بیٹیوں کے فضائل واحکام قرآن وحدیث کی روشنی میں

تحریر: مولانا غیو راحمد قاسمی
9899252786

قرآن کریم واحادیث کی روشنی میں زندگی گذارنے والے شخص کے بارے میں یہ بات وثوق سے کہی جاسکتی ہے وہ اپنی اولاد کی تربیت بہتر انداز میں کرسکتا ہے۔ نبی کریمؐ نے بیٹیوں کی پرورش پر جتنے فضائل بیان فرماتے ہیں بیٹے کی پیدائش پر اس قدر بیان نہیں فرمائے۔ بیٹیاں رحمت ہیں اور رحمت کے بارے میں کبھی سوال نہیں ہوگا اللہ کا فیصلہ ہے جس کو چاہے اپنی رحمت سے نوازیں ارشاد خداوندی ہے کہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہت صرف اللہ کے لئے ہے وہ جو چاہے پیدا کرتا ہے جس کو چاہتا ہے بیٹیاں دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے بیٹے دیتا ہے او رجس کو چاہتا ہے بیٹے او ربیٹیاں دونوں عطا کرتاہے او رجس کو چاہتاہے بانجھ کر دیتا ہے (سورہ الشوریٰ) لڑکیوں کو کمتر سمجھنا زمانہ جاہلیت کے کافروں کا عمل تھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ذکر فرمایا ہے (ان میں سے جب کسی کو لڑکی پیدا ہونے کی خبر دی جائے تو اس کا چہرہ سیاہ ہوجاتا ہے اور دل ہی دل میں گھٹنے لگتا ہے) موجودہ دور میں بھی بہت سارے خاندان اور افراد بیٹی کے پیدا ہونے پر سرد مہری کا مظاہرہ کرتے ہیں اور خاص خوشی ومسرت کا اظہار نہیں کرتے جبکہ اگر لڑکے کی خبر دی جائے تو فرحت وشادمانی میں ان کا دل جھومنے لگتا ہے اور گھروں میں خوشبوں کا ماحول پیدا ہوجاتا ہے۔ شریعت مطہرہ نے اسی امتیاز کی بیخ کنی ہے اسی جذبہ کی فکیر کی ہے پیدائش چاہے لڑکی کی ہو یا لڑکے کی اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کرے اور فرسودہ خیالات کے لوگوں کی حوصلہ شکنی کرتے ہوئے بیٹی کی پیدائش پر دل سے خوشی کا اظہار کرکے متبع رسول کا نبوت دے تاکہ معاشرہ سے اس گندی سوچ کا خاتمہ ہو حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمؐ نے فرمایا جس شخص کی تین بیٹیاں یا تین بہنیں ہوں یا دو بیٹیاں یا دو بہنیں ہو اور وہ ان کے متحد بہت اچھے طریقہ سے زندگی گذارے ان کے حقوق ادا کرے جو شریعت نے مقرر کئے ہیں اور ان کے حقوق کی ادائیگی میں اللہ سے ڈرتا رہے تو اللہ تعالیٰ اس کی بدولت اس کو جنت میں داخل فرمائیں گے حضرت عائشہؓ سے مروی ہے کہ حضور اکرمؐ نے ارشاد فرمایا جس شخص پر لڑکیوں کی پرورش اور دیکھ بھال کی ذمہ داری ہو اور وہ اس کو صبر وتحمل سے انجام دے تو یہ لڑکیاں اس کے لئے جہنم سے آڑ بن جائیں گی (ترمذی)
لڑکیوں کی شریعت اسلامیہ کے مطابق تعلیم وتربیت کرنے پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے تین انعامات وفضیلت حاصل ہوںگی (۱) دوزخ سے نجات (۲) جنت کا حصول (۳) معیت رسول۔ اسی طرح بہن کا مقام ہے بہن بھی بیٹی کی طرح ہوتی ہے بہن کے وہ تمام تر حقوق ہیں جو اسلام بیٹی کو دیتا ہے شریعت اسلامیہ نے سگی بہنوں اور رضاعی بہنوں کے ساتھ بھی حسن سلوک سے پیش آنے کا درس دیا ہے۔ اسلام نے عورت کو وہ مثالی حقوق دئیے ہیں جو آج تک کوئی مذہب نہیں دے سکا معاشرہ میں ہماری بہن یا بیٹی قطعاً پریشانی کا سامنا نہیں کرسکتی اگر اس کے حقوق ادا کئے جائیں ہمارے معاشرہ میں آج عورتوں کو وراثت سے محروم رکھا جاتاہے کبھی یہ کہہ کر شادی کے بعد شوہر کی ذمہ داری ہے ہماری نہیں ہم نے تو جہیز دیدیا، چند برتن، زیور، میز ، کرسی دے کر عورتوں کو ان کے حق شرعی سے محروم کرنے کا رواج ہمارے معاشرہ میں عام ہے۔ قرب قیامت کی نشانی ایک وراثت کی تقسیم کا علم اٹھ جانا بھی ہے اسلام تو عورتوں کو حق وراثت دیتا ہے لیکن مسلمان نہیں جبکہ باپ کے مرنے کے بعد جائیداد میں اس کا حق رہتا ہے شادی کردینے سے حق وراثت ختم نہیں ہوتا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کے احکام پر عمل کرتے ہوئے بہن بیٹیوں کے ساتھ انصاف او رحسن معاملات محبت اور عزت واحترام کا معاملہ کریں موجودہ حالات میں اکثر وبیشتر خواتین کو مختلف طریقوں سے ظلم وجبر کا نشانہ بنایاجاتاہے بدسلوکی لڑائی، جھگڑا کیاجاتاہے سرراہ لڑکیوں اور خواتین کو تنگ کیاجاتاہے بیوہ اور مطلقہ عورتوں کو منحوس اور معیوب خیال کیاجاتاہے سماج اور معاشرہ میں ایسے افراد پر شکنجہ کسنے کی ضرورت ہے قلب سلیم اور صحیح فکر واسلامی تعلیمات سے واقف ہونے کی سخت ضرورت ہے تاکہ ہمارے معاشرہ میں عورتوں کو وہی عزت ومقام مل سکے جس کی وہ حق دار ہیں۔
بہنوں سے حْسنِ سْلْوک کی مثالیں:
نبی کریمؐنے اپنی رَضاعی (دودھ شریک )بہن حضرت شیمائؓ کے ساتھ یوں حْسنِ سْلْوک فرمایا: (1)اُن کیلئے قیام فرمایا(یعنی کھڑے ہوئے)(سبل الھدی والرشاد،ج5، ص333) (2)اپنی مْبارَک چادر بچھا کر اْس پر بٹھایا اور (3)یہ ارشاد فرمایا: مانگو،تمہیں عطا کیا جائے گا، سفارش کرو، تمہاری سفارش قبول کی جائے گی۔(دلائل النبوہ للبیہقی،ج5، ص199،ملتقطاً)اس مثالی کرم نوازی کے دوران آپ ؐکی مْبارَک آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے، (4)یہ بھی ارشادفرمایا :اگر چاہو تو عزّت و تکریم کے ساتھ ہمارے پاس رہو،(5)واپس جانے لگیں تو نبی کریم ؐنے تین غلام اور ایک لونڈی نیز ایک یا دو اونٹ بھی عطا فرمائے،(6)جب جِعیرَانَہ میں دوبارہ انہی رَضاعی بہن سے ملاقات ہوئی تو بھیڑ بکریاں بھی عطا فرمائیں۔(سبل الھدی والرشاد،ج5، ص333 ملتقطا)
ہمارے پیارے نبی ؐکا اپنی رَضاعی بہن سے حْسنِ سْلْوک ہر بھائی کویہ اِحساس دِلانے کے لیے کافی ہے کہ بہنیں کس قَدر پیاراورحْسنِ سْلْوک کی مستحق ہیں۔ حضرت سیّدْنا جابِر بن عبداللہ ؓنے محض اپنی نو یا سات بہنوں کی دیکھ بھال،اْن کی کنگھی چوٹی اور اچھی تربیت کی خاطر بیوہ عورت سے نکاح کیا۔(مسلم، ص593،594،حدیث:3641،3638)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *