یوم اطفال ۔ہر بچے کو اس کا حق ملے

مظفر حسین غزالی

Profile photo

 

 

 


بھارت عالمی یوم اطفال پر ہر بچے کو اس کا حق ملے اس عزم کے ساتھ پارلیمنٹ میں قومی تقریب منا رہا ہے۔ حقوق اطفال کے لئے بھارت کے عہد کو ظاہر کرنے والی اس تقریب میں ملک کے کونے کونے سے بچے اور نوجوان حصہ لے رہے ہیں حقوق اطفال کے لئے ملک ’گوز بلو‘ (نیلا) ہو رہا ہےہر بھارت نے 20 نومبر کو دنیا کے ساتھ عالمی یوم اطفال منایا، یونائٹیڈ نیشن کی جنرل اسمبلی نے بچوں کے حقوق کنونشن کو 30 سال قبل اپنایا تھا۔
اس موقع پر بھارت میں منعقد کی جانے والی تقریبات میں خاص تقریب قومی پارلیمنٹ میں ہر بچے کے لئے قومی اجلاس منعقد کیا گیا۔ جس میں ملک بھر سے چائلڈ پارلیمنٹ کے ممبران اور بچوں کے حقوق کا تحفظ کرنے والوں نے حصہ لیا۔ اس میں نائب صدر جمہوریہ وینکیا نائیڈو مہمان خصوصی کے طور پر شریک ہوئے، ان کے ساتھ لوک سبھا کے اسپیکر جناب اوم بڑلا، ذرائع ابلاغ تکنیک، وزیر قانون، ایوان بالا کی ممبر اور بچوں کے لئے بنے پارلیمانی گروپ کی کنوینر جنابہ وندنا چوہان اور یونیسیف کے نمائندوں نے بھی حصہ لیا۔
چائلڈ پارلیمنٹرین اور بچوں کے حقوق کا بچاؤ کرنے والے نیشنل چائلڈ رائٹس مہم’نائن از مائن‘ کا حصہ ہیں۔ بچے اپنیگا ماج میں حقوق اطفال کے محافظ اور بچوں کے حقوق کے چمپئن کے طور پر اپنی گواہی دی اور اس موقع کے لئے کمپوز کیا گیا بچوں کے حقوق کی پیروی کرنے والا ایک اصلی ریپ گیت پیش کیا۔ ہندوستان بھر میں بچوں کے ذریعہ بچوں کے لئے کارروائی کے اس عالمی دن پر یونیسیف شراکت دار ریاستی حکومتوں، سول سوسائٹی، کمیونٹی لیڈروں کے ساتھ حصہ لے رہا ہے، اور خاص طور پر بچے اور نوجوان حصہ لے رہے ہیں۔ ملک بھر میں تاریخی عمارتیں اور موومنٹ نیلے رنگ سے سجائی گئی ہیں، جو ہر بچے کے لئے حق اطفال کی حمایت کرنے کی علامت ہے۔ یونیسیف انڈیا کی بھارت میں نمائندہ ڈاکٹر یاسمین علی حق نے کہا کہ عالمی یوم اطفال سنجیدہ پیغام دینے کے ساتھ جشن منانے کا دن ہے۔
بھارت میں، اور دنیا بھر میں، بچے اپنے حقوق کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ عالمی یوم اطفال پر، وہ ہم سے پوچھ رہے ہیں کہ آپ کیا کرو گے؟ اس سال، عالمی یوم اطفال خاص ہے، کیوں کہ یہ چائلڈ رائٹس کنونشن کا 30 واں سال ہے۔ گلوبل لیڈر بچوں کے عام حق کے واسطہ جمع ہوئے اور چائلڈ رائٹس کنونشن کو پاس کیا۔ طفلی ایام کے لئے ایک بین الاقوامی سمجھوتہ، جس نے بچوں کی زندگی کو بدلنے میں مدد کی۔ بھارت نے 1992 میں چائلڈ رائٹس کنونشن کی توثیق کی، مختلف اقدامات میں اپنے عزم کا اظہار کیا اور بچوں کو ان کے حقوق کا احساس کرانے کی سمت میں اہم پیشرفت کی ہے مثلاً
• پانچ سال سے کم عمر کے چند بچوں کی ہی موت ہوتی ہے، جیسے کہ نوزائیدہ اموات شرح 1990 میں 1000 زندہ پیدائش میں 117 سے گھٹ کر 2016 میں 39 رہ گئی ہے۔
• پینے کے صاف پانی تک بچوں کی رسائی بڑھی ہے، 92 – 1993 میں یہ پہنچ 62 فیصد تھی جو 2019 میں 92 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
• زیادہ لڑکیاں پرائمری اسکول جاتی ہیں مثلاً 6 – 10 سال عمر کی لڑکیوں کی حاضری کی شرح 1990 میں 61 فیصد تھی جو اب بڑھ کر عالمی شرح کے برابر ہو گئی ہے۔
ڈاکٹر یاسمین علی حق نے کہا ’بھارت مشکل لڑائیاں لڑ اور جیت رہا ہے۔ جیسے کہ بچوں کو زندہ رکھنے کی شرح میں بہتری آ رہی ہے، لاکھوں کو غریبی سے نکال رہا ہے اور اب یہ بھی یقینی بنایا جا رہا ہے کہ پہلے کے مقابلہ زیادہ بچے اسکول میں ہوں‘۔
’’یہ کامیابیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ جہاں سیاسی پاسداری، عوامی حمایت اور اجتماعی عزم ہوتا ہے، وہاں بچوں کی زندگی میں بہتری آتی ہے۔ جیسے کہ ہم بچوں کے لئے اس بڑی جیت کا جشن منا رہے ہیں۔ ہمیں اس حقیقت پر بھی دھیان دینا ہوگا کہ ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے‘‘۔
تیس سال پر بھی بچوں کے حقوق نہیں بدلے ہیں، ان کے خاتمے کی کوئی تاریخ نہیں ہوتی ہے۔ مگر زمانہ طفلی بدل گیا ہے۔ بچوں کو ان خطروں کا بھی مقابلہ کرنا ہوگا جو دنیا میں تیزی سے ماحولیات سے متعلق بدلاؤ اور تکنیکی تبدیلیوں کی وجہ سے ابھرے ہیں۔ 1989 میں، ورلڈ وائڈ ویب نہیں تھا، موسمیاتی تبدیلی کو پوری طرح سے نہیں سمجھا گیا تھا اور آبادی کو نقل مکانی کرنے والی لمبی جدوجہد کم تھی۔ یونیسیف بھارت سبھی سطح پر حکومت، سول سوسائٹی اور کمیونٹیز کے ساتھ ساتھ بچوں و نوجوانوں کے ساتھ کام کرتا ہے تاکہ وہ خود بچوں کے حقوق کے سخت چیلنجز سے نبٹ سکیں، خاص طور پر سب سے غریب و سب سے حساسیت کے بیچ۔ لاکھوں بچوں کو ابھی بھی صحت کی دیکھ بھال، غذائیت، تعلیم اور تشدد سے معقول تحفظ حاصل نہیں ہے۔
° ہر سال موٹے طور پر اب بھی 600000 نوزائیدہ بچوں کی موت ہو جاتی ہے۔
° اب بھی بھارت کے بچے عدم غذائیت، ناٹے پن اور خون کی کمی کی گرفت میں ہیں۔ بھارت میں ہر سال پیدا ہونے والے بچوں میں سے ایک کروڑ بچوں کو بیماریوں سے روک تھام کرنے والے حفاظتی ٹیکے نہیں لگ پاتے۔
° 60 لاکھ بچے اسکول سے باہر ہیں اور جو اسکول جاتے ہیں، ان کے سیکھنے کی سطح کمتر ہے۔
° لڑکیاں جنم سے ہی بنیادی صحت، غذا اور تعلیم کے لئے امتیاز کا سامنا کرتی ہیں۔
° بڑے پیمانے پر بچوں کی شادی ہوتی ہے اور ہر سال تقریباً 15 لاکھ لڑکیوں کی شادی 18 سال کی عمر سے پہلے کر دی جاتی ہے۔
ڈاکٹر حق نے کہا کہ ’میں یہ جاننے کے لئے جذباتی ہو رہی ہوں کہ پارلیمنٹ کے قومی لیڈر اور قابل عزت وزیر اس تاریخی تقریب میں بھارت کے ہر بچے کے لئے سبھی حقوق والے عزم کو دکھانے کے لئے اکٹھا ہوں گے‘۔
’’یہ اہم ہے کہ یہاں قومی رہنما بچوں و نوجوانوں سے حقوق اطفال کا تحفظ کرنے والے کے طور پر ان کے تجربات کو سیدھے سنتے ہیں اور ہر بچے کو سننے اور کوئی بھی بچہ پیچھے نہ چھوٹنے جیسی تمام مانگوں کو بھی سنتے ہیں‘‘۔یونیسیف بچوں کے حق کے لئے اپنی حمایت دکھانے کے لئے ہر ایک کو مدعو کر رہا ہے، عہد کے ذریعہ بیدار بنانے اور چھوٹی ہی سہی لیکن اہم اقدام کرنے کے لئے، جو ہر بچے کو اس کے تمام حقوق کا احساس کرنے میں مدد کرے، جس میں تعلیم، صنفی مساوات، سینی ٹیشن و پینے کے پانی تک رسائی، بال مزدوری اور بچپن کی شادی وغیرہ۔ ملک بھر میں لوگ حقوق اطفال کے تئیں اپنے عزم کو جتانے کے لئے آن لائن سائن کر رہے ہیں۔ حلف لینے کے لئے آپ وزٹ کر سکتے ہیں: https://help.unicef.in/child rights
مزید معلومات کیلئے رابطہ قائم کیجئے
الکا گپتا، کمیونیکشن اسپیشلسٹ
ٹیلی فون : 7303259183
E-mail: agupta@unicef.org
سونیا سرکار، کمیونیکشن آفیسر (میڈیا)
ٹیلی فون : 9810170289
E-mail: ssarkar@unicef.org

 

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram