بارش

 

 

 

 

 

 

 

توقیر صاحب!!!توقیر صاحب!!!
سکینہ نے یکایک خواب سے جاگتے ہوئے اپنے شوہر کو مخاطب کر کے کہا۔
’’ہے نا کتنی عجیب بات۔۔۔کہیں سوکھا پڑ رہا ہے تو کہیں سیلاب آیا ہواہے۔راجستھان کے کئی علاقوں میں باڑھ کی سی نوبت ہے۔۔۔مگر ۔۔مگر ہمارے شکارپور میں ابھی تک ایسی بارش نہیں ہوئی جیسی ہونی چاہئے تھی۔۔۔آپ سن رہے ہیں نہ میری بات؟؟؟سکینہ نے توقیر کو جھنجھوڑتے ہوئے کہا۔
’’ہاں سن تو رہا ہوں۔۔۔سن تو رہا ہوں۔۔۔‘‘
’’کیا خاک سن رہے ہیں؟؟؟میری بات کا جواب ہی نہیں دیتے‘‘۔
’’ارے بھئی رات کے گیارہ بج چکے ہیں ۔۔۔قطب دروازے میں سب سو رہے ہیں ۔۔۔تم ہو کہ اپنی نیند بھی خراب کر رہی ہو اور میری بھی‘‘۔
’’اس میں نیند خراب کرنے کی کیا بات ہے؟؟؟گرمی بہت ہے۔۔۔جی کرتا ہے کہ تیز موسلا دھار بارش ہو۔۔۔اور کئی دن تک مسلسل بارش ہوتی رہے‘‘۔
’’کیسی دعا کر رہی ہو۔۔۔سکینہ۔۔۔تم بھی ۔۔۔کیا ہوگیا ہے تمہاری عقل کو؟؟؟
توقیر نے کروٹ بدلتے ہوئے کہا۔
’’سو کیوں نہیں جاتیں‘‘
’’کہہ تو ایسے رہے ہیں جیسے واقعی آپ سو رہے ہوں‘‘۔
سکینہ نے توقیر کی ناک ہلاتے ہوئے کہا‘‘۔
توقیر اپنے بستر پر اٹھ کر بیٹھ گیا واقعی اسے بھی نیند نہیں آرہی تھی کیوں کی جب انسان کا دماغ خیالات کی دنیا میں سرگرداں ہویا اسے کوئی فکر لاحق ہو تو پھولوں بھرا بستر بھی خار کی طرح لگتا ہے ۔
’’اچھا ایک بات بتائو۔۔۔‘‘
توقیرنے رومال سے ماتھے کا پسینہ پوچھتے ہوئے کہا۔
’’تمہیںبارش کی تمنا کیوں ہے؟؟؟یہ تو سوچو کہ اگر بارش ہو گئی تو ہم کھائیں گے کیا؟؟؟کمائیں گے کیا؟؟؟رہیں گے کہاں؟؟؟۔
’’ہاں یہ بات تو ہے۔۔۔‘‘سکینہ نے توقیر کا سنجیدگی کے ساتھ جواب دیا۔
’’تمہیں تو معلوم ہے سکینہ محرم قریب ہے عزاداری میں جو خرچہ ہوتا ہے وہ ہم کہاں سے لائیں گے؟؟؟۔۔۔برسات میں کام بھی نہیں ملتا ۔۔۔کیوں کہ اس موسم میں لوگ گھروں پر رنگ نہیں کرواتے۔۔۔ابھی ۔۔کل ہی ثقلین بھائی کی دکان پر سودا ادھار لینے گیا تھا تو انھوں نے صاف صاف کہہ دیا کہ پچھلا حساب چکتا کرو تبھی آگے سے تمہیں ادھار ملے گا۔۔۔میں نے ان سے تقریباً گڑگڑاتے ہوئے کہا کہ جلد ہی مجھے کام مل جائے گااور میں آپ کا ادھار چکا دوں گا۔۔۔ویسے بھی آپ ایک اچھے انسان ہیں مولا اس کا اجر دیں گے۔۔۔‘‘
’’پھر کیا کہا انھوں نے ؟؟؟سکینہ نے توقیر کی بات کو بیچ میں ہی کاٹتے ہوئے کہا‘‘
’’کہتے کیا۔۔۔خاموش ہوگئے اورمیں تمہارے لئے گھٹیا قسم کا آٹا دال لے آیا‘‘
رات کے گہرے سناٹے میں دور تک خاموشی چیخ رہی تھی شکارپور کا ہمیشہ سے دستور رہا ہے کہ مغربین کے بعد لوگ کھانا کھا کر گہری نیند میں ڈوب جاتے ہیںاور دس گیارہ بجے ان کے یہاں قبرستان جیسا سناٹا چھا جاتاہے۔اگر کہیں سے بولنے کی آواز آتی ہے تو وہ مچھروں یا جھینگروں کی ہوتی ہے۔ایسے ماحول میں توقیراور سکینہ آپس میں محوِ گفتگو تھے۔مگر یہ صرف گفتگو ہی نہ تھی بلکہ سماج کے بے حس ذہنوں پر ایک ایسا تبصرہ تھا جس کا انھیں بھی احساس نہ تھا کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔ویسے بھی وہ ان پڑھ تھے۔۔مزدوری ان کا پیشہ تھا۔سکینہ گھر گھر جاکرجھاڑو پونچھا کرتی اور توقیر پتائی کا کام کرتا تھا۔مگر اس کام میں زیادہ محنت کے باوجود اسے خاطر خواہ اجرت حاصل نہ ہوتی۔گھر میں ہفتے میں دو دن فاقے رہتے۔دو لڑکے اﷲنے دئیے تھے جو اپنی اپنی بیویوں کے ساتھ علی گڑھ اور میرٹھ جاکر بس گئے تھے ان کا کام بھی بیل داری ہی تھا اور پلٹ کر اپنے والدین کو نہ پوچھتے تھے۔
سکینہ اور توقیر جہاں رہتے تھے اس محلے کا نام قطب دروازہ تھا وہ جس مکان میں رہتے تھے اس کو بنے ہوئے تقریباً سو سال سے زیادہ کا عرصہ ہوگیا تھا۔سکینہ کے والدین پاکستان بننے کے بعد جب پاکستان گئے تو سکینہ کی شادی کرکے اسے اپنا مکان جہیز میں دے گئے تاکہ زندگی آسانی سے گزر بسر ہوسکے۔ان کے لاکھ کہنے پر بھی سکینہ نے اپنا وطن شکارپور نہ چھوڑا تھاکیوں کہ اسے اپنے وطن اور یہاں کی عزاداری سے انتہائی محبت تھی۔اس کی خوش نصیبی یہ تھی کہ اس کے قریب ہی اس کے چچا زاد بھائی احمد اکبر رہتے تھے انھوں نے بھی اپنے وطن کو چھوڑنا گوارا نہ کیا تھا کیوں کہ ان پر محلے کی مسجد جسے مکان والی مسجد کہا جاتا تھا اس کی ذمے داری تھی۔محلے کے بہت سے لوگ وطن چھوڑ چکے تھے ایسے ماحول میں انھوں نے نہ صرف مسجد کی دیکھ بھال کی بلکہ مسجد سے منسلک امام باڑے کی بھی ذمے داری قبول کرلی۔ان کا گھر خاصہ بڑا تھا ایک طرح سے وہ رئیسِ شکارپور کہلاتے تھے کیوں کہ زمین جائدادکی کمی نہ تھی لیکن سکینہ کی غیرت نے کبھی گوارا نہ کیا کہ ان کے آگے دستِ سوال دراز کرے اور نہ توقیر نے ہی ایسا کیا کیوں کے وہ بھی ایک ایسے گھرانے سے تعلق رکھتے تھے جہاں کسی سے مدعا بیان کرنا معیوب سمجھا جاتا تھا۔ان کا تعلق نقوی سادات کے اعلیٰ خاندان سے تھا لیکن وقت کے ہاتھوں اس خاندان میں غربت و افلاس کی اتنی آندھیاں چلیں کہ شیرازۂ سکون بکھر گیا اور ان کا آبائی مکان کسی سندھی کے قبضے میں آگیا ۔اب وہ ایک زمانے سے اسی مکان میں اپنی زوجہ کے ساتھ مقیم تھے جو ان کی بیوی کو ملا تھا۔مگر یہ مکان بھی اپنی خستہ حالی پر خودآپ ہی مرثیہ پڑھ رہا تھا ۔اس میں اب سوائے ایک چھوٹے سے کمرے کے کچھ باقی نہ بچا تھاجس کی تعمیر ککئیا اینٹوں سے ہوئی تھی مگر یہ سرخ اینٹیں اب رفتہ رفتہ مٹی میں تبدیل ہوتی جا رہی تھیں۔پہلے چھت پر بڑی بڑی کڑیاں تھیں لیکن انھیں بھی دیمک لگ گئی اور ایک دن توقیر کی مفلسی نے انھیں بیچنے پر مجبور کردیاہوا یوں کہ ان کا چھوٹا لڑکا ٹی بی کے مرض میں مبتلاء ہوگیا دوا کے پیسے نہ ہونے کی وجہ سے مضبوط مگر دیمک زدہ کڑیوں کو قربانی دینی پڑی اور خود کو آگ کی نذر کرنا پڑا۔
توقیر نے سوچا کہ چھت تو سر پر نہیں اب کیا کیا جائے دن میں دھوپ اپنا قہر برساتی ہے اور رات میں شبنم خون کے آنسو رلاتی ہے۔چنانچہ کسی طرح ترپال کا انتظام کیا اور اسے کمرے کی چھت بنا دیا ۔لیکن ہر موسم میں اس بات کا خطرہ رہتا کہ کہیں ترپال کی مدت بھی تمام نہ ہو جائے۔
کمرے کے اندر کا منظر بھی بڑا دلخراش تھا اس ایک چھوٹے سے کمرے میں ہی ایک طرف ایک تخت بچھا ہوا تھاجس پر ایک پھٹی ہوئی چادر اپنا حسن بکھیر رہی تھی برابر ہی ایک پرانی آرام کرسی اور ایک قدِ آدم آئینہ تھاجو کئی جگہ سے زنگ آلود ہو کر سکینہ کے سنورنے میں خلل پیدا کرتا تھا۔سامنے دیوار سے لگی ہوئی دو الماریاں اور ایک مچان تھی۔الماریوں میں کچھ برش اور رنگ کے ڈبے اور کچھ برتن رکھے ہوئے تھے۔مچان پر تین صندوق رکھے ہوئے تھے جنھیں دیکھ کر ایسا لگتا تھا کہ برسوں سے نہیں کھلے ۔کمرے میں ایک جانب چھوٹی سی جگہ پر ایک چولھا رکھا ہوا تھا اور اس میں کچھ لکڑیاں اور چھپٹیاںتھیںجب کھانا پکاتے وقت سکینہ پھکنی سے چولھا جلانے کی کوشش کرتی تو چولھے سے دھواں نکل کر نہ صرف اس کی کالی کالی آنکھوں میں بھر جاتا بلکہ پورا کمرہ اس کا مسکن ہوتا اور کافی دیر بعد ٹوٹی ہوئی کھڑکی جو سڑک کے کنارے کھلتی تھی اس سے نکل جاتا ۔ایسے ماحول میں توقیر کا ڈرواجب تھا۔کیونکہ اگر بارش زیادہ ہوگئی تو ترپال پھٹنے کا بھی امکان تھا اور نئی ترپال خریدنے کے لئے روپیہ نہ تھا۔
اچانک کالی رات کے دامن میں ایک بار پھر سکینہ کا نور جیسا لہجہ چمکا ۔
’’میں کل۔۔۔احمد بھیا کے پاس جائوں گی‘‘۔
’’کیوں؟؟؟توقیر نے فوراً سوال کیا‘‘۔
’’ بس اتنا کہنے کے ہمیں یا تو کچھ روپے ادھار دے دیں یا برابر میں دلی والوں کے مکان کا ایک کمرہ برسات برسات ہی رہنے کے لئے دے دیں‘‘۔
’’تمہیں کیا لگتا ہے وہ مان جائیں گے؟؟؟‘‘
’’کیوں نہیں بھائی ہیں میرے۔۔۔میرے بھائی ہیں کیوں نہیں مانیں گے؟؟؟‘‘ ویسے بھی محرم قریب ہے میں ان سے کہوں گی کہ یہاں اب مجلس نہیں ہو سکتی وہ دلی والوں کا کمرہ دے دیں تو میں ایک کونے میں سامان رکھ لوں اور شبِ عاشور چھوٹی سی مجلس کر سکوں تو انھیں بھی ثواب ملے‘‘۔
’’تمہاری مرضی۔۔۔یہ کر کے دیکھ لو‘‘۔
توقیر نے ایک سرد آہ بھرتے ہوئے کہا۔شاید اس سرد آہ نے اسے کچھ ٹھنڈک پہنچائی ہو کیوں کہ امس والی گرمی تو اپنے پورے شباب پر تھی۔
اگلی صبح سویرے اٹھ کر سکینہ نے نماز کے بعدپہلے بکری کے دودھ کی چائے بنائی اور کنستر سے جھاڑ کر تھوڑا سا آٹا گوندھ کر روٹی بناکر توقیر کو پیش کرتے ہوئے بولی۔
’’کتنی گرمی ہے۔۔۔ساون کا مہینہ ہے مگر بارش نہیں ۔۔۔ہاں ۔۔۔امس ہے۔۔۔لگتا ہے جلد بارش ہوگی۔۔۔تم آج کام پر جلد جائو کچھ پیسے تم لائو اور کچھ کا انتظام میں کرتی ہوں‘‘۔
سکینہ نے گھر کا کام کاج کرنے کے بعد ’’شاداب گھر ‘‘ کا رخ کیا۔شاداب گھر اس کے چچا زاد بھائی احمد کا گھر تھا،جس میں ہر جگہ خوشیاں رقص کرتی تھیں۔مکان کافی کشادہ اور بہت سے کمروں پر مشتمل تھا۔
دروازے پر دستک ہونے کے بعد احمد صاحب نے خود دروازہ کھولا۔
’’آئو۔۔۔آئو۔۔۔سکینہ۔۔۔ٹھیک تو ہے؟؟؟خیریت؟؟؟کیسے آنا ہوا؟؟؟ ‘‘
’’بھائی جان !!!‘‘
’’ہاں بول!!!‘‘
احمد صاحب نے کرسی سامنے رکھتے ہوئے کہا۔
’’کیا بات ہے؟؟؟‘‘
’’بات یہ ہے بھائی جان کہ ۔۔۔‘‘
’’کیا بات ہے؟؟؟بتا ‘‘۔
آپ کو معلوم ہے؟؟؟‘‘
اس سے پہلے سکینہ کچھ کہتی اسے ایسا لگا کہ حلق میں اس کی آواز گھٹ رہی ہے ۔پھر بھی اس نے ہمت سے کام لیتے ہوئے کہا ۔
’’آپ کو معلوم ہے ۔۔۔آج کل ان کا کام نہیں چل رہا۔۔۔گھر کی حالت بھی آپ کو معلوم ہے‘‘۔
’’ہاں تو۔۔۔تو؟؟؟‘‘
’’بارش کبھی بھی ہو سکتی ہے۔۔۔کمرے پر چھت نہیں ہے تو ڈر لگتا ہے۔۔۔میں چاہ رہی تھی کہ۔۔۔کہ ۔۔۔آپ سے کچھ روپے ادھارلیکر کمرے پر بانس اور گھاس پھوس کی چھت بنوالوں تاکہ موسم کی مار سے بچ سکوں۔۔۔بس کچھ روپے دے دیں ۔۔۔میں ان شا اﷲجلد لوٹانے کا وعدہ کرتی ہوں‘‘۔
احمد صاحب بخوبی جانتے تھے کہ سکینہ کہہ ضرور رہی ہے مگر اس کی مفلسی روپے نہیں لوٹانے دے گی۔ان کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا بہانہ کریں تاکہ سکینہ کو تکلیف بھی نہ ہو اوران کے ہاتھ سے رقم بھی نہ جائے۔کچھ دیر خاموش رہنے اور سوچنے کے بعد احمد صاحب نے بولنے کی ہمت پیدا کی۔
’’دیکھ۔۔۔بہن۔۔۔تو خوب جانتی ہے کہ میرا خاندان کتنا بڑا ہے اور آج کل کاروبار بھی مندا چل رہا ہے۔۔۔زمین سے اتنی پیدا نہیں کہ مفت میں رقم لٹائوں۔۔اور پھر مجھے معلوم ہے کہ تو روپیوںکا کیا کرے گی ۔۔۔تو اپنے شوہر کو دے گی اور وہ انھیں جوئے اور سٹے میں اڑا دے گا۔۔۔دیکھ بہن برا نہ ماننا ابھی میرے پاس جو رقم ہے اس کو عزاداری کے لئے رکھنا ہے اور تجھے معلوم ہے کہ مجھے ابھی کربلا کی زیارت پر بھی جانا ہے ان شا اﷲاب کے چہلم وہیں کروں گا‘‘۔
سکینہ سمجھ گئی تھی کہ احمد صاحب جو کہنا چاہتے ہیں۔اسے اس کا گمان بھی نہ تھا کہ وہ بھی دوسروں کی طرح توقیر پر جوئے اور سٹے کا الزام لگائیں گے۔۔۔وہ اپنے شوہر کو بخوبی جانتی تھی۔جس کے پاس کھانے کو پیسے نہ ہوں وہ جوا یا سٹا کیوں لگائے گا لیکن یہ ادھارنہ دینے والوں کے بہانے تھے۔
اس نے ایک بار اور جسارت کرتے ہوئے کہا۔
’’کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ ہمیں کچھ دنوں کے لئے دلی والوں کے مکان کا ایک کمرہ دے دیا جائے تاکہ برسات سکون سے گزر جائے‘‘
احمد صاحب نے اپنی کرسی سے اٹھتے ہوئے اور پیشانی پر بل لاتے ہوئے کہا۔
’’وہ مکان۔۔۔ہمارا نہیں ‘‘
’’لیکن چابی تو آپ کے پاس ہے‘‘
’’ہے مگر ۔۔۔اس میں ہمارے کچھ نوکر چاکر رہیں گے میں انھیں زبان دے چکا ہوں کل ہی وہ آجائیں گے‘‘۔
’’ٹھیک ہے کوئی بات نہیں ۔۔۔بھائی جان‘‘۔
سکینہ نے بجھے بجھے الفاظ میں آنکھوں میں آنسو روک کر کہا۔لیکن اس نے آنسو روک لئے ہوںیہ الگ بات تھی آسمان نے تو گریا شروع کر دیاتھا۔ اچانک گھٹا گھر آئی اور موسلا دھار بارش ہونے لگی۔ذرا سی دیر میں جل تھل ہو گیا۔وہ اپنے آپ کو نہ روک سکی اور احمد بھائی کے روکنے پر بھی بارش میں نکل پڑی۔گھر جاکر دیکھا تو عجب حال تھا۔کمرے میں گھٹنوں گھٹنوں پانی بھرا ہوا تھا اور آسمان مسلسل برستا جا رہا تھا۔تخت پر ایک طرف سمٹا ہوا توقیرسر بہ زانو بیٹھا ہوا کیا دعا کر رہا تھا یہ تو اﷲجانے یا توقیر مگردور آسمان پر زور کی بجلی کڑک رہی تھی اور مکان والی مسجد سے اذان کی صدا بلند تھی۔

سید بصیر الحسن وفاؔ نقوی
ہلالؔ ہائوس
4/114نگلہ ملاح
سول لائن علی گڑھ یوپی
موبائل:9219782014
Syed Baseerul Hasan Wafa Naqvi
Hilal House
4/114 Nagla Mallah Civil line Aligarh
UP
Mob:9219782014

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *