بابری مسجد ملکیت مقدمہ:فریقین کو 18/اکتوبرتک بحث مکمل کرنے کی ہدایت

ہمیں عدالت پر مکمل اعتماد ہے اور ہم انصاف کے خواہاں ہیں: مولانا سید ارشدمدنی

نئی دہلی:بابری مسجد ملکیت مقدمہ میں روزانہ سماعت کاآج26 واں دن تھا جس کے دوران چیف جسٹس آف انڈیانے فریقین کو حکم دیا کہ وہ 18 اکتوبرتک اپنی بحث مکمل کرلیں، چیف جسٹس نے فریقین کو مزید کہاکہ ہم سب کو ملکر اس کی کوشش کرنی ہوگی جس کے لیئے ہم خود پہل کرر ہے ہیں، انہوں نے کہاکہ اگر ضرورت پڑی تو روزانہ ایک گھنٹہ عدالتی وقت میں اضافہ کردیا جائے گا اور سنیچر کے روز بھی سماعت ہوسکتی ہے۔ چیف جسٹس کے حکم پر جمعیۃ علما ء ہند کے وکیل ڈاکٹر راجیو دھون نے عدالت کو یقین دلایا کہ ان کی جانب سے مکمل کوشش رہے گی کہ وہ اپنی بحث جلد از جلد مکمل کرلیں۔ڈاکٹر راجیو دھون نے آج عدالت کی توجہ ڈاکٹر سبرامنیم سوامی کی جانب سے رام مندر کی حمایت میں داخل رٹ پٹیشن کی جانب دلائی اور کہا کہ عرضی گذار لگاتار کوشش کررہا ہے کہ اس معاملے میں اس کی پٹیشن پر بھی سماعت کی جائے لیکن بابری مسجد معاملہ کی حتمی بحث شروع ہونے سے قبل چیف جسٹس نے واضح کردیا تھاکہ وہ صرف فریقین کے دلائل کی سماعت کریں گے، مداخلت کاروں کو موقع نہیں دیا جائے گا۔ڈاکٹر راجیو دھو ن نے عدالت کو بتایا کہ مسلم فریقوں کی جانب سے بھی متعدد مداخلت کاروں کی عرضداشتیں داخل کرنے کی تیاری مکمل ہوچکی تھی لیکن عدالت کے حکم کے بعد انہوں نے سبھی لوگوں کو منع کردیا تھا، اب جبکہ سبرامنیم سوامی کی عرضداشت سماعت کے لیئے پیش ہورہی ہے مسلم فریق ان پر دباؤ بنارہے ہیں کہ ہماری بھی مداخلت کار کی عرضداشت داخل ہو،ڈاکٹر راجیو دھو ن نے چیف جسٹس سے گذارش کہ وہ اس تعلق سے فیصلہ کریں کہ اس معاملے میں صرف فریقین کے دلائل کی ہی سماعت ہوگی اور کسی بھی مداخلت کار کو بولنے کا حق نہیں ہوگا۔ اس پر چیف جسٹس نے دھون کو یقین دلایاکہ اس تعلق سے عدالت سنجیدگی سے فیصلہ کریگی۔اسی درمیان چیف جسٹس نے عدالت میں موجود وکلاء کو بتایاکہ انہیں مصالحتیکمیٹی کے چیرمین جسٹس خلیف اللہ کی جانب سے خط موصول ہوا ہے جس میں انہوں نے عدالت سے کہا ہے کہ دو فریق نے ان سے دوبارہ مصالحت شروع کرنے کی گذارش کی ہے۔ چیف جسٹس نے مذکورہ خط پر فیصلہ صادر کیا کہ اگر فریق مصالحت چاہتے ہیں تو کریں اور مصالحت مکمل ہونے کے بعد عدالت میں رپورٹ پیش کریں لیکن خیال رہے کہ عدالتی کارروائی بند نہیں ہوگی اور یہ روزانہ کی بنیاد پر چلتی رہے گی۔اس پر عدالت میں موجود رام للا کے وکیل سی کے ویدیاناتھن نے چیف جسٹس کو کہا کہ وہ مصالحت کے عمل سے اپنے آپ کو دور کھنا چاہتے ہیں ا ور وہ چاہتے ہیں کہ سپریم کورٹ اس معاملے میں جلد از جلد حتمی فیصلہ صادر کرے۔متذکرہ کارروائی مکمل ہونے کے بعد ڈاکٹر راجیو دھون نے کل کی اپنی نا مکمل بحث کا آغاز کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ 1885 سے لیکر 2019 تک فریق مخالف کے دعوؤں اور اعتقاد میں تبدیلی آئی ہے، پہلے وہ کہا کرتے تھے کہ مسجد کے باہر ی صحن میں رام چبوترا ہی رام کی جائے پیدائش ہے اس کے بعد1949 میں انہوں نے دعوی کیاکہ مسجد کے اندرونی صحن میں رام کا جنم ہو اتھا، یہ کیسے ممکن ہے؟ پانچ رکنی بینچ جس میں جسٹس رنجن گگوئی، جسٹس ایس ایم بوبڑے، جسٹس اشوک بھوشن، جسٹس چندرچوڑ اور جسٹس عبدالنظیر شامل ہیں کو آج ڈاکٹر راجیو دھون نے کہا کہ سوٹ نمر 5 میں فریق مخالف نے اسکندپران، سیاحوں اور گزیٹیرز کے دستاویزات عدالت میں پیش کرکے یہ بتانے کی کوشش کی کہ رام کا جنم بابری مسجد کے اندرونی احاطہ میں ہوا تھااور بابری مسجد کی تعمیر مندر کو منہدم کرکے کی گئی تھی لیکن الہ آباد ہائی کورٹ نے اپنے فیصلہ میں لکھا ہے کہ متذکرہ دستاویزات سے یہ صاف نہیں ہوسکا کہ رام کا جنم بابری مسجد کے اندورونی صحن میں ہوا تھا اور مسجد کی تعمیر مندر توڑ کر ہوئی تھی۔انہوں نے عدالت کومزید بتایا کہ ہائی کورٹ کے ججوں نے اپنے فیصلہ میں لکھا ہے کہ اسکندپران سے بھی یہ واضح نہیں ہوسکا کہ رام کا جنم کس مقام پر ہوا تھا۔ڈاکٹر راجیودھون نے یہ بھی کہا کہ رام چرت مانسن میں بھی رام کے جنم استھان کے بارے میں صحیح جگہ نہیں بتائی گئی ہے بس یہی کہا گیا ہے کہ رام ایودھیا میں پیداہوئے تھے، انہوں نے آگے کہا کہ دورقدیم میں بھارت میں مندروں پر حملہ کسی مذہب سے نفرت کی وجہ سے نہیں کیا گیا بلکہ مال لوٹنے کی غرض سے کیا گیا، انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ پوجا کی بات کہہ کر پوری زمین مانگ رہے ہیں اور گواہوں کا عالم یہ ہے کہ انہوں نے جس سے سنا اس نے کسی دوسرے سے سنا اوراس دوسرے کو بھی کسی اورنے بتایا تھا اس طرح پوری گواہی ایک جھوٹ کی بنیادپر چل رہی ہے جو ایک ایک کرکے ہر شخص (مرادگواہوں سے ہے) کے ذریعہ بارباربولی گئی، ہندوفریق کی گواہی پر سوال اٹھاتے ہوئے ڈاکٹر راجیودھون نے کہا کہ جب گواہوں کو متنازعہ مقام کی تصویریں دکھائی گئیں تو وہ اس جگہ کونہیں پہچان سکے کہ تصویریں کہاں کی ہیں انہوں نے عدالت کو مزید بتایا کہ گواہوں کوتصویر دکھاکر جب یہ پوچھا گیا کہ اللہ کہاں لکھاہے تو انہوں نے کہا کہ وہ اردولفظ نہیں پڑھ سکتے پھر وہ کیسے مندرہوسکتاہے تصویر میں کئی جگہ اللہ لکھاہواتھا، دوران بحث جسٹس چندر چوڑ نے ڈاکٹر دھون سے کہا کہ انہیں ایسا لگتا ہے کہ گواہوں کے بیانات اور عدالت میں موجود دستاویزات کا مطالعہ کرنے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ رام چبوترے کے پاس لگی ہوئی ریلنگ کے پاس سے ہندو زائرین مسجد کے اندرونی صحن کی جانب دیکھ کر پوجا کرتے تھے کیونکہ ان کا عقیدہ تھا کہ رام کا جنم وہیں ہوا تھا، جسٹس چندرچوڑ کے اس سوال پر ڈاکٹر راجیو دھو ن نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ جسٹس چندر چوڑ کا اپنا ذاتی نظریہ ہوسکتا ہے جس میں صداقت کی گنجائش کم ہے کیونکہ کسی بھی گواہ نے عدالت میں اس تعلق سے پختہ گواہی نہیں دی۔ اس درمیان پانچوں ججوں اور ڈاکٹر راجیود ھون کے درمیان سوال و جواب ہوتے رہے،عدالت نے نقشہ کا بھی معائنہ کیا اور یہ نتیجہ اخذ کیا کہ رام چبوترا اور مسجد کے اندورنی صحن کے درمیان تقریبا ً 100 فٹ کا فاصلہ ہے۔ کچھ دیر تک بحث چلنے کے بعد عدالت نے ڈاکٹر راجیو دھو ن سے کہا کہ وہ عدالت میں ریلنگ کے تعلق سے گواہی دینے والے گواہوں کے بیانات پر مختصر نوٹ پیش کریں اور اس پر بحث کریں۔ ڈاکٹر راجیو دھو ن نے عدالت میں غصہ ہونے کی معافی مانگتے ہوئے کہا کہ جسٹس چندر چوڑ کے نظریہ پر انہیں غصہ آگیا تھا لیکن بعد میں انہوں نے اپنے آپ کو کنٹرول کرلیا، جسٹس چندر چوڑ نے بھی کہا کہ انہوں نے بس اپنا نظریہ پیش کیا تھا جو حتمی نہیں ہے۔ڈاکٹر راجیو دھو ن نے عدالت کو بتایا کہ فریق مخالف نے ہنس باکر کی تحریر بطور ثبوت عدالت میں پیش کی ہے لیکن اس کی تحریر میں کوئی دم نہیں ہے کیونکہ اس کے ذریعہ بنایا ہوا نقشہ آفیشل نقشہ سے میچ نہیں کھاتا ہے نیز الہ آباد ہائی کورٹ نے بھی اس کی رپورٹ کویہ کہتے ہو ئے مسترد کردیا کہ رپورٹ بغیر کسی پختہ ثبوت کے تیار کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ گیارہویں صدی کی کتابو ں میں بھی رام کے جنم کا استھان ایودھیا نہیں بتایا گیا ہے۔ڈاکٹر راجیو دھون نے عدالت کو بتایا کہ سیاحوں، گزیٹیر اور آثار قدیمہ کی رپورٹ جس میں ٹفن ہالر، مونٹوگرومی مارٹین، ایڈورڈ تھورنٹن، کارنیجی، ڈبلیو سی بینٹ، اے فرہر، نیول،اے ایف میلٹ، بیلفور، آثار قدیمہ کی رپورٹ، امپرئیل گزیٹیر آف آگرہ اینڈ اودھ، ایودھیا کا اتہاس اور ہنس باکر کی رپورٹوں میں ایودھیا میں بابری مسجد کے ہونے کا ذکر ہے سیاح کارنیج، بینٹ، میلٹ، نویل اور ہنس باکر نے اپنی رپورٹوں میں اعتراف کیاہے کہ 1855کے فساد کے بعد رام چبوترا اور اندورنی صحن کے درمیان ریلنگ لگا دی گئی تھی جس سے یہ واضح ہوتا کہ 1855 سے قبل مسجد میں نماز ادا کی جاتی تھی۔ڈاکٹر دھون نے عدالت کوبتایا کہ متذکرہ سیاحوں نے خود مسلمانوں کو مسجد کے اندرونی صحن میں نماز ادا کرتے اورہندؤں کو باہری صحن میں رام چبوترے پر پوجا پراتھنا کرتے ہوئے دیکھا ہے نیز سیاحوں کو یہ کہنا کہ انہوں نے کسی اور سے سنا تھا کہ مندرمنہدم کرکے مسجد کی تعمیر کی گئی تھی کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے کیونکہ وہ اس کے چشم دید گواہ نہیں ہیں۔ڈاکٹر راجیو دھو ن نے عدالت کو بتایا کہ سیاح ٹفن ہالر، ایڈورڈ تھورنٹن نے اپنی کتابوں میں لکھا ہے کہ بیڑی جوکہ رام چبوترا کے پاس واقع ہے رام کا جنم استھان ہے ایسا لوگوں کا یقین تھانیز کسی بھی سیاح نے اپنی رپورٹ میں یہ تحریر نہیں کیا ہے کہ مسجدکے اندرونی صحن میں رام کا جنم ہوا تھا۔دوران بحث عدالت میں ڈاکٹر راجیو دھون پرانے واقعات اور ان کے ساتھ رونما ہونے والے واقعات سناتے ہیں، آج ایسے ہی ایک واقعہ سناتے ہوئے ڈاکٹر راجیو دھون نے ہنستے ہوئے عدالت کو کہا کہ ان کے پاس بہت کہانیاں ہیں اور اگر وہ عدالت کو نہیں تو پھر کس کو سنائیں گے جس پر جسٹس نظیر نے ہنستے ہوئے کہا کہ وہ ان کے اسیر ہوگئے ہیں۔آج ڈاکٹر راجیو دھون کی بحث نا مکمل رہی جس کے بعد عدالت نے اپنی کارروائی کل تک کے لیئے ملتوی کیئے جانے کا حکم دیا۔دوران بحث عدالت میں جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے ڈاکٹر راجیو دھون کی معاونت کرنے کے لئے ایڈوکیٹ آن ریکارڈ اعجاز مقبول، ایڈوکیٹ شاہد ندیم، ایڈوکیٹ اکرتی چوبے، ایڈوکیٹ قرۃ العین، ایڈوکیٹ کنور ادتیہ، ایڈوکیٹ تانیا شری، ایڈوکیٹ سدھی پاڈیا، ایڈوکیٹ ایشامہرو و دیگر موجود تھے۔ واضح رہے کہ آج کی عدالتی پیش رفت پر جمعیۃعلماء ہند کے صدرمولانا سید ارشدمدنی نے اطمینان کا اظہارکرتے ہوئے سپریم کورٹ کی اس ہدایت کا خیرمقدم کیا جس میں کہا گیا ہے کہ تمام فریقین آئندہ 18/اکتوبر تک اپنی بحث مکمل کرلیں اور یہ بھی کہا کہ اگر ضرورت ہوئی تو سنیچر کو بھی مقدمہ کی سماعت ہوسکتی ہے اور روزانہ عدالتی کارروائی میں ایک گھنٹہ کا اضافہ بھی کیاجاسکتاہے، مولانا مدنی نے کہا کہ جمعیۃعلماء ہند نے روزاول سے اپنا یہ موقف واضح کردیاہے کہ قانون اور ثبوت کی بنیادپر عدالت جو بھی فیصلہ دے گی ہم اسے قبول کریں گے، انہوں نے کہا کہ ہمیں عدالت پر مکمل اعتماد ہے اوراس بات پر بھی یقین ہے کہ اس کا فیصلہ آستھا کی بنیادپر نہیں بلکہ ملکیت کی بنیادپر ہوگا، عدالت ابتداہی میں یہ بات واضح کرچکی ہے کہ یہ آستھا نہیں بلکہ ملکیت کا معاملہ ہے۔ مولانا مدنی نے وضاحت کی کہ یہ ہندومسلم تنازعہ ہرگز نہیں ہے بلکہ حق وانصاف کی لڑائی ہے مگر افسوس کہ اس پر سیاست کرکے کچھ لوگوں نے اسے ہندومسلم کا جھگڑابنادیا ہے جبکہ مقدمہ حتمی فیصلہ کیلئے عدالت میں زیر بحث ہے کچھ لوگ غیر ضروری بیان بازی سے ماحول کو خراب کرنے کی دانستہ کوشش کررہے ہیں جو انتہائی افسوسناک ہے، انہوں نے کہا کہ 6/دسمبر 1992کو جس طرح جبراً بابری مسجد کو شہید کیا گیا اس سے ملک کے ان کروڑوں لوگوں کا اعتمادمجروح ہوا ہے جو انصاف پسند ہیں اور ملک کے آئین وجمہوریت پر یقین رکھتے ہیں چنانچہ اب انصاف کے ذریعہ ہی ایسے لوگوں کے مجروح اعتمادکو بحال کیا جاسکتاہے۔

فضل الرحمن قاسمی: پریس سکریٹری جمعیۃعلماء ہند
9891961134

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Pin It on Pinterest

RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
Pinterest
LinkedIn
Instagram