مسلمانوں کو اعتماد میں لینے کے وزیراعظم کے بیان پر عمائدین کا ردعمل

ممبئی29مئی
دوسری مرتبہ ملک کے وزیراعظم منتخب ہونے کے بعدنریندرمودی نے پارلیمنٹ کے سینٹرل ہال میں این ڈی اے کے منتخبہ ممبران پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اقلیتی فرقہ کے دل سے ڈروخوف نکالنے کی اشد ضرورت ہے اور سابقہ حکومتوں نے انہیں جس طرح دھوکہ میں رکھا ہے ،اسے ختم کرنا ہماری ذمہ داری ہوگی اور ان کا اعتماد بحال کرنا ہے،وزیراعظم کے اس بیان پر مسلم عمائدین نے ملا جلا ردعمل ظاہرکرتے ہوئے کہا کہ مسلمان آئین کے تحت حقوق چاہتے ہیں اور انہیں بے خوف اور خوشحال وبے فکری کی زندگی گزارنے کی خواہش ہے ۔
اس ضمن میں انجمن اسلام کے صدرڈاکٹر ظہیر قاضی نے وزیراعظم نریندرمودی کے بیان کا خیر مقدم کرتے ہوئے انہیں دوبارہ منتخب ہونے پر مبارکباد پیش کی ہے ،انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے ملک میں امن وامان قائم کرنے اور قومی ہم آہنگی قائم کرنے کے لیے ایک اہم ترین قدم اٹھا یا اور اس کے تحت ان کا نعرہ ’سب کا ساتھ ،سب کا وکاس اور سب کا وشواس ‘کی وجہ سے ان کی حیثیت اقلیتی فرقہ میں بھی مستحکم ہوگی ،
ڈاکٹر قاضی نے مزید کہا کہ اقلیتی فرقہ ایک بہتراور خوشحال زندگی کی خواہش رکھتا ہے ،اس کے ساتھ ساتھ تعلیم ،اور سماجی اور معاشی طورپر ترقی کا بھی خواہش مند ہے ۔ہمیں امید ہے کہ اس ضمن میں اہم قدم اٹھایا جائے گا اور سچرکمیٹی  کی سفارشات پر عمل آوری کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ انجمن اسلام کو یقین ہے کہ وزیراعظم نے جواہم ترین بیان اقلیت کے بارے میں دیا ،اس پر عمل کیا جائے گا ۔وزیراعظم نے واضح طورپر کہا ہے کہ اقلیتی فرقہ کو ترقی ،تعلیم اور خوشحالی سے دورنہیں رکھا جاسکتا ہے اوراس خوبصورت بیان پر ہم حکومت کوہر ممکن تعاون دیں گے اور اقلیتی فرقہ کی فلاح وبہبود کے لیے کیے جانے والے اقدامات کا قدم قدم ساتھ دیں گے ۔ڈاکٹر ظہیر قاضی نے 145سال قدیم ادارہ انجمن اسلام کے عہد یداران ،اساتذہ اور ہزاروں طلباءکی جانب سے مودی کو نیک خواہشات پیش کرتے ہوئے امید ظاہرکی ہے کہ آئندہ سال بھی وہ ملک کو مضبوط اور مستحکم بنانے کے لیے اپنی ذمہ داری بخوبی نبھائیں گے ۔
این سی پی کے راجیہ سبھا رکن اور مشہور وکیل مجید میمن نے خیر مقدم کرتے ہوئے مشورہ دیا کہ وزیراعظم مودی بیان بازی کے بجائے نیک نیتی سے عملی اقدامات کریں،کیوں کہ مذکورہ بیان کے بعد دوتین دن میں ہریانہ ،بہاراور اترپردیش میں ایسے کئی واقعات پیش آئے ہیں جن میں مسلمانوں کو ان کے مسلمان ہونے کی بناء پر نشانہ بنایا گیا اور انہیں بُری طرح زدوکوب بھی کیا گیا ۔
مجید میمن نے کہا کہ مودی نے ایک اچھا بیان دیا ہے ،لیکن این ڈی اے حکومت کے گزشتہ پانچ سالہ دورحکومت میں اقلیتوں اور خصوصاً مسلمانوں کو اعتماد میں نہیں لیا گیا ،حالانکہ 2014میں نریندرمودی کی قیادت میں مرکزی حکومت نے ’سب کا ساتھ ،سب کا وکاس ‘کا نعرہ دیا تھا ،لیکن یہ افسوس ناک حقیقت ہے کہ ان سب میں دلتوں اور مسلمانوں کو شامل نہیں کیا گیا ،خصوصی طورپر مسلمانوں کو منصوبہ بند طریقہ سے نشانہ بنایا گیا اورموب لنچنگ جیسے تشدد کی روک تھام کے لیے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا گیا، ان بے قصورمسلم نوجوانوں کی موت کے بعد ایک بھی مرکزی وزیر کو ان مہلوکین کے گھر جاکر پسماندگان کو دلاسہ دینے کی توفیق نہیں ہوئی اور نہ ہی ان کے لیے عبوری راحت کا کوئی اعلان کیا گیا جب کہ سپریم کورٹ نے موب لنچنگ پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے اور کہاہے کہ یہ سنگین معاملات ہیں اور ان کے دوران قانون کی حکمرانی غیر حاضرنظرآتی ہے ۔
کانگریس کے راجیہ سبھا ایم پی حسین دلوائی نے وزیراعظم نریندرمودی کے اقلیت کے بارے میں بیان کا خیر مقدم کرتے ہوئے مودی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے مستقبل میں کئی وعدے کیے ،لیکن اس پر عمل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔جن پر انہوں نے کبھی نہیں کہا۔جب وہ ایک خوش آئند بیان دے رہے ،اس وقت بھی مسلمانوں کو مارا جارہا ہے اور انتظامیہ و پولیس خاموش تماشائی بن کر ان معاملات کی اہمیت کو کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔جب کہ وی ایچ پی اور بجرنگ دل جیسی تنظیمیں مزید سرگرم ہوگئی ہیں اور انہیں کسی کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ مسلمان ان سرگرمیوں کو بند کرنے کے لیے حکومت سے مکمل تعاون کرے گی ،لیکن حکومت کو نیک نیتی کا مظاہرہ کرنا ہوگا تاکہ ان شرپسند سرگرمیو ں کو روکا جاسکے ۔ان سرگرمیوں کا نہیں رکنا ،دراصل ایک بڑا مسئلہ ہے اور اس میں سرکار کی آئیڈولوجی اور نظریات مکمل طورپرکارفرما ہیں۔اس بات غوروخوض کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ملک کی تقسیم کے بعد بھی پنڈت نہرواور دیگرقومی رہنماﺅں نے مسلمانوں کو  دلاسہ دیا جس کی وجہ سے کروڑوںمسلمانوں نے اس ملک میں رہنا پسند کیا ،حکومت نے انہیں تحفظ کا یقین دلایا تھا۔
حسین دلوائی نے کہا کہ مودی کا بیان قابل ستائش ضرورہے ،لیکن اس پر عمل کے لیے انہیں ٹھوس قدم اٹھانا ہوگا اور بیوکرسی اور پولیس کو اس ضمن میں ہدایات دی جائیں تاکہ اقلیتیوں کو اعتماد میں لیا جاسکے ۔کیونکہ حال میں الیکشن نتائج کے بعد بھی اسی طرح کی کئی وارداتیں پیش آئی ہیں جوکہ تشویش ناک امر ہے۔کیونکہ گروگرام میں ایک مسلم نوجوان کو ٹوپی پہننے پر نشانہ بنایا گیا ہے ،اس لیے فی الحال وزیراعظم کو اپنے لوگوں کو متنبہ کرنا ہوگا کہ ان کے بیان کا پاس رکھا جائے اورکوئی بھی ایسا واقعہ نہ ہو جس کی وجہ سے قومی اور بین الاقوامی سطح پر بدنامی ہاتھ لگے۔
اس موقع پر سنیئر صحافی اور اٹل بہاری واجپئی کے سابق مشیر سدھیندر کلکرنی نے کہا کہ مودی کی انتخابی مہم اور سینٹرل ہال کی تقریرمیں تضاد پایا جاتا ہے،لیکن ان کی تقریر کئی طرح سے خیرمقدم کے قابل ہے ،خصوصی طورپر انہوں نے مسلمانوں تک رسائی کی جو کوشش کی ہے ۔لیکن ان کی تقریر اور ان کے عمل کو رکھاجانا چاہئے ۔وزیراعظم نے سینٹر ل ہال کے اپنے خطاب میں آئندہ حکومت کے خدوخال پیش کررہے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *