بارش کے پانی کا قہر میں تبدیل ہو جانا

 

 

 

 

 

 

..ڈاکٹر مظفر حسین غزالی
بخار کی مار سے بے حال بہار اب باڑھ سے جوجھ رہا ہے ۔ بہار کے علاوہ بنگال، آسام، پنجاب وغیرہ صوبے سیلاب کی زد میں ہیں ۔ بھاری بارش سے ممبئی کی زندگی تھم سی گئی ہے ۔ اس برسات میں کئی اڑانیں رد کرنی پڑیں، لوکل ٹرین جو ممبئی کی لائف لائن ہے ۔ اس کا ٹریک پانی میں ڈوب گیا ۔ تھانہ کے بدلہ پور اسٹیشن کے ٹریک پر پانی بھرنے سے مہالکشمی ایکسپریس پھنس گئی ۔ گیارہ گھنٹے کی مشقت کے بعد اس میں سوار 700 مسافروں کو بچایا جا سکا ۔ بہار سمیت تمام سیلاب زدہ ریاستوں سے جانی و مالی نقصان کی خبریں آ رہی ہیں ۔
بارش زندگی کے لئے رحمت مانی جاتی ہے ۔ مانسون کے آنے میں ذرا سی تاخیر ہونے پر لوگ بے چین ہو جاتے ہیں ۔ بارش جہاں قدرتی طور پر زیر زمین پانی کے ذخائر کو ری چارج کر پینے اور کھیتی کے لئے پانی مہیا کرتی ہے ۔ وہیں گرمی سے راحت دلاتی اور سردی کے لئے ماحول تیار کرتی ہے ۔ بھارت کی سبھی زبانوں، بولیوں میں بارش، برکھا، میگھ، بدری، ساون کے استقبال میں انتہائی خوبصورت گیت موجود ہیں ۔ بارش کے موسم میں گاؤں، قصبات اور چھوٹے شہروں میں نیم، آم، بڑ اور پلکھن کے پیڑ پر جھولا ڈال کر لڑکیوں، عورتوں کا جھولا جھولنا اور گیت گانا بھلا لگتا ہے ۔ غور کرنے کی بات یہ ہے کہ روم روم میں بھر دینے والی بارش آخر آفت اور اس کا پانی سیلاب بن کر تباہی کیوں مچا رہا ہے ۔

پہلے کے بزرگ سیلاب کو ڈھائی دن کا بتاتے تھے ۔ پانی آتا اور چلا جاتا تناوں باڑھ کا پانی جانوروں کو باندھنے والے کھونٹے کو دیکھ کر ڈرتا تھا ۔ گاؤں کے سب سے باہری گھر کے کھونٹے سے ہی واپس چلا جاتا تھا ۔ گاؤں کے لوگ ندی کے سیلاب کا استقبال کرتے تھے ۔ کشتی میں بیٹھ کر گاتے بجاتے نکل جاتے تھے ۔ سیلاب کا پانی اپنے ساتھ معدنی کھاد لاتا، جو زراعت کے لئے انتہائی مفید ہوتا تھا ۔ لیکن اب پانی ڈھائی دن کی جگہ ڈھائی مہینے رہتا ہے اور کھیتی کو چوپٹ کرتا ہے ۔ یہی نہیں، اب شہروں میں بھی سیلاب آنے لگا ہے، جو کبھی گاؤں تک محدود رہتا تھا ۔ چینئی اور سرینگر اس کی مثال ہے، شہروں کو بچانے کے لئے گاؤں کی قربانی لی جاتی ہے ۔ اب پانی صرف بھرتا نہیں بلکہ تیز دھار کے ساتھ بہہ کر تباہی مچاتا ہے ۔ پہلے پانی آتا اور چلا جاتا تھا کیونکہ اس کے راستہ میں کوئی رکاوٹ نہیں تھی ۔ ترقی کے نام پر پانی کی نکاسی کے راستے بند کر دیئے گئے ۔ تالاب پاٹ کر وہاں مکان کھڑے کر دیئے گئے ۔ ندیوں کے کنارے باندھ کر اس کے میدان پر قبضہ کر لیا گیا ۔ پانی اپنا راستہ جب خود بناتا ہے ۔ تو تباہی بن جاتا ہے، وہ ساری رکاوٹیں توڑ کر نکل جاتا ہے ۔

ندیاں ہیں تو سیلاب آئے گا ہی، سیلاب کا آنا ضروری ہے ۔ اس کے ذریعہ قدرتی طور پر ندی کی صفائی کے ساتھ صحت سدھرتی ہے ۔ جن علاقوں میں سیلاب آتا ہے اگر وہاں کسی سال پانی نہ آئے تو فصل اچھی نہیں ہوتی، سوکھے کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے ۔ سیلاب زدہ علاقے کے لوگوں کا کہنا ہے کہ باڑھ آنی چاہئے اسے روکنے کے بجائے سیلاب کی تباہی سے بچانے کا انتظام کیا جائے ۔ باڑھ کے مسئلہ کا مستقل حل ہونا چاہئے ۔ ہر سال اس طرح کی آوازیں اٹھتی ہیں لیکن سرکار کی آنکھ سیلاب آنے پر کھلتی ہے ۔ راحت اور بچاو کے منصوبے بنائے جاتے ہیں ۔ باڑھ کا دائمی حل تلاش کرنے کا وعدہ کیا جاتا ہے ۔ مگر سیلاب کا پانی اترنے کے ساتھ ہی انتظامیہ کی آنکھ بند ہو جاتی ہے ۔ عوام بھی تکلیفوں کو بھول کر اپنے کاموں میں لگ جاتے ہیں، یہ ہر سال کی کہانی ہے ۔

قومی سیلاب کمیشن کی رپورٹ کے مطابق آزادی کے بعد 25 لاکھ ہیکٹر زمین سیلاب سے متاثر تھی جو اب بڑھ کر پچاس لاکھ ہیکٹر ہو گئی ہے ۔ بھارت میں سیلاب سے نقصان زدہ علاقے کا بہار اکیلے 22.8 فیصد کا حصہ دار ہے، جبکہ بہار کا 16.5 فیصد علاقہ ہی باڑھ سے متاثر ہے ۔ اس کے مقابلہ دیکھا جائے تو اتر پردیش میں 25.1 فیصد علاقہ سیلاب سے متاثر ہے، لیکن یہ کل قومی نقصان زدہ علاقے کا صرف 14.7 فیصد ہے ۔ مغربی بنگال میں سیلاب زدہ علاقہ 11.5 فیصد ہے، پر نقصان زدہ علاقہ محض 9.7 فیصد ہے ۔ اڑیسہ میں باڑھ متاثرہ علاقہ 6.8 فیصد ہے، مگر نقصان پہنچنے والا علاقہ صرف 4.8 فیصد ہے ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سیلاب بہار کے کم علاقوں تک پہنچتا ہے لیکن تباہی زیادہ مچاتا ہے ۔

اس سال بہار کے 12 اضلاع سیلاب سے متاثر ہیں ۔ 921 پنچائیتوں میں ایک فٹ سے چھ فٹ تک پانی بھرا نہیں تیز بہاؤ کے ساتھ بہہ رہا ہے ۔ 55لاکھ سے زیادہ لوگ سیلاب کی زد میں ہیں اور درجنوں بد نصیب لوگوں کی جان جا چکی ہے ۔ 1987 کی باڑھ میں بہار کے 26 اضلاع، 359 بلاک، 23852 گاؤں اور 2.82 کروڑ لوگ متاثر ہوئے تھے، جن میں سے 1،373 لوگوں کی موت ہوئی تھی ۔ 2007 میں 22 اضلاع متاثر ہوئے تھے ۔ 18،832 پنچائیتیں، 24،442 گاؤں، 2.44 کروڑ لوگ پانی میں پھنسے تھے ۔ 1287 لوگوں کی موت ہوئی تھی ۔ اس طرح کے سیلاب کا اگر آج مقابلہ کرنا پڑ جائے تو ہمارے سیلاب تحفظ نظام کا کیا ہوگا ؟ اس بار 34 مقامات پر ندی کنارے بنائے گئے پشتوں میں درار آئی و نہریں ٹوٹیں اور 54 جگہوں پر قومی یا صوبائی ہائی وے ٹوٹے ۔ 829 مقامات پر دیہی سڑکیں بھی ٹوٹ گئیں ۔ ہمارا ماننا ہے کہ اتنی جگہوں سے سیلاب کا پانی اپنے نکلنے کا راستہ تلاش کر رہا تھا جب اسے راستہ نہیں ملا، تو وہ انہیں توڑ کر آگے بڑھ گیا ۔ بہار میں اس وقت بھی سیلاب کا یہ حال ہے کہ سمستی پور سے دربھنگہ ریل روٹ کی گاڑیوں کا راستہ بدلنا پڑا ۔ بنگال، آسام اور پنجاب بھی سیلاب سے بری طرح متاثر ہے ۔ بنگال کے کاجی رنگا پارک میں کتنے ہی نایاب جانور سیلاب میں اپنی جان گنوا چکے ہیں ۔
سیلاب کو قہر بننے سے روکنے کے لئے مختلف اوقات میں الگ الگ منصوبے بنائے گئے ۔ پانی سے مٹی کے کٹاو کو روکنے کے لئے پیڑ لگانے پر زور دیا گیا ۔ ندی میں آئے اضافی پانی کو کنٹرول کرنے کے لئے پشتہ بندی (تٹ بندھ) کی گئی ۔ 30-1940 کی دہائی میں بہار کے چیف انجینئر رہے کیپٹن ہال پشتہ بندی کے سخت مخالف تھے ۔ ان کا کہنا تھا کہ پشتہ بندی کرکے ہم اپنی آئندہ نسل پر ایسا قرض لادیں گے، جس کی ادائیگی اسے اپنے اوپر آفات اوڑھ کر کرنا پڑے گا ۔ مگر ان کی بات نہیں سنی گئی ۔ سیلاب سے نبٹنے کے لئے ندیوں پر ڈیم بنائے گئے ۔ ڈیم میں جمع پانی کو نہروں کے ذریعہ دور دراز علاقوں تک پہنچایا گیا ۔ اس سے آب پاشی کا نظام تو بہتر ہوا لیکن ندیوں کی زندگی بری طرح متاثر ہوئی ۔ ڈیم سیلاب کو روکنے کا اہم ذریعہ مانے گئے، مگر یہ پانی کے فطری بہاو کو روکتے ہیں اور پانی کو واپس ندی میں بھی نہیں جانے دیتے ۔ ڈیم کی تہہ میں مٹی اور گاد جمع ہونے سے ان کی پانی اسٹور کرنے کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے اور سیلاب کی صورت میں یہ خطرناک ثابت ہوتے ہیں ۔ 1942 میں گھوش کمیٹی نے کہا تھا کہ سیلاب کو تبھی روکا جا سکتا ہے جب ڈیم بنانا روکا جائے اور ندیوں کو گہرا بنایا جائے ۔ اس وقت باڑھ کے دائمی حل کے لئے ندیوں کو جوڑنے کی بات ہو رہی ہے ۔ یہ خیال سب سے پہلے 1972 میں سامنے آیا تھا ۔ اٹل جی کے زمانے میں کین بیتوا ندیوں کو جوڑنے کے منصوبہ پر کام شروع ہوا تھا ۔ مگر اس پر عملدرآمد کے لئے کثیر رقم درکار تھی ۔ اس لئے طویل عرصہ گزرنے کے بعد بھی یہ منصوبہ آج تک پورا نہیں ہو سکا ۔

انتہائی خرچیلا ہونے کی وجہ سے ندیوں کو جوڑنے کا کام آسان نہیں ہے ۔ سیلاب کے قہر کو کم کرنے کے لئے پانی کی نکاسی کا معقول انتظام کیا جائے تاکہ پانی جلد از جلد سمندر تک پہنچ جائے ۔ اس کے راستے کی ساری رکاوٹوں کو دور کیا جائے ۔ پشتہ سے پانی کو نکالنے کے لئے(Spillway) اسپلوے، پل، کلورٹ (Culvert) یا اسی طرح کے دوسرے انتظام سیلاب آنے سے پہلے کئے جائیں ۔ اس سے سیلاب کی تباہ کاری کو کم کیا جا سکتا ہے ۔ ساتھ ہی سیلاب سے بچاو کا وسیع پیمانے پر عوام کے درمیان تربیتی و تعلیمی پروگرام چلایا جائے ۔ تاکہ عوام سرکار کے کاموں میں معاون ہوں اور سیلاب کے قہر سے بچ سکیں ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest