ بن کر شفقت نچھا ور کی توکبھی زندگی نے آزمائش کے طور پر جوبھی اسٹیچ دیا اس میں اپنے کردار کو اس انداز میں سمویا کہ ہر کرادار میں اعلیٰ ظرفی کاپہلو اجاگر ہونے لگے ۔
فوزیہ اختر رداؔکی شاعری کااگر جائزہ لیا جائے تو یہ بات آسانی سے سمجھ میں آجائے گی کہ انکی شاعری میں نسائی ادب کا وہ لہجہ پیوست ہے جہاں تیکھا پن ہونے کے باوجود مٹھاس کی احساس سے مالا مال ہے۔وہ کہتی ہے
راہ آسان نہیں محبت کی
عمر گزرے گی جافسانی میں
بھو ل کر بھی نا ہو خطا کوئی
ہوش رکھنا پڑا جوانی میں
مزکورہ اشعار سے انکی شاعری کا پتہ چلتا ہے کہ کتنی سلیس زبان میںبہت ہی سلیقے سے زمانہ کو ائینہ دیکھاتے ہوئے نظر آتی ہے۔انکی شاعری سے انکی شعور زندگی کا پتہ چلتا ہے۔انکے اشعار میں شعور کی شگفتگی ودل آویزی کے ساتھ معنویت وبلاغت کا بھی سنگ میل ہے انکے اشعار پڑھنے سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ کچھ نہیں کہتی بلکہ کوئی وہبی طاقت ہے جو ان سے اشعار کہلواتی ہے۔
رسم دنیا سے بغاوت کرکے
تیری خواہش کو قبا دی ہم نے
پاس رہ کر بھی رہے دور بہت
ایسی بھی خود کو سزا دی ہم نے
ردا ؔکی شاعر ی میں خود پرستی ہے مگر انکی خود پرستی مخصوص دائروں پر محیط ہے حیات انسانی کی تفہیم اور اس کی تنقید و تشریح کو کائنات اور قضا وقدر کے رشتوں کے بغیر سمجھنا بڑی مشکل ہے۔ردا ؔکوئی فلسفی نہیں ہے ہاں قلمکار جو محسوس کرتا ہے وہ اپنی کیفیت کو تحریری شکل میں ڈھالتا ہے۔انکی فکر میں وہ تضاد دیکھائی دیتی ہے وہ بدلتے ہوئے موڈ یا تغیر کیفیت سے پیدا ہوتی ہے۔زندگی میں کبھی صورت حال ایسی ہوجاتی ہے کہ تضاد ہو تے ہوئے بھی اس سے اکتفا کرنا پڑتا ہے چاہتے ہوئے بھی لب کشائی شجر ممنوعہ ہوجاتا ہے۔
ردا ؔکی شاعری نے آدبی حلقوں کو کافی متاثر کیا حالانکہ انہوں نے غزل کے علاوہ دوسرے آصناف میں بھی طبع آزمائی کی ہیں مگر انکی اصل پہچان غزل ہی رہی ہے انھوں نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں سے غزل کے مضوعات کے دائرے کو ایک نئی جہت اور اونچائی عطا کی ہے۔ اور ایسے ایسے شعر کہی جو غزل کے اُفق پر نمودار ہوتے ہوئے ردا کی شناخت بن گئی۔انکی شاعری میں ذاتی زندگی کا عکس جھلکنے کے ساتھ ساتھ جگ بیتی کے درد کا احساس بھی دیکھائی دیتا ہے۔اپنی شریں اور تلخ تجربات کے ساتھ زندگی کے اتار چڑھائو کوجس طرح محسوس کیا لوگوں کے سامنے پیش کیا۔انکی گفتگو کا لہجہ نے انکی غزلوں کواصلیت پسندی اور تابناکی بخشتی ہے۔غزل گوئی مزاج کی ائینہ دار ہے۔ردا ؔکی شاعری میں جو چیزسب سے زیادہ اثر کرتی ہے وہ ہے انکی کلام میں بندش کی چشتی کے علاوہ اپنی تخیل میں ایسے ایسے الفاظوں کا آنا جو پوری طرح مفہوم کوذہن نشین کرانے کے ساتھ ساتھ خیالات کو بھی جلا بخشتی ہے اوردوسری وہ چیزہے جو انکی شاعری میںدلکشی پیدا کرتی ہے وہ ہے انکا طنزیہ لہجہ جہاں کہیں کہیں پر انکی شاعری کا عنصر اتنا تیز اور تیکھا ہوتا ہے کہ زور بیان کا لطف دوبالا ہوجاتا ہے اور وہ احساس کی وہ کیفیت پیدا کرتی ہے کہ مانوحرکت کرنے والاخود کو شرمندہ محسوس کررہاہو۔
کبھی خوشی تو کبھی غم سنانے آتے ہیں
ملال دل کا ہمیشہ مٹانے آتے ہیں
جولوگ بھول چکے تھے ہمیں زمانے سے
کسی بہانے سے ہم کو منانے آتے ہیں
رداؔ کا شمارتانیثیت کی بنیاد گزار خواتین میں ہوتا ہے انکی اشعار پڑھ کر زندگی سے پیار ہوجاتا ہے۔اپنی قلم سے وہ ہمیشہ خواتین کے لے جدوجہدکرتے ہوئے دیکھائی دی انکے مطابق ہر عہد میں مفکرین نے وجود زن کی اہمیت کو تسلیم کیا ہے۔وہ نسائی تخلیق ادب کی فرسودہ روایت سے ہٹ کر اپنی شاعری میں اس حقیقت کو واضح کیا جہاں پرخلوص،وفا،درد مندی،ایثار،صبر ورضاکو زندگی کا وطیرہ سمجھ کر مطلب پرستی کے لے حقیقت سے منھ موڑ لیا جاتا ہے۔انکی شاعری کا کینوس اتنا وسیع ہے جہاں پرتصوراتی خیالات سے زیادہ حقیقت پر مبنی مسائل پر زیادہ توجہ دی گی۔انہوں نے ایک ایسی مثبت سوچ،مدبرانہ تجزیہ اور دانش مندی کو اپنے اسلوب کا متین بنایا جس میں خواتین کے لیے معاشرے میں ترقی کے منصفانہ اور یکساں مواقع فراہم کیا جاسکے۔عوام طور پرخواتین کے لے ایسے حالات پیدا کے جاتے ہیں جہاں پرمردوں کے شانہ بہ شا نہ اسے اپنا سفر جاری رکھنے میں کافی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ہر دور میں تانیثیت نے حق و انصاف کی بالا دستی،آزادی اظہار،مکر کی چالوں سے خبر دار اور معاشرے کو ہر قسم کے استحصال سے پاک کرنے کی اصرار کرتے ہوئے دیکھائی دی ہے۔خواتین کی تحفظ کا احساس انکے دلوں میں کس قدر گھر کرگیا انکے نظم ’احساس‘ سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ملاحظہ فرمائیں
خموشی ہر طرف پائوں پھیلائے
کوئی آہٹ
نہیں اتی مرے کانوں میں جس سے ہو
گماں مجھکو
ہم اہنگی بشر کی کیوں نہیں ہوتی
دریچہ وا نہیں ہوتا
مرے استقبال میں دل کا
کوئی ٹھنڈی ہوا کی انچ بتلائے
مجھے چھو کر گزر جائے
وہ اک خاموشی چہرہ گھورتا رہتا ہے مدت سے
مگر ایسا نہیں ہوا!!!!!
کہ مجھ سے پوچھتا کوئی
کبھی دست محبت بھی
بڑھاتا مسکراتا بھی
اسی احساس کو شاید
سہارے کی ضرورت ہے۔
آج نسائی لہجے کی شاعری کا کیا رول ہے اور کیا نسائی شاعری موجود دور میں انسانی ذہن کی وہ ترجماتی کرسکتی ہے جو اب تک اس نے کی ہے۔ہندوستان میںنسائی لہجے کی ترجمانی جو ان دنوں مشاعروں کے محفلوں میں دیکھنے کو ملتا ہے وہ نسائی لہجے کی ترجمانی نہیں بلکہ ادب کے ساتھ ایک بھدہ مزاق ہے جس میں شاعرہ اپنے استاد سے کلام لکھوا کر مشاعرہ لوٹ لیتی ہے اور جب تک استاد نیا کلام نہ لکھے اس وقت تک ایک ہی کلام کو ہر مشاعرہ میں پڑھتے ہوئے دیکھائی دیتی ہے۔اگر ہم دور حاضر میں ہندوستان کی شاعرات کا ذکر کریں تو یہ کہنے میں مجھے کسی بھی قسم کی قباحت محسوس نہیں ہورہی ہے کہ ہند میں شاعرات کی طویل فہرست ہیں مگر ان فہرستوں میںکچھ ہی نام ایسا ہے جواپنی خون وجگر جلاکر ادب کی خدمت کر رہی ہے باقی دیگر شعراء تو بھیڑ کا حصہ بنی ہوئی ہے۔ رداؔ بھیڑ کا حصہ نہیں ہے وہ جو کچھ بھی کہتی ہے انکی اپنی تخلیق ہوتی ہے ۔شاعری میں اشاروں کی قدر وقیمت مسلم ہے بقول اکبر الہ آبادی :
تفصیل نہ پوچھ ہیں اشارے کافی
یونہی یہ کہانیاں کہی جاتی ہیں
آزادی کے بعد ہماری زندگی الجھ گی ۔آزادی سے پہلے ہم نے جو خواب دیکھے تھے آج خاموشی سے انکی شکست دیکھ رہے ہیں۔شاعری ذات سے کائنات تک کا سفر ہے۔لیکن ہمیں پیسے کی پرستش نے اپنی تہذیب،اپنی تاریخ اپنے شعرو ادب،اپنی ثقافت سے بیگا نہ کردیا۔حقوق پر سب زور دیتے ہیں مگر فرائض کا ہمیں احساس نہیں۔ان دنوں اردو کے شعراء اور شاعرات آزمائش کے دور سے گذ رہے ہیں ان کی زبان کی بقاء خطرے میں ہے۔حکومت بے پروا ہے تخلیق کاروں کی گروپ ازم عروج پر ہے جس کو دیکھو ایک دوسرے کا شکایت کرتے ہوئے دیکھائی دیتا ہے۔پتہ نہیں ان لوگوں کو یہ احساس کب ہوگا کہ زبان نہیں تو ذہن نہیں اور ذہن نہیں تو زندگی نہیں اور جب زندگی نہیں رہے گی تو پھر اپ کے ادب کا کیا ہوگا۔ان باتوں کا ملال میںبھی رداؔ کی شاعری میں محسوس کی جاسکتی ہے۔
انکے متفرق اشعار جو ادبی حلقوں میں کافی ذوق وشوق سے سنی جارہی ملاحظہ ہو۔
ابھی تو شب کا طلسم ٹوٹا ابھی کرے گی سحر تماشا
چاند نظر اگیا پر روح کیسے ڈھونڈتی ہے
اگہی کے راستوں کو بے نشاں سمجھی تھی میں تونظر سے دور ہے لیکن یہاں سمجھی تھی میں
ہیں ردا عشق میں سبق کتنے یاد کرتی ہوں، بھول جاتی ہو
رابط رکھنے کے واسطے ہمدم فون پر گفتگو ضروری ہے
دور ہی جب نہیں عنایت کا تیرا احسان کیوں لیا جائے
ردا ؔکی شاعری رسمی اعتبار سے ایک ہمہ جہت قلمکار کی شاعری ہے ۔انکی روحانی کیفیت کا راز تخلیقی تنائو کی آبیاری میں مضمر ہے۔انکے بارے میں یہ کہا جاسکتا ہے وہ بات کہنے کے فن سے واقف ہے انہیں نرم واہنگ والا سادہ شاعرہ کہا جاتا ہے مگر میں سمجھتا ہوں کہ انکے اشعارمیںمختلف جہتیں اور کیفیتیں موجود رہتی ہے جہاںخود اگہی کے احساس کوان کی شاعری کاسرنامہ قرار دیا جاسکتا ہے۔جس کے اظہار کے لے وہ خاموشی سے کلام کہتے ہوئے بھیڑ میں نئی راہ نکال کر اپنا شعری کردار متعین کررہی جو قابل تعریف کے ساتھ ساتھ لائق ستائش ہے۔

محمدخورشیدعالم ،ڈیشرگڑھ ،مغربی بنگال،91262627486

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest